بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 1 از 102
حدیث نمبر: 4448 مسند احمد
هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بن أحمد، حَدَّثَنِي أَبِي مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَعَلَ يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا"، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: أَسْهَمَ لِلرَّجُلِ وَلِفَرَسِهِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ سَهْمًا لَهُ، وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر گھوڑے کے دو حصے اور سوار کا ایک حصہ مقرر فرمایا تھا، دوسرے راوی کے مطابق تعبیر یہ ہے کہ مرد اور اس کے گھوڑے کے تین حصے مقرر فرمائے تھے جن میں سے ایک حصہ مرد کا اور دو حصے گھوڑے کے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4448]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2863، م: 1762
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2863، م: 1762
حدیث نمبر: 4449 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يُونُسُ ، زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا جَاءَ ابْنَ عُمَرَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ كُلَّ يَوْمِ أَرْبِعَاءَ، فَأَتَى ذَلِكَ عَلَيَّ يَوْمِ أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ،" وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ النَّحْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال پوچھتے ہوئے دیکھا کہ میں نے یہ منت مان رکھی ہے کہ میں ہر بدھ کو روزہ رکھا کروں، اب اگر بدھ کے دن عیدالاضحیٰ یا عیدالفطر آ جائے تو کیا کروں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ نے منت پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں یوم النحر (دس ذی الحجہ) کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4449]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6705، م: 1139
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6705، م: 1139
حدیث نمبر: 4450 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4450]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6288، م:2183
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6288، م:2183
حدیث نمبر: 4451 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، كُلِّفَ أَنْ يُتِمَّ عِتْقَهُ بِقِيمَةِ عَدْلٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے تو اسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ عادل آدمیوں کی مقرر کردہ قیمت کے مطابق اس غلام کو مکمل آزاد کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4451]
حکم دارالسلام
اسناده صحيح، خ: 2503، م: 1501
الحكم: اسناده صحيح، خ: 2503، م: 1501
حدیث نمبر: 4452 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَيْثُ" أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى جَمْعٍ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ، وَمَضَى، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ كَمَا فَعَلْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانگی کے وقت ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے انہوں نے مغرب کی نماز مکمل پڑھائی پھر «الصلوة» کہہ کر (عشاء کی) دو رکعتیں پڑھائیں اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس جگہ اسی طرح کیا تھا جیسے میں نے کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4452]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1288
الحكم: إسناده صحيح، م: 1288
حدیث نمبر: 4453 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ ، بِأَبِي هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةَ:
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا، فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ، الْقِيرَاطُ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ"، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبَا هُرَيْرَةَ، انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو هُرَيْرَةَ، حَتَّى انْطَلَقَ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ: ، فَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ، أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا، فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ؟" فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَشْغَلُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَرْسُ الْوَدِيِّ، وَلَا صَفْقٌ بِالْأَسْوَاقِ، إِنِّي إِنَّمَا كُنْتُ أَطْلُبُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً يُعَلِّمُنِيهَا، وَأُكْلَةً يُطْعِمُنِيهَا، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: أَنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كُنْتَ أَلْزَمَنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَعْلَمَنَا بِحَدِيثِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر ہوا، اس وقت وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور اگر وہ دفن کے موقع پر بھی شریک رہا تو اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے ہر قیراط جبل احد سے بڑا ہو گا۔ یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے، ابوہریرہ! غور کر لیجئے کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کیا بیان کر رہے ہیں، اس پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہیں لے کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے اور ان سے عرض کیا: اے ام المومنین! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور اگر وہ دفن کے موقع پر بھی شریک رہا تو اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا؟ انہوں نے فرمایا: بخدا! ہاں۔ اس کے بعد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کھجور کے پودے گاڑنا یا بازاروں میں معاملات کرنا مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہونے کا سبب نہیں بنتا تھا (کیونکہ میں یہ کام کر تا ہی نہیں تھا) میں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دو چیزوں کو طلب کیا کرتا تھا ایک وہ بات جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے سکھاتے تھے اور دوسرا وہ لقمہ جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے کھلاتے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ ابوہریرہ ہم سے زیادہ آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چمٹے رہتے تھے اور ان کی حدیث کے ہم سے بڑے عالم ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4453]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1323، م: 945
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1323، م: 945
حدیث نمبر: 4454 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، ابْنُ عَوْنٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا لَمْ يَجِدْ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4454]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4455 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَابْنُ عَوْنٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَابْنُ عَوْنٍ ، وغير واحد، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ يُحْرِمُ؟ قَالَ:" مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ"، وقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَاسَ النَّاسُ ذَاتَ عِرْقٍ بِقَرْنٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ انسان احرام کہاں سے باندھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن میقات ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعد میں لوگوں نے ذات عرق کو قرن پر قیاس کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4455]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1525، م: 1182
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1525، م: 1182
حدیث نمبر: 4456 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، ابْنُ عَوْنٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا لَمْ يَجِدْ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4456]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4457 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، حُمَيْدٌ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَر
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَر ، قَالَ: كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ"، وَزَادَ فِيهَا ابْنُ عُمَرَ: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا۔ میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں حکومت بھی آپ ہی کی ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں یہ اضافہ فرماتے تھے کہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں تیری خدمت میں آ گیا ہوں، ہر قسم کی خیر آپ کے ہاتھ میں ہے، میں حاضر ہوں تمام رغبتیں اور عمل آپ ہی کے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4457]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1184
الحكم: إسناده صحيح، م: 1184
حدیث نمبر: 4458 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَرَفَاتٍ، مِنَّا الْمُكَبِّرُ، وَمِنَّا الْمُلَبِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جب میدان عرفات کی طرف روانہ ہوئے تو ہم میں سے بعض لوگ تکبیر کہہ رہے تھے اور بعض تلبیہ پڑھ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4458]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1284
الحكم: حديث صحيح، م: 1284
حدیث نمبر: 4459 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يُونُسُ ، زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ ، قَال: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمِنًى، فَمَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَةً وَهِيَ بَارِكَةٌ، فَقَالَ:" ابْعَثْهَا، قِيَامًا مُقَيَّدَةً، سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ میں میدان منیٰ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا راستے میں ان کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جس نے اپنی اونٹنی کو گھٹنوں کے بل بٹھا رکھا تھا اور اسے نحر کرنا چاہتا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: اسے کھڑا کر کے اس کے پاؤں باندھ لو اور پھر اسے ذبح کرو، یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4459]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:1713، م: 1320
الحكم: إسناده صحيح، خ:1713، م: 1320
حدیث نمبر: 4460 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَيْثُ" أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ، ثُمَّ أَتَى جَمْعًا، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ، قَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً: فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ قَالَ:" الصَّلَاةَ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانگی کے وقت ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، انہوں نے مغرب کی نماز مکمل پڑھائی پھر «الصلوة» کہہ کر (عشاء کی) دو رکعتیں پڑھائیں اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس جگہ اسی طرح کیا تھا جیسے میں نے کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4460]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 1288
الحكم: صحيح، م: 1288
حدیث نمبر: 4461 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وابن عون ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وابن عون ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ؟ قَالَ:" يَقْتُلُ الْعَقْرَبَ، وَالْفُوَيْسِقَةَ، وَالْحِدَأَةَ، وَالْغُرَابَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے سوال پوچھا کہ محرم کون سے جانور کو قتل کر سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے کو مار سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4461]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1199
الحكم: إسناده صحيح، م: 1199
حدیث نمبر: 4462 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، ابْنُ عُمَرَ:
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ لِابْنِ عُمَرَ: مَا لِي لَا أَرَاكَ تَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ؟ فَقَال ابْنُ عُمَرَ: إِنْ أَفْعَلْ فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ" اسْتِلَامَهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَنْ طَافَ أُسْبُوعًا يُحْصِيهِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ". قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَا رَفَعَ رَجُلٌ قَدَمًا، وَلَا وَضَعَهَا، إِلَّا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبید بن عمیر رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں آپ کو صرف ان دو رکنوں حجر اسود اور رکن یمانی ہی کا استلام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں اس کی کیا وجہ ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر میں ایسا کرتا ہوں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان دونوں کا استلام انسان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ جو شخص گن کر طواف کے سات چکر لگائے اور اس کے بعد دوگانہ طواف پڑھ لے تو یہ ایک غلام آزاد کر نے کے برابر ہے۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک قدم بھی اٹھاتا یا رکھتا ہے اس پر اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں دس گناہ مٹائے جاتے ہیں اور دس درجات بلند کئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4462]
حکم دارالسلام
حديث حسن، هشيم- وإن سمع من ابن السائب بعد الاختلاط متابع
الحكم: حديث حسن، هشيم- وإن سمع من ابن السائب بعد الاختلاط متابع
حدیث نمبر: 4463 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، فَلَا أَدَعُ اسْتِلَامَهُ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجر اسود کا استلام کرتے ہوئے خود دیکھا ہے اس لئے میں کسی سختی یا نرمی کی پرواہ کئے بغیر اس کا استلام کرتا ہی رہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4463]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4464 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، وابن عون ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ، وابن عون ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَمَعَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، وَبِلَالٌ، فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَجَافَ عَلَيْهِمْ الْبَابَ، فَمَكَثَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِيتُ مِنْهُمْ بِلَالًا، فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هَاهُنَا، بَيْنَ الأُسْطُوَانَتَينٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ فضل بن عباس، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کر دیا، اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے تو سب سے پہلے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے بتایا کہ یہاں، ان دو ستونوں کے درمیان۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4464]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 468، م: 1329
الحكم: حديث صحيح، خ: 468، م: 1329
حدیث نمبر: 4465 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْقَرْعِ وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کدو یا لکڑی کو کھوکھلا کر کے اس میں نبیذ بنانے (اور اسے پینے) سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4465]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1997
الحكم: إسناده صحيح، م: 1997
حدیث نمبر: 4466 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَلْيَغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4466]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 844
الحكم: إسناده صحيح، م: 844
حدیث نمبر: 4467 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ، فَلَيْسَ مِنَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہم پر اسلحہ تان لے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4467]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6874، م: 98
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6874، م: 98