بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 55 از 102
حدیث نمبر: 5528 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُحْرِمِ:" إِذَا لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، يَقْطَعُهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5528]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5529 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ " يُصَلِّي حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، وَيَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری پر ہی نفل نماز پڑھ لیتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا، اور فرماتے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5529]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700
حدیث نمبر: 5530 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: إِنَّ أَعْرَابِيًّا نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَرَى فِي هَذَا الضَّبِّ؟ فَقَالَ:" لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے پکار کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اس گوہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5530]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1943
الحكم: إسناده صحيح، م: 1943
حدیث نمبر: 5531 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يُلَقِّنُنَا هُوَ:" فِيمَا اسْتَطَعْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بات سننے اور اطاعت کرنے کی شرط پر بیعت لیا کرتے تھے پھر فرماتے تھے کہ حسب استطاعت (جہاں تک ممکن ہو گا تم بات سنو گے اور مانو گے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5531]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7202، م: 1867
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7202، م: 1867
حدیث نمبر: 5532 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الشَّاْمِ الْجُحْفَةَ"، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَزَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات فرمایا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات مقرر فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5532]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1525، م: 1182
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1525، م: 1182
حدیث نمبر: 5533 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ، فَكُنَّا نَأْكُلُ، فَيَمُرُّ عَلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَأْكُلُ، فَيَقُولُ: لَا تُقَارِنُوا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ"، قَالَ شُعْبَةُ: لَا أَرَى فِي الِاسْتِئْذَانِ إِلَّا أَنَّ الْكَلِمَةَ مِنْ كَلَامِ ابْنِ عُمَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
جبلہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمیں کھانے کے لئے کھجور دیا کرتے تھے، اس زمانے میں لوگ انتہائی مشکلات کا شکار تھے، ایک دن ہم کھجوریں کھا رہے تھے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرے اور فرمانے لگے کہ ایک وقت میں کئی کئی کھجوریں اکٹھی مت کھاؤ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بھائی کی اجازت کے بغیر کئی کھجوریں کھانے سے منع فرمایا ہے، امام شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرا خیال تو یہی ہے کہ اجازت والی بات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کلام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5533]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2045
الحكم: إسناده صحيح، م: 2045
حدیث نمبر: 5534 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَ مُلْتَمِسًا فَلْيَلْتَمِسْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شب قدر کو تلاش کرنے والا اسے آخری عشرے میں تلاش کرے"۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5534]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1165
الحكم: إسناده صحيح، م: 1165
حدیث نمبر: 5535 مسند احمد
مُحَمَّدٌ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبًا مِنْ ثِيَابِهِ مَخِيلَةً، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظررحم نہ فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5535]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2085
الحكم: إسناده صحيح، م: 2085
حدیث نمبر: 5536 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَبَلَةَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا"، وَطَبَّقَ أَصَابِعَهُ مَرَّتَيْنِ، وَكَسَرَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ، يَعْنِي قَوْلَهُ: تِسْعٌ وَعِشْرُونَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بعض اوقات مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انگوٹھا بند کر لیا یعنی ٢٩ کا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5536]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1908، م: 1080
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1908، م: 1080
حدیث نمبر: 5537 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَتْرِ؟ قَالَ: فَمَشَيْتُ أَنَا وَذَاكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوَتْرُ رَكْعَةٌ"، قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ يَقُلْ:" مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وتر کے متعلق پوچھا، اس وقت میں اور وہ آدمی چل رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور وتر ایک رکعت پر۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5537]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5538 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُ شَهِدَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ " أَقَامَ بِجَمْعٍ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ وَأَذَّنَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا، ثُمَّ سَلَّمَ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ: صَنَعَ بِنَا ابْنُ عُمَرَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : صَنَعَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حکم کہتے ہیں کہ مزدلفہ میں ہمیں سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے مغرب کی نماز تین رکعتوں میں اقامت کی طرح پڑھائی، پھر سلام پھیر کر عشاء کی دو رکعتیں حالت سفر کی وجہ سے پڑھائی، اور پھر فرمایا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ہمارے ساتھ اس جگہ اس طرح کیا تھا اور فرمایا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی ہمارے ساتھ اس جگہ اسی طرح کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5538]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1288
الحكم: إسناده صحيح، م: 1288
حدیث نمبر: 5539 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ" كَانَ قَدْ جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَكِفُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بحوالہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس منت کو پورا کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5539]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1656
الحكم: إسناده صحيح، م: 1656
حدیث نمبر: 5540 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيُّ ، سَالِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ، فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا لَهُ مَالٌ، فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص پیوندکاری کئے ہوئے کھجوروں کے درخت بیچتا ہے تو اس کا پھل بھی بائع (بچنے والا) کا ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگادے اور جو شخص کسی مالدار غلام کو بیچے تو اس کا سارا مال بائع (بچنے والا) کا ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5540]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2379، م: 1199 وهذا إسناد حسن
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2379، م: 1199 وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 5541 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ خَمْسًا: الْحُدَيَّا، وَالْغُرَابَ، وَالْفَأْرَةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ محرم پانچ قسم کے جانوروں کو مار سکتا ہے بچھو چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے کو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5541]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1199، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 1199، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 5542 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّاْمِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ"، فَقَالَ النَّاسُ: مُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل مدینہ کے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات فرمایا: ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات مقرر فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5542]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1525، م: 1182، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 1525، م: 1182، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 5543 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال (جس کی قیمت تین درہم تھی) چوری کرنے کی وجہ سے کاٹ دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5543]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6796، م: 1686، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 6796، م: 1686، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 5544 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَتَشٍ ، النُّعْمَانُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَيُّوبَ بْنِ سَلْمَانَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَتَشٍ ، أَخْبَرَنِي النُّعْمَانُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ سَلْمَانَ ، رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ، قَالَ: كُنَّا بِمَكَّةَ، فَجَلَسْنَا إِلَى عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، إِلَى جَنْبِ جِدَارِ الْمَسْجِدِ، فَلَمْ نَسْأَلْهُ، وَلَمْ يُحَدِّثْنَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسْنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ مِثْلَ مَجْلِسِكُمْ هَذَا، فَلَمْ نَسْأَلْهُ، وَلَمْ يُحَدِّثْنَا، قَالَ: فَقَالَ: مَا بَالُكُمْ لَا تَتَكَلَّمُونَ وَلَا تَذْكُرُونَ اللَّهَ؟! قُولُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، بِوَاحِدَةٍ عَشْرًا، وَبِعَشْرٍ مِائَةً مَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَكَتَ غَفَرَ لَهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَمْسٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، فَهُوَ مُضَادُّ اللَّهِ فِي أَمْرِهِ، وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِغَيْرِ حَقٍّ، فَهُوَ مُسْتَظِلٌّ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَتْرُكَ، وَمَنْ قَفَا مُؤْمِنًا أَوْ مُؤْمِنَةً، حَبَسَهُ اللَّهُ فِي رَدْغَةِ الْخَبَالِ، عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ، وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، أُخِذَ لِصَاحِبِهِ مِنْ حَسَنَاتِهِ، لَا دِينَارَ ثَمَّ وَلَا دِرْهَمَ، وَرَكْعَتَا الْفَجْرِ حَافِظُوا عَلَيْهِمَا، فَإِنَّهُمَا مِنَ الْفَضَائِلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایوب بن سلیمان کہتے ہیں کہ ہم لوگ مکہ مکرمہ میں عطاء خراسانی رحمہ اللہ کے پاس مسجد کی ایک دیوار کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ہم ان سے کچھ پوچھتے تھے اور نہ ہی وہ ہم سے کچھ بیان کرتے تھے، پھر ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھی اسی طرح بیٹھے رہے کہ ہم ان سے کچھ پوچھتے تھے اور نہ ہی وہ ہم سے کچھ بیان کرتے تھے، بالآخر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے کیا بات ہے تم لوگ کچھ بولتے کیوں نہیں؟ اور اللہ کا ذکر کیوں نہیں کرتے؟ اللہ اکبر، الحمدللہ اور سبحان اللہ وبحمدہ کہو ایک کے بدلے میں دس اور دس کے بدلے میں سونیکیاں عطاء ہوں گی، اور جو جتنا اس تعداد میں اضافہ کرتا جائے گا، اللہ اس کی نیکیوں میں اتناہی اضافہ کرتا جائے گا اور جو شخص سکوت اختیار کر لے اللہ اس کی بخشش فرمائے گا، کیا میں تمہیں پانچ باتیں نہ بتاؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہیں؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں فرمایا: جس شخص کی سفارش اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں میں سے کسی ایک میں حائل ہو گئی تو گویا اس نے اللہ کے معاملے میں اللہ کے ساتھ ضد کی جو شخص کسی ناحق مقدمے میں کسی کی اعانت کرے وہ اللہ ناراضگی کے سائے تلے رہے گا جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے، جو شخص کسی مومن مرد و عورت کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرتا ہے اللہ اسے اہل جہنم کی پیپ کے مقام پر روک لے گا، جو شخص مقروض ہو کر مرے تو اس کی نیکیاں اس سے لے کر قرض خواہ کودے دی جائیں گی کیونکہ قیامت میں کوئی درہم و دینار نہ ہو گا اور فجر کی دو سنتوں کا خوب اہتمام کیا کرو کیونکہ یہ دو رکعتیں بڑے فضائل کی حامل ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5544]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أيوب بن سلمان الصنعاني
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أيوب بن سلمان الصنعاني
حدیث نمبر: 5545 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَتَشٍ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَتَشٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى عَلَى عُطَارِدٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَهُوَ يُقِيمُ حُلَّةً مِنْ حَرِيرٍ يَبِيعُهَا، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ عُطَارِدًا يَبِيعُ حُلَّتَهُ، فَاشْتَرِيهَا تَلْبَسْهَا إِذَا أَتَاكَ وُفُودُ النَّاسِ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کے ارادے سے نکلے، راستے میں بنو تمیم کے ایک آدمی "عطارد" کے پاس سے ان کا گزر ہوا جو ایک ریشمی جوڑا فروخت کر رہا تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگے یا رسول اللہ! میں نے عطارد کو ایک ریشمی جوڑا فروخت کرتے ہوئے دیکھا ہے اگر آپ اسے خرید لیتے تو وفود کے سامنے پہن لیا کرتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5545]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 5841، م: 2068، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن الحسن بن أتش .
الحكم: صحيح، خ: 5841، م: 2068، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن الحسن بن أتش .
حدیث نمبر: 5546 مسند احمد
مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، أَبَا جَعْفَرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ، يَقُولُ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِذَا سَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، أَوْ شَهِدَ مَعَهُ مَشْهَدًا، لَمْ يُقَصِّرْ دُونَهُ أَوْ يَعْدُوهُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ يقص على أهل مكة، إذ قَالَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ، إِنْ أَقْبَلَتْ إِلَى هَذِهِ الْغَنَمِ نَطَحَتْهَا، وَإِنْ أَقْبَلَتْ إِلَى هَذِهِ نَطَحَتْهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : لَيْسَ هَكَذَا، فَغَضِبَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَيْفَ قَالَ رَحِمَكَ اللَّهُ؟ فَقَالَ:" مَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الشَّاةِ بَيْنَ الرَّبِيضَيْنِ، إِنْ أَقْبَلَتْ إِلَى ذَا الرَّبِيضِ نَطَحَتْهَا، وَإِنْ أَقْبَلَتْ إِلَى ذَا الرَّبِيضِ نَطَحَتْهَا"، فَقَالَ لَهُ: رَحِمَكَ اللَّهُ، هُمَا وَاحِدٌ، قَالَ: كَذَا سَمِعْتُ، كذا سمعتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوجعفر محمد بن علی رحمہ اللہ کہتے ہیں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سن لیتے یا کسی موقع پر موجود ہوتے تو اس میں (بیان کرتے ہوئے) کمی بیشی بالکل نہیں کرتے تھے کہ ایک مرتبہ عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی وہاں تشریف فرما تھے، عبید بن عمیر کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: منافق کی مثال اس بکر ی کی سی ہے جو دور ریوڑوں کے درمیان ہو، اس ریوڑ کے پاس جائے تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں اور اس ریوڑ کے پاس جائے تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ حدیث اس طرح نہیں ہے اس پر عبید بن عمر کو ناگواری ہوئی، اس مجلس میں عبداللہ بن صفوان بھی تھے، وہ کہنے لگے کہ اے ابو عبدالرحمن! آپ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس طرح فرمایا تھا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مذکورہ حدیث دوبارہ سنا دی اور اس میں «غنمين» کے بجائے «ربيضين» کا لفظ استعمال کیا تو عبداللہ نے کہا کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے اس دونوں کا مطلب تو ایک ہی ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5546]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، مصعب بن سلام من شيوخ أحمد، وثقه العجلي
الحكم: إسناده صحيح، مصعب بن سلام من شيوخ أحمد، وثقه العجلي
حدیث نمبر: 5547 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى فِي الْبَيْتِ، وَسَيَأْتِي مَنْ يَنْهَاكُمْ عَنْهُ، فَتَسْمَعُونَ مِنْهُ!!"، قَالَ: يَعْنِي: ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسًا قَرِيبًا مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے، لیکن ابھی تم ایک ایسے شخص کے پاس جاؤ گے اور ان کی باتیں سنو گے، جو اس کی نفی کر یں گے۔ مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تھے جو قریب ہی بیٹھے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5547]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح