بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 98 از 102
حدیث نمبر: 6388 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ , عَنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرَجُ مَعَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ بِعَنَزَةٍ، فَيَرْكُزُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نیزہ نکالا جاتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سترہ کے طور پر نیزہ گاڑ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6388]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6389 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ حَدَّثَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى، وَقَالَ مَرَّةً: إِلَى الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ صدقہ حکم عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6389]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1509، م: 986
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1509، م: 986
حدیث نمبر: 6390 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَى , مِنْ أَيْنَ نُهِلُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" يُهِلُّ مُهِلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ مُهِلُّ أَهْلِ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَيُهِلُّ مُهِلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ"، قَالَ: وَيَزْعُمُونَ، أَوْ يَقُولُونَ: أَنَّهُ قَالَ:" وَيُهِلُّ مُهِلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ أَلَمْلَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ انسان احرام کہاں سے باندھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ اہل شام کے لئے جحفہ اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن میقات ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعد میں لوگوں نے ذات عرق کو قرن پر قیاس کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6390]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1525، م: 1182
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1525، م: 1182
حدیث نمبر: 6391 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، وَعَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي رَوَّادٍ ، نَافِعٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، وَعَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي رَوَّادٍ يحدثان , عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ يُرِيدُ الْحَجَّ، زَمَانَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، فَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 إِذَنْ أَصْنَعَ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً , ثُمَّ خَرَجَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا شَأْنُ الْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ إِلَّا وَاحِدًا،" أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي، وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ، فَانْطَلَقَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ , وَبَيْنَ الصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ، لَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، لَمْ يَنْحَرْ، وَلَمْ يَحْلِقْ، وَلَمْ يُقَصِّرْ، وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ أَحْرَمَ مِنْهُ حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ، فَنَحَرَ وَحَلَقَ، ثُمَّ رَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَهُ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَلِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ"، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس زمانے میں حجاج نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا تھا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حج کے ارادے سے روانہ ہونے لگے تو کسی نے ان سے کہا کہ ہمیں اندیشہ ہے اس سال لوگوں کے درمیان قتل و قتال ہو گا اور آپ کو حرم شریف پہنچنے سے روک دیا جائے گا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات میں تمہارے لئے بہترین نمونہ موجود ہے اگر میرے سامنے کوئی روکاٹ پیش آگئی تو میں وہی کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کی نیت کر چکا ہوں۔ اس کے بعد روانہ ہو گئے چلتے چلتے جب مقام بیداء پر پہنچے تو فرمانے لگے کہ حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک ہی جیسا ہے تو ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کی بھی نیت کر لی ہے پھر انہوں نے مقام قدیر سے ہدی کا جانور خریدا اور مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے وہاں پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کیا صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور اس پر کچھ اضافہ نہیں کیا قربانی کی اور نہ ہی حلق یاقصر کر ایا اور دس ذی الحجہ تک کسی چیز کو بھی اپنے لئے حلال نہیں سمجھا دس ذی الحجہ کو انہوں نے قربانی کی اور حلق کروایا اور یہ رائے قائم کی کہ وہ حج اور عمرے کا طواف آغاز ہی میں کر چکے ہیں اور فرمایا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6391]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4183، م: 1230
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4183، م: 1230
حدیث نمبر: 6392 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ، فَأَمَرَ بِهَا، وَقَالَ: أَحَلَّهَا اللَّهُ تَعَالَى، وَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حج تمتع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حلال قرار دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6392]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4353، م: 1232
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4353، م: 1232
حدیث نمبر: 6393 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: إِنْ مَشَيْتُ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْشِي"، وَإِنْ سَعَيْتُ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْعَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن حبیررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا مروہ کے درمیان عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا کہ آپ عام رفتار سے چل رہے ہیں؟ فرمایا: اگر میں عام رفتار سے چلوں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی اس طرح چلتے ہوئے دیکھا ہے اور اگر تیزی سے چلوں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح بھی دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6393]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6394 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (غزوہ خیبر کے موقع پر) گھوڑ کے دو حصے اور سوار کا ایک حصہ مقرر فرمایا: ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6394]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2863، م: 1762
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2863، م: 1762
حدیث نمبر: 6395 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِمَا، وَلَا يَسْتَلِمُ الْآخَرَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تو صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کیا کسی اور کونے کا استلام نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6395]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 6396 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الزُّبَيْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ ، ابْنَ عُمَرَ ، حَسَنٌ ، الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ؟ قَالَ حَسَنٌ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا , سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْحَجَرِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ؟! فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: اجْعَلْ" أَرَأَيْتَ" بِالْيَمَنِ!! رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے حجر اسود کے استلام کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا: کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا استلام اور تقبیل کرتے ہوئے دیکھا ہے وہ آدمی کہنے لگایہ بتائیے اگر رش ہو تو کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: " یہ بتائیے کہ میں یمن میں رکھتا ہوں میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا استلام اور تقبیل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6396]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 1611
الحكم: إسناده قوي، خ: 1611
حدیث نمبر: 6397 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَاسِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعٍ , أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ"، كُلَّمَا وَضَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، ثُمَّ يَقُولُ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ" عَلَى يَمِينِهِ،" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ"، عَلَى يَسَارِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
واسع بن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہر مرتبہ سر جھکاتے اور اٹھاتے وقت تکبیر کا ذکر کیا اور دائیں جانب السلام علیکم ورحمتہ اللہ علیہ کا اور بائیں جانب السلام علیکم ورحمتہ اللہ کا ذکر کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6397]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6398 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , أَيُصِيبُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ؟ قَالَ:" أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ تَلَا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا (اگر کوئی آدمی عمرہ کا احرام باندھے) تو کیا صفا مروہ کے درمیان سعی کر نے سے پہلے اس کے لئے اپنی بیوی کے پاس آنا حلال ہوجاتا ہے یا نہیں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے طواف کے سات چکر لگائے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر فرمایا: پیغمبر اللہ کی ذات میں تمہارے لئے بہترین نمونہ موجود ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6398]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1647، م: 1234
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1647، م: 1234
حدیث نمبر: 6399 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نماز مزدلفہ میں اکٹھے پڑھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6399]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1287
الحكم: إسناده صحيح، م: 1287
حدیث نمبر: 6400 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاقَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِجَمْعٍ، فَأَقَامَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ"، قَالَ: فَسَأَلَهُ خَالِدُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ هَذَا فِي هَذَا الْمَكَانِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں نماز پڑھی انہوں نے ایک ہی اقامت سے مغرب کی تین رکعتیں اور عشاء کی دو رکعتیں پڑھائی خالد بن مالک نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ یہ نمازیں اس جگہ ایک ہی اقامت کے ساتھ پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6400]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1288
الحكم: حديث صحيح، م: 1288
حدیث نمبر: 6401 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَنْحَرُ يَوْمَ الْأَضْحَى بِالْمَدِينَةِ"، قَالَ:" وَكَانَ إِذَا لَمْ يَنْحَرْ ذَبَحَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دس ذی الحجہ کو مدینہ منورہ میں ہی قربانی کیا کرتے تھے اور نحر نہ کر سکنے کی صورت میں اسے ذبح ہی کر لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6401]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين ابن جريج وبين نافع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين ابن جريج وبين نافع
حدیث نمبر: 6402 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، وَصَفْوَانُ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ مَرْوَانَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، وَصَفْوَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، الْمَعْنَى، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ , أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنْ ارْفَعْ إِلَيَّ حَاجَتَكَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" ابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى"، وَإِنِّي لَأَحْسِبُ الْيَدَ الْعُلْيَا الْمُعْطِيَةَ، وَالسُّفْلَى السَّائِلَةَ، وَإِنِّي غَيْرُ سَائِلِكَ شَيْئًا، وَلَا رَادٍّ رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيَّ مِنْكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قعقاع بن حکیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبدالعزیزبن مروان نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو خط لکھا کہ آپ کی جو ضروریات ہیں وہ میرے سامنے پیش کر دیجئے (تاکہ میں انہیں پورا کر نے کا حکم دوں) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس خط کے جواب میں لکھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور دینے میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جن کی پرورش تمہاری ذمہ داری میں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا ہاتھ ہے اور نیچے والے ہاتھ سے مراد مانگنے والا ہاتھ ہے میں تم سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتا اور نہ ہی اس رزق کو لوٹاؤں گا جو اللہ مجھے تمہاری طرف سے عطاء فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6402]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن عجلان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن عجلان
حدیث نمبر: 6403 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ تَعَالَى هَذَا الْكِتَابَ، فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ تَعَالَى مَالًا، فَتَصَدَّقَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ سوائے دو آدمیوں کے کسی اور پر حسد (رشک) کرنا جائز نہیں ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن کی دولت دی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت میں مصروف رہتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال و دولت عطاء فرمایا: ہو اور اسے راہ حق میں لٹانے پر مسلط کر دیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6403]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 815
الحكم: إسناده صحيح، م: 815
حدیث نمبر: 6404 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمًا ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الْأُولَى الَّتِي تَلِي الْمَسْجِدَ، رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ يَقُومُ أَمَامَهَا، فَيَسْتَقْبِلُ الْبَيْتَ، رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ، ثُمَّ يَرْمِي الثَّانِيَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ ذَاتَ الْيَسَارِ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي، فَيَقِفُ، وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، ثُمَّ يَمْضِي حَتَّى يَأْتِيَ الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ، فَيَرْمِيَهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقِفُ" , قَالَ الزُّهْرِيُّ: سَمِعْتُ سَالِمًا يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام زہری رحمہ اللہ سے مرسلاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب جمرہ اولیٰ جو مسجد کے قریب ہے کی رمی فرماتے تو سات کنکر یاں مارتے اور ہر کنکر ی پر تکبیر کہتے تھے پھر اس کے سامنے کھڑے ہو کر بیت اللہ کا رخ کرتے ہاتھ اٹھا کر دعاء کرتے اور طویل وقوف فرماتے پھر جمرہ ثانیہ کو سات کنکر یاں مارتے اور ہر کنکر ی پر تکبیر کہتے اور بائیں جانب بطن وادی کی طرف چلے جاتے وقوف کرتے بیت اللہ کا رخ کرتے اور ہاتھ اٹھا کر دعاء کرتے پھر جمرہ عقبہ پر تشریف لاتے اسے بھی سات کنکر یاں مارتے اور ہر کنکر ی پر تکبیر کہتے اس کے بعد وقوف نہ فرماتے بلکہ واپس لوٹ جاتے تھے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سالم رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث اسی طرح بیان کرتے ہوئے سنا ہے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6404]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1753
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1753
حدیث نمبر: 6405 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَالشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ فِي الْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ، وَالدَّابَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور بد شگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے نحوست تین چیزوں میں ہوسکتی تھی گھوڑے میں عورت میں اور گھر میں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6405]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5753، م: 2225
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5753، م: 2225
حدیث نمبر: 6406 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، ابْنَ أَبِي نُعْمٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ , يَقُولُ: شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ عَنْ مُحْرِمٍ قَتَلَ ذُبَابًا، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، تَسْأَلُونِي عَنْ مُحْرِمٍ قَتَلَ ذُبَابًا! وَقَدْ قَتَلْتُمْ ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عراق کے کسی آدمی نے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر محرم کسی مکھی کو ماردے تو کیا حکم ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ اہل عراق آ کر مجھ سے مکھی مارنے کی بارے میں پوچھ رہے ہیں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے کو (کسی سے پوچھے بغیر ہی) شہید کر دیا حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا: تھا کہ یہ دونوں میری دنیا کے ریحان ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6406]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3753
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3753
حدیث نمبر: 6407 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، شُعْبَةُ ، عَائِذُ بْنُ نُصَيْبٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَائِذُ بْنُ نُصَيْبٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6407]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 468، م: 1329
الحكم: إسناده صحيح، خ: 468، م: 1329