بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 22 از 102
حدیث نمبر: 4868 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَنْهَى النَّاسَ إِذَا أَحْرَمُوا عَمَّا يُكْرَهُ لَهُمْ:" لَا تَلْبَسُوا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْقُمُصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخُفَّيْنِ، إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ مُضْطَرٌّ إِلَيْهِمَا، فَيَقْطَعَهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ وَلَا الزَّعْفَرَانُ"، قَالَ:" وَسَمِعْتُهُ يَنْهَى النِّسَاءَ عَنِ الْقُفَّازِ، وَالنِّقَابِ، وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو احرام باندھنے کے بعد لوگوں کو مکروہات سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، قمیض، شلوار، عمامہ، ٹوپی اور موزے مت پہنو، الاّ یہ کہ کسی کو جوتے نہ ملیں جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے، اسی طرح ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو، وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا نیز میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حالت احرام میں خواتین کو دستانے اور نقاب پہننے کی ممانعت کرتے ہوئے سنا ہے، نیز ان کپڑوں کی جنہیں ورس یا زعفران لگی ہوئی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4868]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5794، محمد ابن إسحاق. وإن كان مدلسا وقد عنعن. قد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 5794، محمد ابن إسحاق. وإن كان مدلسا وقد عنعن. قد توبع
حدیث نمبر: 4869 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَصْلُحُ بَيْعُ الثَّمَرِ حَتَّى يَتَبَيَّنَ صَلَاحُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھلوں کی بیع اس وقت تک صحیح نہیں ہے جب تک وہ اچھی طرح پک نہ جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4869]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1535، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو
الحكم: حديث صحيح، م: 1535، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو
حدیث نمبر: 4870 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، الْحَكَمِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ،" فَمَرَّ بِمَكَانٍ، فَحَادَ عَنْهُ، فَسُئِلَ لِمَ فَعَلْتَ؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَذَا، فَفَعَلْتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر میں تھے ایک جگہ سے گزرتے گزرتے انہوں نے راستہ بدل لیا، ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا اس لئے میں نے بھی ایسا ہی کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4870]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 559
الحكم: إسناده صحيح، م: 559
حدیث نمبر: 4871 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، رَجُلًا ، يَحْيَى ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ يَحْيَى ، أَنَّهُ كَانَ مَع عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ لَهُ: فِي الْفِتْنَةِ لَا تَرَوْنَ الْقَتْلَ شَيْئًا؟! وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلثَّلاَثَةَ:" لَا يَنْتَجِي اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان سے فتنہ کے بارے میں ارشاد فرما رہے تھے کہ تم لوگ کسی کو قتل کرنے کی کوئی اہمیت ہی نہیں سمجھتے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین آدمیوں کے بارے میں ہدایت دی تھی کہ اپنے ایک ساتھی کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی میں باتیں نہ کر یں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4871]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 6288، م: 2183، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الذى رواه عن يحيي، ولجهالة حال يحيي بن حبان فلم يروي عنه سوي ابنه محمد
الحكم: صحيح، خ: 6288، م: 2183، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الذى رواه عن يحيي، ولجهالة حال يحيي بن حبان فلم يروي عنه سوي ابنه محمد
حدیث نمبر: 4872 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ:
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: بَيْنَمَا عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ يَقُصُّ وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَشَاةٍ مِنْ بَيْنِ رَبِيضَيْنِ، إِذَا أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحْنَهَا، وَإِذَا أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحْنَهَا"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَيْسَ كَذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَشَاةٍ بَيْنَ غَنَمَيْنِ"، قَالَ: فَاحْتَفَظَ الشَّيْخُ، وَغَضِبَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ لَمْ أَرُدَّ ذَلِكَ عَلَيْكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوجعفر محمد بن علی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی وہاں تشریف فرما تھے عبید بن عمیر کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: منافق کی مثال اس بکری کی سی ہے جو ریوڑوں کے درمیان ہو اس ریوڑ کے پاس جائے تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں اور اس ریوڑ کے پاس جائے تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس موقع پر «ربيضين» کے بجائے «غنمين» کا لفظ استعمال کیا تھا، اس پر سیدنا عبید بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ فرمایا: اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس حدیث کو نہ سنا ہوتا تو میں آپ کی بات کی تردید نہ کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4872]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، المسعودي اختلط و سماع يزيد منه بعد الاختلاط
الحكم: إسناده ضعيف، المسعودي اختلط و سماع يزيد منه بعد الاختلاط
حدیث نمبر: 4873 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ عَوْنٍ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَر
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ، مَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْغَزْوِ؟ أَو عَنِ الْقَوْمِ إِذَا غَزَوْا، بِمَا يَدْعُونَ الْعَدُوَّ قَبْلَ أَنْ يُقَاتِلُوهُمْ؟ وَهَلْ يَحْمِلُ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ فِي الْكَتِيبَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ إِمَامِهِ؟ فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ ابْنَ عُمَر قَدْ كَانَ يَغْزُو وَلَدُهُ، وَيَحْمِلُ عَلَى الظَّهْرِ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ" أَفْضَلَ الْعَمَلِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى"، وَمَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْغَزْوِ إِلَّا وَصَايَا لِعُمَرَ وَصِبْيَانٌ صِغَارٌ وَضَيْعَةٌ كَثِيرَةٌ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَدْ" أَغَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ يَسْقُونَ عَلَى نَعَمِهِمْ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ، وَسَبَى سَبَايَاهُمْ، وَأَصَابَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ ابْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ، وَإِنَّمَا كَانُوا يُدْعَوْنَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الرَّجُلُ فَلَا يَحْمِلُ عَلَى الْكَتِيبَةِ إِلَّا بِإِذْنِ إِمَامِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن عون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خط لکھ کر سیدنا نافع رحمہ اللہ سے یہ سوال پوچھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جہاد میں شرکت کیوں چھوڑ دی ہے، جبکہ جنگ شروع ہونے سے پہلے وہ اس کی دعا کرتے تھے اور کیا کوئی شخص اپنے امیر کی اجازت کے بغیر لشکر پر حملہ کر سکتا ہے؟ انہوں نے مجھے جواب دیتے ہوئے لکھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تو ہر جہاد میں شریک ہوئے ہیں اور جانور کی پشت پر سوار رہے ہیں اور وہ تو خود فرماتے تھے کہ نماز کے بعد سب سے افضل عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے، اب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جہاد میں شریک نہ ہونا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی کچھ وصیتوں کو پورا کرنے میں مصروفیت، چھوٹے بچوں اور زیادہ زمینوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنومصطلق پر اس وقت حملہ کیا تھا جبکہ وہ غافل تھے اور اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے جنگجو افراد کو قتل کروا دیا، ان کی عورتوں کو قیدی بنا لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حصے میں سیدہ جویرہ رضی اللہ عنہ آ گئیں۔ یہ حدیث مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بتائی ہے جو کہ اس لشکر میں شریک تھے اور وہ لوگ پہلے اسلام کی دعوت دیتے تھے باقی کوئی شخص اپنے امیر کی اجازت کے بغیر کسی لشکر پر حملہ نہیں کر سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4873]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2541، م: 1730
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2541، م: 1730
حدیث نمبر: 4874 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ، إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ غَيْرُهُمْ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ:" وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْلُفَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي مَجْلِسِهِ"، وَقَالَ:" إِذَا رَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ:" وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْلُفَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي مَجْلِسِهِ"، وَقَالَ:" إِذَا رَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر نے لگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4874]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 6288، م: 2183، وهذا إسند ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن .
الحكم: صحيح، خ: 6288، م: 2183، وهذا إسند ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن .
حدیث نمبر: 4875 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کو جمعہ کے دن اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے اونگھ آ جائے تو اسے اپنی جگہ بدل لینی چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4875]
حکم دارالسلام
ضعيف مرفوعا، و الصحيح وقفه كما سلف برقم: 4741
الحكم: ضعيف مرفوعا، و الصحيح وقفه كما سلف برقم: 4741
حدیث نمبر: 4876 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، نَافِعٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حدثاه عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى أَحَدٍ فِي قَتْلِهِنَّ الْغُرَابُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ قسم کے جانور ایسے ہیں جہنیں قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے کو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4876]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1199، محمد ابن إسحاق. مدلس، وقد عنعن. لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1199، محمد ابن إسحاق. مدلس، وقد عنعن. لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 4877 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِبْلَةِ نُخَامَةً، فَأَخَذَ عُودًا أَوْ حَصَاةً، فَحَكَّهَا بِهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَبْصُقْ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے ناراض ہو کر فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4877]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق . وإن كان مدلسا وقد عنعن. قد صرح بالسماع فيما يأتي برقم: 6306، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق . وإن كان مدلسا وقد عنعن. قد صرح بالسماع فيما يأتي برقم: 6306، وهو متابع
حدیث نمبر: 4878 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رات کی دو دو رکعت ہوتی ہے اور وتر رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4878]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 473، م: 729
الحكم: إسناده صحيح، خ: 473، م: 729
حدیث نمبر: 4879 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ، كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دجال کانا ہو گا اس کی دائیں آنکھ انگور کے دانے کی طرح پھولی ہوئی ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4879]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 3439، م: 169
الحكم: صحيح، خ: 3439، م: 169
حدیث نمبر: 4880 مسند احمد
يَزِيدُ ، أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبُو بِشْرٍ ، أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَنْ احْتَكَرَ طَعَامًا أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى، وَبَرِئَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْهُ، وَأَيُّمَا أَهْلُ عَرْصَةٍ أَصْبَحَ فِيهِمْ امْرُؤٌ جَائِعٌ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُمْ ذِمَّةُ اللَّهِ تَعَالَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص چالیس دن تک غذائی ضروریات کی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے، وہ اللہ سے بری ہے اور اللہ اس سے بری ہے اور جس خاندان میں ایک آدمی بھی بھوکا رہا، ان سب سے اللہ کا ذمہ بری ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4880]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى بشر
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى بشر
حدیث نمبر: 4881 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ، وَيَقُولُ: أَمَا حَسْبُكُمْ بسُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ إِنَّهُ لَمْ يَشْتَرِطْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حج میں شرط لگانے کو مکروہ خیال کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ کیا تمہارے لئے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کافی نہیں ہے؟ کہ انہوں نے بھی شرط نہیں لگائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4881]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1810
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1810
حدیث نمبر: 4882 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ؟ فَقَالَ:" لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلَا مُحَرِّمِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4882]
حکم دارالسلام
هذا الحديث له إسنادان: الأول: عبد الرزاق عن معمر عن أيوب عن نافع عن ابن عمر، وهو صحيح. والثاني: عبد الرزاق عن عبد الله عن نافع عن ابن عمر، وهو ضعيف لضعف عبد الله العمري، وقد غيره الشيخ أحمد شاكر إلى عبيد الله وهو خطأ، هو فى «مصنف عبد الرزاق» برقم: 8672، بإسناديه
الحكم: هذا الحديث له إسنادان: الأول: عبد الرزاق عن معمر عن أيوب عن نافع عن ابن عمر، وهو صحيح. والثاني: عبد الرزاق عن عبد الله عن نافع عن ابن عمر، وهو ضعيف لضعف عبد الله العمري، وقد غيره الشيخ أحمد شاكر إلى ع
حدیث نمبر: 4883 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْتَرِي الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ؟ فَقَالَ:" إِذَا أَخَذْتَ وَاحِدًا مِنْهُمَا، فَلَا يُفَارِقْكَ صَاحِبُكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: کیا میں چاندی کے بدلے سونا خرید سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب بھی ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز لو تو اپنے ساتھی سے اس وقت تک جدا نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان معمولی سا بھی اشتباہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4883]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانفراد سماك بن حرب برفعه، قال النسائي: إذا انفرد بأصل لم يكن حجة، لأنه كان ربما يلقن فيتلقن
الحكم: إسناده ضعيف لانفراد سماك بن حرب برفعه، قال النسائي: إذا انفرد بأصل لم يكن حجة، لأنه كان ربما يلقن فيتلقن
حدیث نمبر: 4884 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبِي إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقُلْتُ: أَأَدْخُلُ؟ فَعَرَفَ صَوْتِي، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ،" إِذَا أَتَيْتَ إِلَى قَوْمٍ، فَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ رَدُّوا عَلَيْكَ، فَقُلْ: أَأَدْخُلُ؟". قَالَ: ثُمَّ رَأَى ابْنَهُ وَاقِدًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَقَالَ: ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنِّي قَالَ: ثُمَّ رَأَى ابْنَهُ وَاقِدًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَقَالَ: ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد اسلم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا میں نے ان کے گھر پہنچ کر کہا کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ انہوں نے میری آواز پہچان لی اور فرمانے لگے، بیٹا جب کسی کے پاس جاؤ تو پہلے السلام علیکم کہو اگر وہ سلام کا جواب دے دے، تو پھر پوچھو، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ اسی اثنا میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نظر اپنے بیٹے پر پڑ گئی، جو اپنا ازار زمین پر کھینچتا چلا آ رہا تھا، انہوں نے اس سے فرمایا کہ اپنی شلوار اوپر کرو، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر کھینچتا ہوا چلتا ہے اللہ اس پر قیامت کے دن نظر رحم نہیں فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4884]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085
حدیث نمبر: 4885 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَتَحَرَّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4885]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 585، م: 828
الحكم: إسناده صحيح، خ: 585، م: 828
حدیث نمبر: 4886 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ، فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے چاہئے کہ دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیئے تو دائیں ہاتھ سے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4886]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2020.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2020.
حدیث نمبر: 4887 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ فِي رَخَاءٍ وَلَا شِدَّةٍ، مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کو حجر اسود کا استلام کرتے ہوئے خود دیکھا ہے اس لئے میں کسی سختی یا نرمی کی پرواہ کئے بغیر اس کا استلام کرتا ہی رہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4887]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما بعده.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما بعده.