بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 52 از 102
حدیث نمبر: 5468 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْعَوَّامُ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمْ الْمَسَاجِدَ، وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ"، قَالَ: فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: بَلَى، وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ! فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَسْمَعُنِي أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ مَا تَقُولُ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے اہل خانہ کو مسجد آنے سے نہ روکا کرو، البتہ ان کے گھر ان کے حق میں زیادہ بہتر ہیں، یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کوئی بیٹا کہنے لگا کہ ہم تو انہیں روکیں گے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5468]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف ، حبيب بن أبي ثابت مدلس، وقد عنعن .
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف ، حبيب بن أبي ثابت مدلس، وقد عنعن .
حدیث نمبر: 5469 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَرْوَانَ ، أَبِي عَائِشَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَقَالَ:" رَأَيْتُ قُبَيْلَ الْفَجْرِ كَأَنِّي أُعْطِيتُ الْمَقَالِيدَ وَالْمَوَازِينَ، فَأَمَّا الْمَقَالِيدُ فَهَذِهِ الْمَفَاتِيحُ، وَأَمَّا الْمَوَازِينُ، فَهِذه الَّتِي تَزِنُونَ بِهَا، فَوُضِعْتُ فِي كِفَّةٍ، وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ، فَوُزِنْتُ بِهِمْ، فَرَجَحْتُ، ثُمَّ جِيءَ بِأَبِي بَكْرٍ، فَوُزِنَ بِهِمْ، فَوَزَنَ، ثُمَّ جِيءَ بِعُمَرَ، فَوُزِنَ، فَوَزَنَ، ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ، فَوُزِنَ بِهِمْ، ثُمَّ رُفِعَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طلوع آفتاب کے بعد ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج میں نے نماز فجر سے کچھ ہی دیر قبل ایک خواب دیکھا ہے جس میں مجھے مقالید اور موازین دیئے گئے، مقالید سے مراد تو چابیاں ہیں اور موازین سے مراد ترازو ہیں جن سے تم وزن کرتے ہو، پھر اس ترازو کے ایک پلڑے میں مجھے رکھا گیا اور دوسرے میں میری ساری امت کو، میرا وزن زیادہ ہو گیا اور میرا پلڑا جھک گیا، پھر ابوبکر کو لایا گیا اور ان کا وزن کیا تو وہ بھی ساری امت سے زیادہ نکلا، پھر عمر کو لا کر ان کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا بھی جھک گیا، پھر عثمان کو لایا گیا اور ان کا وزن کرنے کے بعد اس ترازو کو اٹھا لیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5469]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ،عبدالله بن مروان لم يروعنه غير بدر بن عثمان ، ولم يوثقه غير ابن حبان.
الحكم: إسناده ضعيف ،عبدالله بن مروان لم يروعنه غير بدر بن عثمان ، ولم يوثقه غير ابن حبان.
حدیث نمبر: 5470 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَدَوِيِّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَوَاحِدَةً، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: اس وقت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اس دیہاتی کے درمیان تھا یا رسول اللہ! رات کی نماز سے متعلق آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو اور دو رکعتیں فجر سے پہلے پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5470]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي .
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي .
حدیث نمبر: 5471 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ أَنْ يَخْرُجْنَ إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کو مساجد میں آنے سے امت روکو، البتہ ان کے گھر ان کے حق میں زیادہ بہتر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5471]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف ، حبيب بن أبي ثابت مدلس، وقد عنعن .
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف ، حبيب بن أبي ثابت مدلس، وقد عنعن .
حدیث نمبر: 5472 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً: أِنَّ عُمَرَ بْنَ نَافِعٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا نَلْبَسُ إِذَا أَحْرَمْنَا؟ قَالَ:" لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ، فَيَلْبَسَ الْخُفَّيْنِ، وَيَجْعَلَهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم احرام باندھ لیں تو کون سے کپڑے پہن سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیض، شلوار، عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے، اسی طرح ٹوپی یا ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5472]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ :5794.
الحكم: إسناده صحيح ، خ :5794.
حدیث نمبر: 5473 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَبَايَعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تک پھل خوب پک نہ جائے، اس وقت تک اس کی خرید و فروخت نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5473]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م :1534.
الحكم: إسناده صحيح ، م :1534.
حدیث نمبر: 5474 مسند احمد
يَزِيدَ ، يَحْيَى ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) وَأَخْبَرَنَا يَعْنِي يَزِيدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي إِنْسَانٍ أَوْ مَمْلُوكٍ، كُلِّفَ عِتْقَ بَقِيَّتِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ يُعْتِقُهُ بِهِ، فَقَدْ جَازَ مَا عَتَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے تو اسے اس کا بقیہ حصے آزاد کر نے کا بھی مکلف بنایا جائے گا، اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے اسے آزاد کیا جا سکے تو جتنا اس نے آزاد کیا ہے اتنا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5474]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2503، م :1501.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2503، م :1501.
حدیث نمبر: 5475 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنِ الَّذِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِهِ، يَقُولُ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ"، وَذَكَرَ نَافِعٌ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَزِيدُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ مِنْ عِنْدِهِ: لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ، لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا، میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں، حکومت بھی آپ ہی کی ہے آپ کا کوئی شریک نہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں یہ اضافہ فرماتے تھے کہ میں حاضر ہوں، تمام رغبتیں اور عمل آپ ہی کے لئے ہیں میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5475]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م :1184.
الحكم: إسناده صحيح ، م :1184.
حدیث نمبر: 5476 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَنْ قَتَلَ مِنْهُنَّ: الْغُرَابُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْعَقْرَبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کر نے میں کوئی حرج نہیں ہے، بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5476]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م :1199.
الحكم: إسناده صحيح ، م :1199.
حدیث نمبر: 5477 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ، فَأَسْرَعْتُ لِأَسْمَعَ كَلَامَهُ، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ قَبْلَ أَنْ أَبْلُغَ وَقَالَ مَرَّةً: قَبْلَ أَنْ أَنْتَهِيَ إِلَيْهِمْ، فَسَأَلْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ: مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنَّهُ" نَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ، وَالدُّبَّاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک مرتبہ منبر پر جلوہ افروز دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتے ہی میں تیزی سے مسجد میں داخل ہوا، اور ایک جگہ جا کر بیٹھ گیا لیکن ابھی کچھ سننے کا موقعہ نہ ملا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5477]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م :1197.
الحكم: إسناده صحيح ، م :1197.
حدیث نمبر: 5478 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ، وَنَحْنُ نَسِيرُ مَعَهُ، وَمَعَهُ حَفْصُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، وَمُسَاحِقُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خِدَاشٍ، فَغَابَتْ لَنَا الشَّمْسُ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: الصَّلَاةَ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ الْآخَرُ: الصَّلَاةَ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُ، فَقَالَ نَافِعٌ: فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ"، فَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: فَسِرْنَا أَمْيَالًا، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، قَالَ يَحْيَى: فَحَدَّثَنِي نَافِعٌ: هَذَا الْحَدِيثَ مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ: سِرْنَا إِلَى قَرِيبٍ مِنْ رُبُعِ اللَّيْلِ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ہم لوگ مکہ مکرمہ سے آ رہے تھے ان کے ساتھ حفص بن عاصم اور مساحق بن عمرو بھی تھے ہم لوگ چلتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، ان میں سے ایک نے کہا نماز سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کوئی بات نہیں کی (پھر دوسرے نے یاد دہانی کرائی لیکن انہوں نے اسے بھی کوئی جواب نہ دیا پھر میں نے ان سے کہا نماز تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب انہیں سفر کی جلدی ہوتی تھی تو وہ ان دونوں نمازوں کو جمع کر لیتے تھے میرا ارادہ ہے کہ میں بھی انہیں جمع کر لوں گا چنانچہ ہم نے کئی میل کا سفر طے کر لیا پھر اتر کر انہوں نے نماز پڑھی ایک دوسرے موقع پر نافع نے ربع میل کا ذکر کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5478]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ :1805.
الحكم: إسناده صحيح ، خ :1805.
حدیث نمبر: 5479 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سَالِمٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ الْكَلْبِيِّ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ:" مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ پہلے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے تاآنکہ قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہو گئی کہ انہیں ان کے باپ کی طرف نسبت کر کے پکارا کرو کیونکہ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5479]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 4782، م :2425.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 4782، م :2425.
حدیث نمبر: 5480 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5480]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ :1180.
الحكم: إسناده صحيح ، خ :1180.
حدیث نمبر: 5481 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ، أَمْرٌ مُبْتَدَعٌ أَوْ مُبْتَدَأٌ، أَوْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟ قَالَ:" أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، فَاعْمَلْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَإِنَّ كُلًّا مُيَسَّرٌ، فَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ، فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ، فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! ہم جو عمل کرتے ہیں کیا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ہے؟ فرمایا: نہیں! بلکہ وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے لہٰذا، اے ابن خطاب! عمل کرتے رہو کیونکہ جو شخص جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اسے اس کے اسباب مہیا کر دئیے جاتے ہیں اور وہ عمل اس کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے، چنانچہ اگر وہ اہل سعادت میں سے ہو تو وہ سعادت والے اعمال کرتا ہے اور اہل شقاوت میں سے ہو تو بدبختی والے اعمال کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5481]
حکم دارالسلام
حسن لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله .
الحكم: حسن لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله .
حدیث نمبر: 5482 مسند احمد
مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی سے ہے کہ ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5482]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م :844.
الحكم: إسناده صحيح ، م :844.
حدیث نمبر: 5483 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عُقْبَةَ بْنَ حُرَيْثٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ حُرَيْثٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا رَأَيْتَ أَنَّ الصُّبْحَ يُدْرِكُكَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ"، قَالَ: فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: مَا مَثْنَى مَثْنَى؟ قَالَ: تُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو، کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ دو دو کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ کہ ہر دو رکعتوں پر سلام پھیر دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5483]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م :749.
الحكم: إسناده صحيح ، م :749.
حدیث نمبر: 5484 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ"، وَطَبَّقَ شُعْبَةُ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَكَسَرَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ، قَالَ عُقْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ:" وَالشَّهْرُ ثَلَاثُونَ"، وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بعض اوقات مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے، تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انگوٹھا بند کر لیا اور بعض اوقات اتنا اتنا اور اتنا ہوتا ہے یعنی پورے ٣٠ کا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5484]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م :1080.
الحكم: إسناده صحيح ، م :1080.
حدیث نمبر: 5485 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ، فَلَا يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو آخری عشرے میں تلاش کیا کرو اگر اس سے عاجز آ جاؤ یا کمزور ہو جاؤ تو آخری سات راتوں پر مغلوب نہ ہونا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5485]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م :1165.
الحكم: إسناده صحيح ، م :1165.
حدیث نمبر: 5486 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ" أَهَلْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: زَعَمُوا ذَلِكَ، فَقُلْتُ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى؟ فَقَالَ: قَدْ زَعَمُوا ذَلِكَ، فَقُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ؟ فَقَالَ: قَدْ زَعَمُوا ذَلِكَ"، فَصَرَفَهُ اللَّهُ عَنِّي، وَكَانَ إِذَا قِيلَ لِأَحَدٍهم أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ غَضِبَ، وَهَمَّ يُخَاصِمُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا مٹکے کی نبیذ سے ممانعت کی گئی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ان کا یہی کہنا ہے میں نے پوچھا کن کا کہنا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انہوں نے فرمایا: ان کا یہی کہنا ہے میں نے دوبارہ یہی سوال پوچھا اور انہوں نے یہی جواب دیا، بس اللہ نے مجھے اس دن ان سے بچا لیا کیونکہ جب ان سے کوئی شخص یہ پوچھتا کہ واقعی آپ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے تو وہ غصے میں آ جاتے تھے اور اس شخص کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5486]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م :1997.
الحكم: إسناده صحيح ، م :1997.
حدیث نمبر: 5487 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَيُّوبَ يَعْنِي السَّخْتِيَانِيَّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ يَعْنِي السَّخْتِيَانِيَّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ، فَثَمَرَتُهَا لِرَبِّهَا الْأَوَّلِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی ایسے درخت کو فروخت کرے جس میں کھجوروں کی پیوندکاری کی گئی ہو تو اس کا پھل بائع (بچنے والا) کی ملیکت میں ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) خریدتے وقت اس کی بھی شرط لگا دے (کہ میں یہ درخت پھل سمیت خرید رہا ہوں)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5487]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2206، م :1543.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2206، م :1543.