عَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ" . وَكَانَ يَقُولُ: " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، فَإِنَّهُ كَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا، وَإِنْ قَلَّ". وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً يُدَاوِمُ عَلَيْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریبا شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤگے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہوتی تھے جس پر دوام ہو سکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو اور خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24967]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عبدالوهاب مختلف فيه، ولكن توبع، خ: 738، م: 1156
الحكم: حديث صحيح، عبدالوهاب مختلف فيه، ولكن توبع، خ: 738، م: 1156