بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 64 از 102
حدیث نمبر: 5708 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، رَقَبَةَ ، عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ رَقَبَةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَإِذَا نَحْنُ بِرَأْسٍ مَنْصُوبٍ عَلَى خَشَبَةٍ، قَالَ: فَقَالَ: شَقِيَ قَاتِلُ هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ تَقُولُ هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: فَشَدَّ يَدَهُ مِنْ يَدِي، وَقَالَ: أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا مَشَى الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِي إِلَى الرَّجُلِ لِيَقْتُلَهُ، فَلْيَقُلْ هَكَذَا، فَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْقَاتِلُ فِي النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن سمیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چلا جارہا تھا، راستے میں ان کا گزر ایک کٹے ہوئے سر پر ہوا، جو سولی پر لٹکا ہوا تھا، اسے دیکھ کروہ فرمانے لگے کہ اسے قتل کرنے والا شقی ہے، میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن! یہ آپ کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے اپنا ہاتھ یہ سنتے ہی میرے ہاتھ سے چھڑا لیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرا جو امتی کسی کو قتل کرنے کے لئے نکلے اور اسی طرح کسی کو قتل کر دے (جیسے اس مقتول کا سر لٹکا ہوا ہے) تو مقتول جنت میں جائے گا اور قاتل جہنم میں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5708]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبد الرحمن بن سميرة مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، عبد الرحمن بن سميرة مجهول.
حدیث نمبر: 5709 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، صَخْرٌ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ جَمَعَ بَنِيهِ حِينَ انْتَزَى أَهْلُ الْمَدِينَةِ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَخَلَعُوا يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: إِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ بِبَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْغَادِرُ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ، وَإِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْغَدْرِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَعَالَى، أَنْ يُبَايِعَ الرَّجُلُ رَجُلًا عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يَنْكُثَ بَيْعَتَهُ"، فَلَا يَخْلَعَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَزِيدَ، وَلَا يُسْرِفَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ فِي هَذَا الْأَمْرِ، فَيَكُونَ صَيْلَمًا فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب اہل مدینہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع ہو گئے اور انہوں نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے سارے بیٹوں اور اہل خانہ کو جمع کیا، اور فرمایا: ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر اس شخص کی بیعت کی تھی اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر دھوکے باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دھوکہ بازی ہے، اور شرک کے بعد سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کسی کی بیعت کرے اور پھر اسے توڑ دے، اس لئے تم میں سے کوئی بھی یزید کی بیعت نہ توڑے اور نہ ہی امر خلافت میں جھانک کر دیکھے، ورنہ میرے اور اس کے درمیان کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5709]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7111، م: 1735.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7111، م: 1735.
حدیث نمبر: 5710 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، أَبَا الْمَلِيحِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، أَنَّ أَبَا الْمَلِيحِ قَالَ لِأَبِي قِلَابَةَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُوكَ عَلَى ابْنِ عُمَرَ فَحَدَّثَنَا، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَلْقَى لَهُ وَسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَلَمْ أَقْعُدْ عَلَيْهَا، بَقِيَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خالد الخداء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابوالمیلح رحمہ اللہ نے ابوقلابہ رحمہ اللہ سے کہا کہ میں اور آپ کے والد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، انہوں نے ہمیں یہ حدیث سنائی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں چمڑے کا تکیہ پیش کیا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، لیکن میں اس کے ساتھ ٹیک لگا کر نہیں بیٹھا اور وہ تکیہ میرے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان ہی پڑا رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5710]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5711 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مِنْ أَفْرَى الْفِرَى أَنْ يُرِيَ عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ تَرَيَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے بڑاجھوٹ یہ ہے کہ آدمی وہ خواب بیان کرے جو اس نے دیکھا ہی نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5711]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7043.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7043.
حدیث نمبر: 5712 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شریف ابن شریف ابن شریف ابن شریف سیدنا یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5712]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3390.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3390.
حدیث نمبر: 5713 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حُلَلِ السِّيَرَاءِ، أَهْدَاهَا لَهُ فَيْرُوزُ، فَلَبِسْتُ الْإِزَارَ، فَأَغْرَقَنِي طُولًا وَعَرْضًا، فَسَحَبْتُهُ، وَلَبِسْتُ الرِّدَاءَ، فَتَقَنَّعْتُ بِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَاتِقِي، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بن عمر،" ارْفَعْ الْإِزَارَ، فَإِنَّ مَا مَسَّتْ الْأَرْضُ مِنَ الْإِزَارِ إِلَى مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ: فَلَمْ أَرَ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ تَشْمِيرًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ان ریشمی جوڑوں میں سے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا جو فیروز نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے تھے، میں نے تہبند باندھا تو صرف اسی نے طول و عرض میں مجھے ڈھانپ لیا، میں نے اسے لپیٹا اور اوپر سے چادر اوڑھ لی اور اسے پہن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری گردن پکڑ کر فرمایا: اے عبداللہ! تہبند اوپر کرو، ٹخنوں سے نیچے شلوار کا جو حصہ زمین پر لگے گا وہ جہنم میں ہو گا، عبداللہ بن محمد راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی انسان کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اہتمام کے ساتھ اپنے ٹخنے ننگے رکھنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5713]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل.
حدیث نمبر: 5714 مسند احمد
مُهَنَّى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَبُو شِبْلٍ ، حَمَّادٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُهَنَّى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَبُو شِبْلٍ , عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَسَاهُ حُلَّةً فَأَسْبَلَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا، وَذَكَرَ النَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایک ریشمی جوڑا دیا، وہ ان کے ٹخنوں سے نیچے لٹکنے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر سخت بات کہی اور جہنم کا ذکر کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5714]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن كسابقه.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن كسابقه.
حدیث نمبر: 5715 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، فُلَيْحٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، أَبِي الْمُغِيرَةِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَذْهَبًا مُوَاجِهَ الْقِبْلَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبلہ کے رخ چلتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5715]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف.
حدیث نمبر: 5716 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَائِلٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَائِلٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ، وَلَعَنَ شَارِبَهَا، وَسَاقِيَهَا، وَعَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَبَائِعَهَا، وَمُبْتَاعَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نفس شراب پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، فروخت کرنے والے پر، خریدار پر، نچوڑنے والے پر اور جس کے لئے نچوڑی گئی، اٹھانے والے پر اور جس کے لئے اٹھائی گئی اور اس کی قیمت کھانے والے پر اللہ کی لعنت ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5716]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، بطرقه و شواهده.
الحكم: حديث صحيح، بطرقه و شواهده.
حدیث نمبر: 5717 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ، وَيَدَّهِنُ بِالزَّعْفَرَانِ , فَقِيلَ لَهُ: لِمَ تَصْبُغُ ثِيَابَكَ وَتَدَّهِنُ بِالزَّعْفَرَانِ؟ قَالَ: لِأَنِّي رَأَيْتُهُ" أَحَبَّ الْأَصْبَاغِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَّهِنُ بِهِ، وَيَصْبُغُ بِهِ ثِيَابَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کپڑوں کو رنگتے تھے اور زعفران کا تیل لگاتے تھے، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے کپڑوں کو کیوں رنگتے ہیں اور زعفران کا تیل کیوں لگاتے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ زعفران کا تیل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رنگے جانے کی چیزوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ تھا، اسی کا تیل لگاتے تھے اور اسی سے کپڑوں کو رنگتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5717]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 5718 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , أَنَّهُ حَدَّثَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ لَيَالِي الْحَرَّةِ، فَقَالَ: ضَعُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِ لِأَجْلِسَ، إِنَّمَا جِئْتُ لِأُخْبِرَكَ كَلِمَتَيْنِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَمْ تَكُنْ لَهُ حُجَّةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ مَاتَ مُفَارِقًا لِلْجَمَاعَةِ، فَإِنَّهُ يَمُوتُ مَوْتَ الْجَاهِلِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے یہاں گیا، اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو خوش آمدید کہا اور لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں تکیہ پیش کرو، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں بیٹھنے کے لئے نہیں آیا بلکہ آپ کو ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتا ہے، قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص جماعت کو چھوڑ کر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5718]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 5719 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم نے ابتداءً صرف حج کا احرام باندھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5719]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1231.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1231.
حدیث نمبر: 5720 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ ، وَاسْمُهُ الَّذِي يعرف به نعيم بن النحام، وكان رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ صَالِحًا، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: اخْطُبْ عَلَيَّ ابْنَةَ صَالِحٍ , فَقَالَ: إِنَّ لَهُ يَتَامَى، وَلَمْ يَكُنْ لِيُؤْثِرَنَا عَلَيْهِمْ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى عَمِّهِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ لِيَخْطُبَ، فَانْطَلَقَ زَيْدٌ إِلَى صَالِحٍ، فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ يَخْطُبُ ابْنَتَكَ، فَقَالَ: لِي يَتَامَى، وَلَمْ أَكُنْ لِأُتْرِبَ لَحْمِي , وَأَرْفَعَ لَحْمَكُمْ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَنْكَحْتُهَا فُلَانًا , وَكَانَ هَوَى أُمِّهَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، خَطَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ابْنَتِي، فَأَنْكَحَهَا أَبُوهَا يَتِيمًا فِي حَجْرِهِ، وَلَمْ يُؤَامِرْهَا، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَالِحٍ، فَقَالَ:" أَنْكَحْتَ ابْنَتَكَ وَلَمْ تُؤَامِرْهَا؟" , فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ:" أَشِيرُوا عَلَى النِّسَاءِ فِي أَنْفُسِهِنَّ"، وَهِيَ بِكْرٌ، فَقَالَ صَالِحٌ: فَإِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِمَا يُصْدِقُهَا ابْنُ عُمَرَ، فَإِنَّ لَهُ فِي مَالِي مِثْلَ مَا أَعْطَاهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ جنہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صالح کا خطاب دیا تھا کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے درخواست کی کہ صالح کی بیٹی سے میرے لئے پیغام نکاح بھیجیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اس کے یتیم بھتیجے ہیں، وہ ہمیں ان پر ترجیح نہیں دیں گے، ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے چچا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور ان سے بھی پیغام نکاح بھیجنے کے لئے کہا، چنانچہ زید رضی اللہ عنہ خود ہی صالح رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور فرمایا کہ مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیٹی کے لئے اپنی طرف سے نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے، صالح رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے یتیم بھتیجے موجود ہیں، میں اپنے گوشت کو نیچا کر کے آپ کے گوشت کو اونچا نہیں کر سکتا، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اس لڑکی کا نکاح میں نے فلاں شخص سے کر دیا۔ لڑکی کی ماں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کی شادی کرنا چاہتی تھی، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی، اے اللہ کے نبی! ابن عمر رضی اللہ عنہما نے میری بیٹی کا اپنے لئے رشتہ مانگا تھا لیکن اس کے باپ نے اپنی پرورش میں موجود یتیم بھتیجے سے اس کا نکاح کر دیا اور مجھ سے مشورہ تک نہیں کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صالح کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ کیا تم نے اپنی بیٹی کا رشتہ اپنی بیوی کے مشورے کے بغیر ہی طے کر دیا؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ایسا ہی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے ان کے متعلق مشورہ کر لیا کرو جب کہ وہ کنواری بھی ہوں۔ صالح رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں نے یہ کام صرف اس وجہ سے کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جو مہر اسے دیں گے، میرے پاس ان کا اتنا ہی مال پہلے سے موجود ہے (میں ان کا مقروض ہوں، اس لئے مجھے اس حال میں اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دینا گوارا نہ ہوا)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5720]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد فيه نظر.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد فيه نظر.
حدیث نمبر: 5721 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، أَبُو عُثْمَانَ الْوَلِيدُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْوَلِيدُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے والد کے مرنے کے بعد اس کے دوستوں سے صلہ رحمی کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5721]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2552 مطولا.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2552 مطولا.
حدیث نمبر: 5722 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ الْكَلِمَاتِ؟" , فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهَا تَصْعَدُ حَتَّى فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُها مِنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ عَوْنٌ: مَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنَ ابْنِ عُمَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک آدمی کہنے لگا «الله اكبركبيرا والحمدلله كثيرا وسبحان الله بكرة واصيلا» نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ جملے کس نے کہے ہیں؟ وہ آدمی بولا، یا رسول اللہ! میں نے کہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں نے ان کلمات کو اوپر چڑھتے ہوئے دیکھا، حتٰی کہ ان کے لئے آسمان کے سارے دروازے کھول دئیے گئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے جب سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے، میں نے ان کلمات کو کبھی ترک نہیں کیا اور عون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جب سے یہ کلمات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سنے ہیں، میں نے کبھی انہیں ترک نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5722]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
حدیث نمبر: 5723 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ، فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ فَالْحُوتُ وَالْجَرَادُ، وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمارے لئے دو طرح کے مردار اور دو طرح کا خون حلال ہے، مردار سے مراد تو مچھلی اور ٹڈی دل ہے (کہ انہیں ذبح کرنے کی ضرورت ہی نہیں) اور خون سے مراد کلیجی اور تلی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5723]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن زيد بن أسلم.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن زيد بن أسلم.
حدیث نمبر: 5724 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَقِيمُوا الصُّفُوفَ، فَإِنَّمَا تَصُفُّونَ بِصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَحَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ، وَسُدُّوا الْخَلَلَ، وَلِينُوا فِي أَيْدِي إِخْوَانِكُمْ، وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ، وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا، وَصَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا، قَطَعَهُ اللَّهُ تبَارك وَتَعالَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: صفیں درست رکھا کرو، کیونکہ تمہاری صفیں ملائکہ کی صفوں کے مشابہہ ہوتی ہیں، کندھے ملا لیا کرو، درمیان میں خلاء کو پر کر لیا کرو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جایا کرو اور شیطان کے لئے خالی جگہ نہ چھوڑا کرو، جو شخص صف کو ملاتا ہے، اللہ اسے جوڑتا ہے اور جو شخص صف کو توڑتا ہے اللہ اسے توڑ دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5724]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5725 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، لَيْثٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ , عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ تَفِلَاتٍ" , لَيْثٌ الَّذِي ذَكَرَ" تَفِلَاتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم رات کے وقت عورتوں کو پراگندہ حالت میں مساجد میں آنے کی اجازت دے دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5725]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في الشواهد، ليث ضعيف، وقد توبع.
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في الشواهد، ليث ضعيف، وقد توبع.
حدیث نمبر: 5726 مسند احمد
أَزْهَرُ بنُ الْقَاسِمِ ، عَبْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا مَرَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے ارشاد فرماتے تھے اور ان دونوں کے درمیان کچھ دیر بیٹھتے بھی تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5726]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عبدالله العمري- وإن كان ضعيفا- متابع.
الحكم: حديث صحيح، عبدالله العمري- وإن كان ضعيفا- متابع.
حدیث نمبر: 5727 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبْطِيَّةً، وَكَسَا أُسَامَةَ حُلَّةً سِيَرَاءَ، قَالَ: فَنَظَرَ فَرَآنِي قَدْ أَسْبَلْتُ، فَجَاءَ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِي، وَقَالَ:" يَا ابْنَ عُمَرَ، كُلُّ شَيْءٍ مَسَّ الْأَرْضَ مِنَ الثِّيَابِ، فَفِي النَّارِ"، قَالَ: فَرَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَتَّزِرُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایک ریشمی جوڑا دیا اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو کتان کا جوڑا عطاء فرمایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو وہ کپڑا زمین پر لٹک رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آگے بڑھ کر میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا: اے ابن عمر! کپڑے کا جو حصہ زمین پر لگے کا وہ جہنم میں ہو گا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نصف پنڈلی تک تہبند باندھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5727]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل.