بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 72 از 102
حدیث نمبر: 5868 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عُقَيْلٍ ، الزُّهْرِيِّ ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ"، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْعِلْمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، میں نے اسے پیا، پھر میں نے اپنا پس خوردہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: علم۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5868]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7032، م: 3291.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7032، م: 3291.
حدیث نمبر: 5869 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، وَكَانَ وَهْبٌ أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ , لَيْسَ فِي كِتَابِ ابْنِ مَالِكٍ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى رَاعِيَ غَنَمٍ فِي مَكَانٍ قَبِيحٍ، وَقَدْ رَأَى ابْنُ عُمَرَ مَكَانًا أَمْثَلَ مِنْهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَيْحَكَ يَا راعي , حَوِّلْها , فَإِنِّي، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" كُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک چرواہے کو اپنی بکریاں کسی گندی جگہ پر چراتے ہوئے دیکھا جبکہ اس سے بہتر جگہ موجود تھی، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اسے دیکھا تھا اس لئے فرمانے لگے: اے چرواہے! تجھ پر افسوس ہے، ان بکریوں کو کہیں اور لے جاؤ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر چرواہے سے اس کی رعیت کے بارے سوال ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5869]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن عجلان.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن عجلان.
حدیث نمبر: 5870 مسند احمد
مُصْعَبٌ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ النَّجْشِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع میں دھوکے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5870]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2165، م: 1517.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2165، م: 1517.
حدیث نمبر: 5871 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حُصَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ نُمَيْرٍ أَبُو مِحْصَنٍ ، الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، سَالِمٌ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ نُمَيْرٍ أَبُو مِحْصَنٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجَ يَوْمَ عِيدٍ فَبَدَأَ فَصَلَّى بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکلے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بغیر اذان و اقامت کے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5871]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 5872 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، أَبُو مِحْصَنِ بْنُ نُمَيْرٍ ، الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مِحْصَنِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5872]
حکم دارالسلام
إسناده قوي كسابقه.
الحكم: إسناده قوي كسابقه.
حدیث نمبر: 5873 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ، كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ اپنی رخصتوں پر عمل کر نے کو اسی طرح پسند کرتا ہے جیسے اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5873]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 5874 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ ، حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ , قَالَ عَبْدٌ الله بْنِ أَحْمَّد: وَسَمِعْتَهُ أَنَا مِنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا نَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ، وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَمْشِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے اور چلتے چلتے کھانا کھا لیتے تھے (کیونکہ جہاد کی مصروفیت میں کھانے پینے کی کے لئے وقت کہاں؟)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5874]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وصححه الترمذي وابن حبان.
الحكم: رجاله ثقات، وصححه الترمذي وابن حبان.
حدیث نمبر: 5875 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ عَبْدٌ الله بْنِ أَحْمَّد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ :" اسْتَلَمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ"، وَقَالَ: مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حجر اسود کا استلام کر کے اپنے ہاتھ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اور وہ فرماتے تھے کہ میں نے جب سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے،کبھی اسے ترک نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5875]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1268.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1268.
حدیث نمبر: 5876 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، أُسَامَةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ عَبْدٌ الله بْنِ أَحْمَّد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِالْمُصَلَّى يَوْمَ النَّحْرِ"، وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے مروی ہے کہ وہ دس ذی الحجہ کو عیدگاہ میں ہی قربانی کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5876]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 982، وهذا إسناد حسن من أجل أسامة.
الحكم: حديث صحيح، خ: 982، وهذا إسناد حسن من أجل أسامة.
حدیث نمبر: 5877 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ، مُعْتَمِرٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُثَيْمٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ عَبْدٌ الله بْنِ أَحْمَّد: وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثَيْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَا يَجُوزُ فِي الرَّضَاعَةِ مِنَ الشُّهُودِ؟ قَالَ:" رَجُلٌ أَوْ امْرَأَةٌ" , قَالَ عَبْدٌ الله بْنِ أَحْمَّد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ رضاعت کے ثبوت کے لئے کتنے گواہوں کا ہونا کافی ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک مرد اور ایک عورت۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5877]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، محمد بن عثيم مجمع على ضعفه.
الحكم: إسناده ضعيف جدا، محمد بن عثيم مجمع على ضعفه.
حدیث نمبر: 5878 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، سَالِمٌ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ عَبْدٌ الله بْنِ أَحْمَّد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ , أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أُتِيَ بِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ كَتَبْتَ هَذَا الْكِتَابَ؟" قَالَ: نَعَمْ، أَمَا وَاللَّهِ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَغَيَّرَ الْإِيمَانُ مِنْ قَلْبِي، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ , إِلَّا وَلَهُ جِذْمٌ وَأَهْلُ بَيْتٍ يَمْنَعُونَ لَهُ أَهْلَهُ، وَكَتَبْتُ كِتَابًا رَجَوْتُ أَنْ يَمْنَعَ اللَّهُ بِذَلِكَ أَهْلِي، فَقَالَ عُمَرُ: ائْذَنْ لِي فِيهِ، قَالَ:" أَوَ كُنْتَ قَاتِلَهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، إِنْ أَذِنْتَ لِي، قَالَ:" وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ قَدْ اطَّلَعَ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ"، فَقَالَ:" اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ خط تم نے ہی لکھا ہے؟ انہوں نے اس کا اقرار کرتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم، میرے دل میں ایمان کے اعتبار سے کوئی تغیر واقع نہیں ہوا، بات اصل میں اتنی ہے کہ قریش کے ہر آدمی کا مکہ مکرمہ میں کوئی نہ کوئی حمایتی یا اس کے اہل خانہ موجود ہیں جو اس کے اعزہ و اقرباء کی حفاظت کرتے ہیں، میں نے انہیں یہ خط لکھ دیا تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ان میں سے کسی سے میرے اہل خانہ کی حفاظت کروا لے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اتاروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم واقعی اسے مارو گے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! اگر آپ نے اجازت دے دی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کو زمین پر جھانک کر دیکھا اور فرمایا تم جو چاہو کرو (میں نے تمہیں معاف کر دیا)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5878]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف عمر بن حمزة.
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف عمر بن حمزة.
حدیث نمبر: 5879 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هو عَبْدٌ الله بْنِ أَحْمَّد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدَيْنِ مِنْ طَرِيقٍ وَيَرْجِعُ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیدین کے موقع پر ایک راستے سے جاتے تھے اور دوسرے راستے سے واپس آتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5879]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري.
حدیث نمبر: 5880 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ"، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا إِلَّا وِتْرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ طاق ہے، طاق عدد کو پسند کرتا ہے، نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما طاق عدد کا خیال رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5880]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري.
حدیث نمبر: 5881 مسند احمد
سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، ابْنِ عَوْنٍ
(حديث مقطوع) قال عَبْد اللَّهِ بْنِ أَحْمد، حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ:" أَنَا رَأَيْتُ غَيْلَانَ يَعْنِي الْقَدَرِيَّ مَصْلُوبًا عَلَى بَابِ دِمَشْقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے غیلان قدری دمشق کے دروازے پر سولی پر لٹکا ہوا دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5881]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5882 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أُسَامَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ، لَا تَكَادُ تَرَى فِيهَا رَاحِلَةً، أَوْ مَتَى تَرَى فِيهَا رَاحِلَةً؟". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَعْلَمُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ مِائَةٍ مِثْلِهِ، إِلَّا الرَّجُلَ الْمُؤْمِنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی سی ہے جن میں سے ایک بھی سورای کے قابل نہ ہو، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مرد مؤمن کے علاوہ سو چیزوں میں سے ایک کے مثل کوئی بہتر چیز ہم نہیں جانتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5882]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، محمد بن عبدالله بن عمرو بن عثمان ضعيف.
الحكم: إسناده ضعيف، محمد بن عبدالله بن عمرو بن عثمان ضعيف.
حدیث نمبر: 5883 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سورج اور چاند کو کسی کی موت زندگی سے گہن نہیں لگتا، یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، اس لئے جب تم انہیں گہن لگتے ہوئے دیکھو تو نماز کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5883]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1042، م: 914.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1042، م: 914.
حدیث نمبر: 5884 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عِصْمَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عِصْمَةَ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَتْ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ سَبْعَ مِرَارٍ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْبَوْلِ سَبْعَ مِرَارٍ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ، حَتَّى جُعِلَتْ الصَّلَاةُ خَمْسًا، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ مَرَّةً، وَالْغُسْلُ مِنَ الْبَوْلِ مَرَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابتداء نمازیں پچاس تھیں، غسل جنابت سات مرتبہ کرنے کا حکم تھا اور کپڑے پر پیشاب لگ جانے کی صورت میں اسے سات مرتبہ دھونے کا حکم تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مسلسل درخواست پر نمازوں کی تعداد پانچ رہ گئی، غسل جنابت بھی ایک مرتبہ رہ گیا اور پیشاب زدہ کپڑے کو دھونا بھی ایک مرتبہ قرار دے دیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5884]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أيوب بن جابر، وعبدالله ابن عصمة مختلف فيه.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أيوب بن جابر، وعبدالله ابن عصمة مختلف فيه.
حدیث نمبر: 5885 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمّد ، خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، أَبِي جَنَابٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمّد ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ، وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ، وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ، فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ الرَّمَاءَ"، وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَبِيعُ الْفَرَسَ بِالْأَفْرَاسِ، وَالنَّجِيبَةَ بِالْإِبِلِ؟ قَالَ:" لَا بَأْسَ، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک دینار کو دو دیناروں کے بدلے، ایک درہم کو دو کے بدلے اور ایک صاع کو دو صاع کے بدلے مت بیچو، کیونکہ مجھے تمہارے سود میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بتائیے، اگر کوئی آدمی ایک گھوڑا کئی گھوڑوں کے بدلے یا ایک شریف الاصل اونٹ دوسرے اونٹ کے بدلے بیچے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5885]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبي جناب.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبي جناب.
حدیث نمبر: 5886 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، خَلَفٌ ، أَبِي جَنَابٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ جِذْعُ نَخْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، يُسْنِدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ إِلَيْهِ إِذَا كَانَ يَوْمُ جُمُعَةٍ، أَوْ حَدَثَ أَمْرٌ يُرِيدُ أَنْ يُكَلِّمَ النَّاسَ، فَقَالُوا: أَلَا نَجْعَلُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْئًا كَقَدْرِ قِيَامِكَ؟ قَالَ:" لَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوا"، فَصَنَعُوا لَهُ مِنْبَرًا ثَلَاثَ مَرَاقٍ، قَالَ: فَجَلَسَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَخَارَ الْجِذْعُ كَمَا تَخُورُ الْبَقَرَةُ جَزَعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَزَمَهُ وَمَسَحَهُ، حَتَّى سَكَنَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مسجد نبوی میں کھجور کا ایک تنا تھا جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن یا کسی اہم واقعے پر لوگوں سے خطاب فرماتے ہوئے ٹیک لگا لیا کرتے تھے، ایک دن کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے قد کے مطابق آپ کے لئے کوئی چیز نہ بنا دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے تین سیڑھیوں کا منبر بنا دیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر تشریف فرما ہو گئے، یہ دیکھ کروہ تنا اس طرح رونے لگا جیسے گائے روتی ہے اور اس کا یہ رونا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فراق کے غم میں تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اپنے سینے سے لگایا اور اس پر ہاتھ پھیرا یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5886]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، خ: 3583، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي جناب، وأبو حية في عداد المجهولين.
الحكم: حديث صحيح لغيره، خ: 3583، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي جناب، وأبو حية في عداد المجهولين.
حدیث نمبر: 5887 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، ابْنُ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ , أَخْبَرَنِي ابْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَلَبِسَهُ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ، وَإِنِّي لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا"، فَنَبَذَهُ، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پھینک دیا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5887]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.