بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 65 از 102
حدیث نمبر: 5728 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ وَهُوَ يَخْطُبُ:" الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُعْطِيَةُ، وَالْيَدُ السُّفْلَى , يَدُ السَّائِلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے، اوپر والے ہاتھ سے مراد خرچ کرنے والا اور نیچے والے ہاتھ سے مراد مانگنے والا ہاتھ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5728]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1429.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1429.
حدیث نمبر: 5729 مسند احمد
حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّي ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الَّذِي لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ , يُمَثِّلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مَالَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ، لَهُ زَبِيبَتَانِ، ثُمَّ يَلْزَمُهُ يُطَوِّقُهُ، يَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ، أَنَا كَنْزُكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا جس کی آنکھ کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ سانپ طوق بنا کر اس کے گلے میں لٹکا دیا جائے گا اور وہ اسے کہے گا کہ میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5729]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5730 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، فَمَاتَ وَهُوَ مُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو شخص دنیا میں شراب پیتا ہو اور اسی حال میں مر جائے کہ وہ مستقل اس کا عادی رہا ہو اور اس سے توبہ بھی نہ کی ہو، وہ آخرت میں شراب طہور سے محروم رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5730]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2003.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2003.
حدیث نمبر: 5731 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
قَالَ عَبْد الله بْنِ أَحْمَّد: قَالَ أَبِي: وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5731]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه.
الحكم: إسناده صحيح كسابقه.
حدیث نمبر: 5732 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحِمْصِيُّ ، عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ، هَاشِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحِمْصِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ هَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" مَنْ اشْتَرَى ثَوْبًا بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ وَفِيهِ دِرْهَمٌ حَرَامٌ، لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً مَا دَامَ عَلَيْهِ"، قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: صُمَّتَا إِنْ لَمْ يَكُنْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جو شخص دس دراہم کا ایک کپڑا خریدے اور اس میں ایک درہم حرام کا ہو تو جب تک وہ کپڑا اس کے جسم پر رہے گا اس کی کوئی نماز قبول نہ ہو گی، اس کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کر کے فرمایا کہ یہ کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5732]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، بقية بن الوليد الحمصي يدلس تدليس التسوية، وهو شر أنواعه، وعثمان بن زفر الجهني، مجهول الحال.
الحكم: إسناده ضعيف جدا، بقية بن الوليد الحمصي يدلس تدليس التسوية، وهو شر أنواعه، وعثمان بن زفر الجهني، مجهول الحال.
حدیث نمبر: 5733 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَهِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، قَالَ شَرِيكٌ: أُرَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5733]
حکم دارالسلام
حديث صيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك النخعي، سيئ الحفظ.
الحكم: حديث صيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك النخعي، سيئ الحفظ.
حدیث نمبر: 5734 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، هُرَيْمٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا هُرَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ تُحْمَلُ مَعَهُ الْعَنَزَةُ فِي الْعِيدَيْنِ فِي أَسْفَارِهِ، فَتُرْكَزُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عیدین کے موقع پر دوران سفر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک نیزہ بھی لے جایا جاتا تھا، جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے گاڑا جاتا تھا اور اسے سترہ بنا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5734]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وقد سلف مختصرا برقم: 4614.
الحكم: إسناده صحيح، وقد سلف مختصرا برقم: 4614.
حدیث نمبر: 5735 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو إِسْرَائِيلُ ، زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلُ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ وَاحِدَةً، فَتِلْكَ وَظِيفَةُ الْوُضُوءِ الَّتِي لَا بُدَّ مِنْهَا، وَمَنْ تَوَضَّأَ اثْنَتَيْنِ، فَلَهُ كِفْلَانِ، وَمَنْ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا، فَذَلِكَ وُضُوئِي، وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک مرتبہ اعضاء وضو کو دھوتا ہے تو یہ وضو کا وہ وظیفہ ہے جس کا ہونا ضروری (اور فرض) ہے، جو دو مرتبہ دھوتا ہے اسے دہرا اجر ملتا ہے اور جو تین مرتبہ دھوتا ہے تو یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام (علیہم السلام) کا بھی یہی وضو ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5735]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبي إسرائيل.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبي إسرائيل.
حدیث نمبر: 5736 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، صَالِحُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَ حَالِفًا، فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ"، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا، قَالَ:" فَلَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قسم کھانا چاہتا ہے وہ اللہ کے نام کی قسم کھائے، قریش کے لوگ اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھایا کرتے تھے اس لئے فرمایا: اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں مت کھاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5736]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 5737 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَافَ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ، خَبَّ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا، وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور باقی چار چکروں میں عام رفتار رکھتے تھے اور صفاء مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے بطن مسیل میں دوڑتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5737]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1644، م: 1261.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1644، م: 1261.
حدیث نمبر: 5738 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، سَالِمٍ ، أَبِيه
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ قِبَلِ حَضْرَمَوْتَ تَحْشُرُ النَّاسَ"، قَالَ: قُلْنَا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرموت (جو کہ شام کا ایک علاقہ ہے) سے ایک آگ نکلے گی اور لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی، ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! پھر آپ اس وقت کے لئے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: ملک شام کو اپنے اوپر لازم کر لینا (وہاں چلے جانا)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5738]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5739 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ : حَفِظْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ صَلَوَاتٍ:" رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں، ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی دو رکعتیں اور دو رکعتیں نماز فجر سے سے پہلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5739]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 5740 مسند احمد
عَارِمٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا، خُسِفَ بِهِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص زمین کا کوئی ٹکڑا ظلماً لے لیتا ہے وہ اس ٹکڑے کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسایا جاتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5740]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 2454.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 2454.
حدیث نمبر: 5741 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، فُلَيْحٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، رَافِعِ بْنِ حُنَيْنٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ:" مَذْهَبًا مُوَاجِهًا لِلْقِبْلَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کا راستہ دیکھا ہے جو قبلہ کے رخ ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5741]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف.
حدیث نمبر: 5742 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ، أَوْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً:" يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ , وَالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ب قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے 24 یا 25 دن تک یہ اندازہ لگایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر سے پہلے کی اور مغرب کے بعد کی دو رکعتوں (سنتوں) میں سورہ کافروں اور سورہ اخلاص پڑھتے رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5742]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5743 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَعْمَشِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنْ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ أَتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ، فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَعْلَمُوا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ، وَمَنْ اسْتَجَارَكُمْ فَأَجِيرُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دے دو، جو شخص اللہ کے نام پر سوال کرے اسے عطاء کر دو، جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ دو، اگربدلہ میں دینے کے لئے کچھ نہ ملے تو اس کے لئے اتنی دعائیں کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ اتار دیا ہے اور جو شخص تمہاری پناہ میں آئے، اسے پناہ دے دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5743]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5744 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا فِئَةُ كُلِّ مُسْلِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مسلمان کی جماعت ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5744]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد.
حدیث نمبر: 5745 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ، فَإِنَّ تُجَاهَهُ الرَّحْمَنُ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے اور نہ ہی دائیں جانب کرے، البتہ بائیں جانب یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے کر سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5745]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، لكن تابعه على معنى حديثه ابن أبي داود فيما سلف برقم: 4908.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، لكن تابعه على معنى حديثه ابن أبي داود فيما سلف برقم: 4908.
حدیث نمبر: 5746 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي يُونُسَ حَاتِمِ بْنِ مُسْلِمٍ ، رَجُلًا ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ حَاتِمِ بْنِ مُسْلِمٍ ، سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ , يَقُولُ: رَأَيْتُ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى ابْنِ عُمَرَ بِمِنًى، عَلَيْهَا دِرْعُ حَرِيرٍ، فَقَالَتْ:" مَا تَقُولُ فِي الْحَرِيرِ؟ فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حاتم بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے قریش کے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ایک عورت کو میدان منٰی میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آتے ہوئے دیکھا، جس نے ریشمی قمیض پہن رکھی تھی، اس نے آکر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ریشم کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (مردوں کے لئے) اس کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5746]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة التابعي راويه عن ابن عمر.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة التابعي راويه عن ابن عمر.
حدیث نمبر: 5747 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ عُتْبَةَ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَتَخَلَّى عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دو کچی اینٹوں پر خانہ کعبہ کے رخ قضاء حاجت کرتے ہوئے دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5747]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن عتبة.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن عتبة.