بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 92 از 102
حدیث نمبر: 6268 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَعَلْنَا كَمَا فَعَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَحَلَقَ وَرَجَعَ، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر میرے سامنے کوئی رکاوٹ پیش آگئی تو میں وہی کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا جبکہ ان کے اور بیت اللہ کے درمیان کفار قریش حائل ہو گئے تھے اور وہ حلق کر کے واپس آگئے تھے میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں عمرہ کی نیت کر چکا ہوں پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6268]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1639، م: 1230 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1639، م: 1230 .
حدیث نمبر: 6269 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ"، فَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ:" وَالْمُقَصِّرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ حلق کر انے والوں کو معاف فرما دے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! قصر کر انے والوں کے لئے بھی تو دعاء فرمایئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چوتھی مرتبہ قصر کر انے والوں کے لئے فرمایا: کہ اے اللہ قصر کر انے والوں کو بھی معاف فرما دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6269]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1301 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1301 .
حدیث نمبر: 6270 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تین آدمی ہوں تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر یں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6270]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183 .
حدیث نمبر: 6271 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، فَكَانَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ، نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ میں ہی رہی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد وہ انگوٹھی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس رہی علی الترتیب اس پر " محمد رسول اللہ " نقش تھا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6271]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5873، م: 2091.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5873، م: 2091.
حدیث نمبر: 6272 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَجَّاجٌ ، عَطَاءٍ ، وَابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، نافع ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، وعن نافع ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ مَكَّةَ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِي، وَلَمْ يَسْتَلِمْ غَيْرَهُمَا مِنَ الْأَرْكَانِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کیا کسی اور کونے کا استلام نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6272]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة .
حدیث نمبر: 6273 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا نَصَحَ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ، وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ، كَانَ لَهُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو غلام اپنے رب کی عبادت بھی اچھی طرح کرے اور اپنے آقا کا بھی ہمدرد ہو اسے دوہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6273]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2550، م: 1664.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2550، م: 1664.
حدیث نمبر: 6274 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ، إِلَّا أَنْ يَتُوبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دنیا میں شراب پیئے اور اس سے توبہ نہ کرے تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6274]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5575، م: 2003 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5575، م: 2003 .
حدیث نمبر: 6275 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَّا نَشْتَرِي الطَّعَامَ مِنَ الرُّكْبَانِ جُزَافًا،" فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نَنْقُلَهُ مِنْ مَكَانِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم لوگ سوار ہو کر آنے والوں سے اندازے سے کوئی غلہ خرید لیتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا کہ اسی جگہ کھڑے کھڑے اسے کسی اور کے ہاتھ فروخت کر دیں جب تک کہ وہ اسے اپنے خیمے میں نہ لے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6275]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2167، م: 1526 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2167، م: 1526 .
حدیث نمبر: 6276 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَبِعْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، إِلَّا بِإِذْنِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے الاّ یہ کہ اسے اس کی اجازت مل جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6276]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5142، م: 1412 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5142، م: 1412 .
حدیث نمبر: 6277 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہم پر اسلحہ تان لے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6277]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6874، م: 98 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6874، م: 98 .
حدیث نمبر: 6278 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ أَوْ كَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان پر اپنے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے خواہ اسے اچھا لگے یا برا بشرطیکہ اسے کسی معصیت کا حکم نہ دیا جائے اس لئے کہ اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو اس وقت کسی کی بات سننے اور اس کی اطاعت کر نے کی اجازت نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6278]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2955، م: 1839 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2955، م: 1839 .
حدیث نمبر: 6279 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلُّهُ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَهُ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ، عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے تو اس کے ذمے ہے کہ اسے مکمل آزاد کرے بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو جو عادل آدمی کے اندازے کے مطابق غلام کی قیمت پہنچتا ہو اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو جتنا اس نے آزاد کیا ہے اتنا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6279]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2503، م: 1501 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2503، م: 1501 .
حدیث نمبر: 6280 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَحَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَحَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَفَّرَ أَخَاهُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہتا ہے تو دونوں میں سے کوئی ایک تو کافر ہو کر لوٹتا ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6280]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 60 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 60 .
حدیث نمبر: 6281 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رُفِعَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقِيلَ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ قیامت کے دن اولین و آخرین کو جمع کرے گا تو ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈابلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6281]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1735 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1735 .
حدیث نمبر: 6282 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتَلَقَّى السِّلَعُ حَتَّى تَدْخُلَ الْأَسْوَاقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بازار میں سامان پہنچنے سے پہلے تاجروں سے ملنے سے منع فرمایا: ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6282]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2165، م: 1517 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2165، م: 1517 .
حدیث نمبر: 6283 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ عَبْد الله بْنِ أَحْمَّد: كَذَا قَالَ أَبِي:" كَانَ النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ يَتَوَضَّئُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَيُشْرِعُونَ فِيهِ جَمِيعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں مرد اور عورتیں اکٹھے ایک ہی برتن سے وضو کر لیتے تھے اور اکٹھے ہی شروع کر لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6283]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا الإسناد ظاهرة الإرسال، وقد سلف بأسانيد متصلة برقم: 4481 و 5799 و 5928 .
الحكم: حديث صحيح، وهذا الإسناد ظاهرة الإرسال، وقد سلف بأسانيد متصلة برقم: 4481 و 5799 و 5928 .
حدیث نمبر: 6284 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَحَمَّادٌ يعني أبا أسامة ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَحَمَّادٌ يعني أبا أسامة , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ" إِذَا خَرَجَ، خَرَجَ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ، وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ"، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ:" وَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنْ ثَنِيَّةِ الْعُلْيَا، وَيَخْرُجُ مِنْ ثَنِيَّةِ السُّفْلَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ مکرمہ داخل ہوتے تو طریق معرس (ابن نمیر کے بقول) ثنیہ علیا سے داخل ہوتے اور جب باہر جاتے تو طریق شجرہ (ابن نمیر کے بقول) ثنیہ سفلی سے باہر جاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6284]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1257 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1257 .
حدیث نمبر: 6285 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُصَلِّي يَعْنِي يَقْرَأُ، السَّجْدَةَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ، فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ، حَتَّى رُبَّمَا لَمْ يَجِدْ أَحَدُنَا مَكَانًا يَسْجُدُ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے علاوہ کیفیت میں آیت سجدہ کی تلاوت فرماتے اور سجدہ کرتے ہم بھی ان کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض لوگوں کو اپنی پیشانی زمین پر رکھنے کے لئے جگہ نہ ملتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6285]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1075، م: 575 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1075، م: 575 .
حدیث نمبر: 6286 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ يَأْمُرُ بِالْحَرْبَةِ، فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا، وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ، فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب عید کے دن نکلتے تو ان کے حکم پر ان کے سامنے نیزہ گاڑ دیا جاتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے سترہ بنا کر نماز پڑھاتے تھے اور لوگ ان کے پیچھے ہوتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح سفر میں کرتے تھے یہاں سے اسے حکمرانوں نے لیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6286]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 494، م: 501 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 494، م: 501 .
حدیث نمبر: 6287 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصَلِّي سُبْحَتَهُ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ نَاقَتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ وہ سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما خود بھی اسی طرح کر لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6287]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700 .