عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ:" أَيُبَاشِرُ الصَّائِمُ يَعْنِي امْرَأَتَهُ؟ قَالَتْ: لَا. قُلْتُ: أَلَيْسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ روزہ دار اپنے بیوی کے جسم سے اپنا جسم ملا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، میں نے کہا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اس طرح نہیں کرلیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24965]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1967، م: 1106
الحكم: حديث صحيح، خ: 1967، م: 1106