بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 24 از 102
حدیث نمبر: 4908 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَرَأَى فِي الْقِبْلَةِ نُخَامَةً، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ، وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَسْتَقْبِلُهُ بِوَجْهِهِ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْقِبْلَةِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ دَعَا بِعُودٍ فَحَكَّهُ، ثُمَّ دَعَا بِخَلُوقٍ فَخَضَبَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوران نماز مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے ناراض ہو کر فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے، تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے۔ اور نہ ہی دائیں جانب، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لکڑی منگوا کر اس سے اسے ہٹا دیا اور خلوق نامی خوشبو منگوا کر وہاں لگا دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4908]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 4909 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مَرَّةً، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَأَنَا أَشُكُّ" يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فجر سے پہلے کی سنتوں میں بیسیوں مرتبہ سورۃ کافروں اور سورۃ اخلاص پڑھی ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4909]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4910 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، شَيْخٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
رقم الحديث: 4769
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا الَّذِي يَجُوزُ فِي الرَّضَاعِ مِنَ الشُّهُودِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَجُلٌ أَوْ امْرَأَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے یا کسی اور آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ رضاعت کے ثبوت کے لئے کتنے گواہوں کا ہونا کافی ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک مرد اور ایک عورت۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4910]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا لضعف الشيخ من أهل نجران، وهو محمد ابن عثيم.
الحكم: إسناده ضعيف جدا لضعف الشيخ من أهل نجران، وهو محمد ابن عثيم.
حدیث نمبر: 4911 مسند احمد
ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُعْتَمِرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُثَيْمٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَنْ مُعْتَمِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثَيْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَعْنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4911]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا كسابقه، محمد بن عثيم مجمع على ضعفه .
الحكم: إسناده ضعيف جدا كسابقه، محمد بن عثيم مجمع على ضعفه .
حدیث نمبر: 4912 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُعْتَمِرٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُثَيْمٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْدُ الله بْنِ أحْمَدَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثَيْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَا يَجُوزُ فِي الرَّضَاعَةِ مِنَ الشُّهُودِ؟ قَالَ: رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے یا کسی اور آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ رضاعت کے ثبوت کے لئے کتنے گواہوں کا ہونا کافی ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک مرد اور ایک عورت۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4912]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، وهو مكرر ما قبله .
الحكم: إسناده ضعيف جدا، وهو مكرر ما قبله .
حدیث نمبر: 4913 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ، فَقَالَ:" أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْبَذَ فِي الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ؟ قَالَ: نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے اور کدو کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4913]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1997.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1997.
حدیث نمبر: 4914 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، ابْنَ عُمَرَ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى عَنِ الْجَرِّ وَالْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ. قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُنْبَذُ لَهُ فِيهِ، نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مٹکے اور کدو کے برتن کو استعمال کر نے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہ حدیث اس اضافے کے ساتھ سنی ہے کہ اگر کوئی ایسا برتن نہ ملتا جس میں نبیذ بنائی جا سکے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے پتھر کے برتن میں نبیذ بنا لی جاتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4914]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1998.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1998.
حدیث نمبر: 4915 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ،" عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟ فَقَالَ: حَرَامٌ، فَقُلْتُ: أَنَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: يَزْعُمُونَ ذَلِكَ!!".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: وہ حرام ہے میں نے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، لوگ یہی کہتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4915]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1997.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1997.
حدیث نمبر: 4916 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ مَاتَ وَهُوَ يَشْرَبُهَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا، حَرَّمَهَا اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دنیا میں شراب پیئے اور اس سے توبہ نہ کرے تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا اور وہاں اسے شراب نہیں پلائی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4916]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4917 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَإِنْ تَابَ، تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ نَهَرِ الْخَبَالِ"، قِيلَ: وَمَا نَهَرُ الْخَبَالِ؟ قَالَ:" صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص شراب نوشی کرے اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہ ہو گی، اگر توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ کو قبول فرمائے گا دوسری مرتبہ بھی توبہ قبول ہو جائے گی، تیسری مرتبہ ایسا کرنے پر اللہ کے ذمہ حق ہے کہ وہ اسے نہرخبال کا پانی پلائے، لوگوں نے پوچھا کہ نہرخبال کیا چیز ہے؟ فرمایا: جہاں اہل جہنم کی پیپ جمع ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4917]
حکم دارالسلام
حديث حسن، عطاء بن السائب كان قد اختلط ، معمر بن راشد بصري، ورواية صغار البصريين عنه ضعيفة، لأنه قدم عليهم البصرة فى آخر عمره بعد ما أختلط، لكن رواه عنه حماد بن زيد، وهو ممن روى عنه قديما قبل اختلاطه، فحسنا حديثه لذلك.
الحكم: حديث حسن، عطاء بن السائب كان قد اختلط ، معمر بن راشد بصري، ورواية صغار البصريين عنه ضعيفة، لأنه قدم عليهم البصرة فى آخر عمره بعد ما أختلط، لكن رواه عنه حماد بن زيد، وهو ممن روى عنه قديما قبل اختلاطه،
حدیث نمبر: 4918 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام میں وٹے سٹے کے نکاح کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4918]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5112، م: 1415.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5112، م: 1415.
حدیث نمبر: 4919 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَرَّتَيْنِ، بَيْنَهُمَا جَلْسَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے دیتے تھے اور دونوں کے درمیاں ذرا سا وقفہ کر کے بیٹھ جاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4919]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 920، م: 861.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 920، م: 861.
حدیث نمبر: 4920 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ:" مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ، فَلْيَغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4920]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 844.
الحكم: إسناده صحيح، م: 844.
حدیث نمبر: 4921 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4921]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1180.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1180.
حدیث نمبر: 4922 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
رقم الحديث: 4780
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ" سَأَلَ عُمَرُ عَنْ نَذْرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، اعْتِكَافُ يَوْمٍ؟ فَأَمَرَهُ بِهِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: وَبَعَثَ مَعِي بِجَارِيَةٍ كَانَ أَصَابَهَا يَوْمَ حُنَيْنٍ، قَالَ: فَجَعَلْتُهَا فِي بَعْضِ بُيُوتِ الْأَعْرَابِ حِينَ نَزَلْتُ،" فَإِذَا أَنَا بِسَبْيِ حُنَيْنٍ قَدْ خَرَجُوا يَسْعَوْنَ، يَقُولُونَ: أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ: اذْهَبْ فَأَرْسِلْهَا، قَالَ: فَذَهَبْتُ فَأَرْسَلْتُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب غزوہ حنین سے واپس آ رہے تھے تو راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے زمانہ جاہلیت کی اس منت کی متعلق پوچھا جو انہوں نے ایک دن کے اعتکاف کے حوالے سے مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنی منت پوری کر نے کا حکم دیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو گئے اور میرے ساتھ اپنی اس باندی کو بھیج دیا جو انہیں غزوہ حنین میں ملی تھی، میں نے اسے ایک دیہاتی کے گھر میں ٹھہرایا اچانک میں نے دیکھا کہ غزوہ حنین کے ساری قیدی نکل کر بھاگے چلے جا رہے ہیں اور کہتے جا رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں آزاد کر دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی عبداللہ سے کہا کہ جا کر اسے آزاد کر دو چنانچہ میں نے جا کر اس باندی کو بھی چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4922]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4320، م: 1656.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4320، م: 1656.
حدیث نمبر: 4923 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْقُرْآنِ إِذَا عَاهَدَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ، فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ لَهُ إِبِلٌ، فَإِنْ عَقَلَهَا حَفِظَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَهَا ذَهَبَتْ، فَكَذَلِكَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جسے اس کا مالک اگر باندھ کر رکھے تو وہ اس کے قابو میں رہتا ہے اور اگر کھلا چھوڑ دے تو وہ نکل جاتا ہے اسی طرح صاحب قرآن کی مثال ہے جو اسے دن رات پڑھتا رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4923]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 789.
الحكم: إسناده صحيح، م: 789.
حدیث نمبر: 4924 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا حَسَدَ إِلَّا عَلَى اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ، فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ سوائے دو آدمیوں کے کسی اور پر حسد (رشک) کرنا جائز نہیں ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن کی دولت دی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت میں مصروف رہتا ہو اور دوسرا وہ آدمی ہے جسے اللہ نے مال و دولت عطاء فرمایا ہو اور اسے راہ حق میں لٹانے پر مسلط کر دیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4924]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7529، م: 815.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7529، م: 815.
حدیث نمبر: 4925 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ، فِي التِّسْعِ الْغَوَابِرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شب قدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4925]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4926 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: كَانَ مَرَّةً يَقُولُ: ابْنِ مُحَمَّدٍ، وَمَرَّةً يَقُولُ ابْنِ رَبِيعَة، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، وَهُوَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلَا وَإِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّهَا تَحْتَ قَدَمَيَّ الْيَوْمَ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِدَانَةِ الْبَيْتِ وَسِقَايَةِ الْحَاجِّ، أَلَا وَإِنَّ مَا بَيْنَ الْعَمْدِ وَالْخَطَإِ وَالْقَتْلِ بِالسَّوْطِ وَالْحَجَرِ فِيهَا مِئَةُ بَعِيرٍ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فتح مکہ کہ دن خانہ کعبہ کی سیڑھیوں پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو تن تنہا شکست دی، یاد رکھو! زمانہ جاہلیت کا ہر تفاخر، ہر خون اور ہر دعویٰ میرے ان دو قدموں کے نیچے ہے، البتہ حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی کلید برداری کا جو عہدہ ہے میں اسے ان عہدوں کے حاملین کے لیے برقرار رکھتا ہوں، یاد رکھو! لکڑی یا لاٹھی سے مقتول ہو جانے والے کی دیت سو اونٹ ہے، بعض اسانید کے مطابق اس میں دیت مغلظہ ہے جن میں چالیس حاملہ اونٹیاں بھی ہوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4926]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان.
حدیث نمبر: 4927 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ: الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نحوست تین چیزوں میں ہو سکتی تھی، گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4927]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2225.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2225.