سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَمْرُو بْنُ الْعَلَاءِ الشَّنِّيُّ ، صَالِحُ بْنُ سَرْجٍ ، عِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَلَاءِ الشَّنِّيُّ مَنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ سَرْجٍ ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَذَاكَرْتُهَا حَتَّى ذَكَرْنَا الْقَاضِيَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْقَاضِي الْعَدْلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَاعَةٌ يَتَمَنَّى أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي تَمْرَةٍ قَطُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمران بن حطان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے مذاکرہ کرتا رہا، اس دوران قاضی کا تذکرہ آگیا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن عدل و انصاف کرنے والے قاضی پر بھی ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ تمنا کرے گا کہ اس نے کبھی دو آدمیوں کے درمیان ایک کھجور کے متعلق بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24464]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة صالح بن سرج، وتفرده
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة صالح بن سرج، وتفرده