عَبْدُ الرَّزَاقِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: سَأَلْنَاهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ؟ فَقَالَتْ:" مَا قَالَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ فِيهِ، فَأَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، وَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهَا بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ. قُلْتُ: فَمَا اضْطَرَّكُمْ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: فَضَحِكَتْ، وَقَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانا حرام قرار دے دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اس زمانے میں قربانی بہت کم کی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کی بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے اور ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنے قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور دس دن بعد انہیں کھالیتے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی تھی؟ تو انہوں نے ہنس کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ نے کبھی تین دن تک روٹی سالن سے پیٹ نہیں بھرا تھا۔ یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24962]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5623، م: 2970
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5623، م: 2970