بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 24975
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 24975
حدیث نمبر: 24975 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ. وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي. فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ ابْنَةَ زَمْعَةَ" . قَالَتْ: فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زمعہ کی باندی کے بیٹے کے سلسلے میں عبدزمعہ رضی عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ یارسول ا اللہ! یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے اور سعد رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے کہ میرے بھائی نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب تم مکہ مکرمہ پہنچو تو زمعہ کی باندی کے بیٹے کو اپنے قبضے میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بچے کو دیکھا تو اس میں عتبہ کے ساتھ واضح شباہت نظر آئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عبد! یہ بچہ تمہارا ہے، کیونکہ بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور بدکار کے لئے پتھر ہیں اور اے سودہ! تم اس سے پردہ کرنا چنانچہ وہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کو کبھی نہ دیکھ سکا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24975]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6618، م: 1457
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6618، م: 1457
← پچھلی حدیث (24974) باب پر واپس اگلی حدیث (24976) →