رَوْحٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الزُّبَيْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ ، ابْنَ عُمَرَ ، حَسَنٌ ، الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ؟ قَالَ حَسَنٌ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا , سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْحَجَرِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ؟! فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: اجْعَلْ" أَرَأَيْتَ" بِالْيَمَنِ!! رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے حجر اسود کے استلام کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا: ”کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا استلام اور تقبیل کرتے ہوئے دیکھا ہے وہ آدمی کہنے لگایہ بتائیے اگر رش ہو تو کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”" یہ بتائیے کہ میں یمن میں رکھتا ہوں میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا استلام اور تقبیل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6396]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 1611
الحكم: إسناده قوي، خ: 1611