بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 86 از 102
حدیث نمبر: 6148 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" أَرَأَيْتُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ، فَإِنَّ رَأْسَ مِئَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اپنی زندگی کے آخری ایام میں) ایک مرتبہ عشاء کی نماز پڑھائی یہ وہی نماز ہے جسے لوگ " عتمہ " بھی کہتے ہیں جب سلام پھیر چکے تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کہ آج کی رات کو یاد رکھنا کیونکہ اس کے پورے سو سال بعد روئے زمین پر جو آج موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی باقی نہ بچے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6148]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 116، م: 2537 .
الحكم: حديث صحيح، خ: 116، م: 2537 .
حدیث نمبر: 6149 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، أَبِي ، جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ , حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مَعَ صَاحِبِهِ، فَلَا يَقْرِنَنَّ حَتَّى يَسْتَأْمِرَهُ" يَعْنِي: التَّمْرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ایک ساتھ کئی کھجوریں مت کھایا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6149]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 6150 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَبِي ، جَبَلَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَبَلَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6150]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2085 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2085 .
حدیث نمبر: 6151 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِعَرَفَاتٍ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ رَاحَ رُحْتُ مَعَهُ، حَتَّى أَتَى الْإِمَامَ، فَصَلَّى مَعَهُ الْأُولَى وَالْعَصْرَ، ثُمَّ وَقَفَ مَعَهُ وَأَنَا وَأَصْحَابٌ لِي، حَتَّى أَفَاضَ الْإِمَامُ فَأَفَضْنَا مَعَهُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَضِيقِ دُونَ الْمَأْزِمَيْنِ، فَأَنَاخَ وَأَنَخْنَا، وَنَحْنُ نَحْسَبُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ، فَقَالَ غُلَامُهُ الَّذِي يُمْسِكُ رَاحِلَتَهُ: إِنَّهُ لَيْسَ يُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمَّا انْتَهَى إِلَى هَذَا الْمَكَانِ قَضَى حَاجَتَهُ، فَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے کہ میں میدان عرفات میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا جب وہ روانہ ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا وہ امام کے پاس پہنچے اور اس کے ساتھ ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی پڑھی پھر اس کے ساتھ وقوف کیا میں اور میرے کچھ ساتھی بھی ان کے ساتھ شریک تھے یہاں تک کہ جب امام روانہ ہوا تو ہم بھی اس کے ساتھ روانہ ہو گئے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ایک تنگ راستے پر پہنچے تو انہوں نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا ہم نے بھی اپنی اونٹنیوں کو بٹھالیا ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ نماز پڑھنا چاہتے ہیں لیکن ان کے غلام نے " جو ان کی سواری کو تھامے ہوئے تھا " بتایا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز نہیں پڑھنا چاہتے دراصل انہیں یہ بات یاد آگئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اس جگہ پر پہنچے تھے تو قضاء حاجت فرمائی تھی اس لئے ان کی خواہش یہ ہے کہ اس سنت کو بھی پورا کرتے ہوئے قضاء حاجت کر لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6151]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 6152 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي مَجْلِسِ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بِمَكَّةَ، فَمَرَّ عَلَيْنَا فَتًى مُسْبِلٌ إِزَارَهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ يَا فَتَى، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا أَحَدُ بَنِي بَكْرِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَتُحِبُّ أَنْ يَنْظُرَ اللَّهُ إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَارْفَعْ إِزَارَكَ إِذَنْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ، وَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ، يَقُولُ:" مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ لَا يُرِيدُ بِهِ إِلَّا الْخُيَلَاءَ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسلم بن یناق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں بنو عبداللہ کی مجلس میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک قریشی نوجوان ٹخنوں سے نیچے شلوار لٹکائے وہاں سے گزرا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے بلایا اور پوچھا تم کس خاندان سے تعلق رکھتے ہو؟ اس نے کہا بنو بکر سے فرمایا: کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ قیامت کے دن تم پر نظر رحم فرمائیں؟ اس نے کہا جی ہاں فرمایا: اپنی شلوار اونچی کرو میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے اپنے ان دو کانوں سے سنا ہے جو شخص صرف تکبر کی وجہ سے اپنی شلوار زمین پر کھینچتا ہے اللہ اس پر قیامت کے دن نظر رحم نہ فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6152]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2085 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2085 .
حدیث نمبر: 6153 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا قَعَدَ يَتَشَهَّدُ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى، عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، وَعَقَدَ ثَلَاثًا وَخَمْسِينَ، وَدَعَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو اپنے بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر اور دائیں ہاتھ کو دائیں گھٹنے پر رکھ لیتے اور ٥٣ کا عدد بتانے والی انگلی کو بند کر لیتے اور دعاء فرماتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6153]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 580 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 580 .
حدیث نمبر: 6154 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ أَيَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعَمَلُ فِيهِنَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ، فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنَ التَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عشرہ ذی الحجہ سے بڑھ کر کوئی دن اللہ کی نگاہوں میں معظم نہیں اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی اور دن میں اعمال اتنے زیادہ پسند ہیں اس لئے ان دنوں میں تہلیل و تکبیر اور تحمید کی کثرت کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6154]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد .
حدیث نمبر: 6155 مسند احمد
عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، وَأَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، وَأَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُسَبِّحُ وَهُوَ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ، لَا يُبَالِي حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ، وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ إِيمَاءً"، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر " خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے اور سر سے اشارہ فرماتے تھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6155]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1105، م: 700 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1105، م: 700 .
حدیث نمبر: 6156 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي، فَقَالَ:" اعْبُدْ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، وَكُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ میرے جسم کے کسی حصے کو پکڑ کر فرمایا: اللہ کی عبادت اس طرح کیا کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی مسافر یا راہ گزر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6156]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 6157 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ , سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَيَتَوَضَّأُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا اگر کوئی آدمی اختیاری طور پر ناپاک ہو جائے تو کیا اسی حال میں سو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! وضو کر لے اور سو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6157]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 287، م: 306 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 287، م: 306 .
حدیث نمبر: 6158 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُطَّلِبِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُطَّلِبِ الْمَخْزُومِيُّ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ :" كَانَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا" , وَيُسْنِدُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6158]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كما سلف برقم: 4534، وروي موقوفا وهو أصح .
الحكم: إسناده ضعيف كما سلف برقم: 4534، وروي موقوفا وهو أصح .
حدیث نمبر: 6159 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقْبَلَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى، فَصَلَّى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ، فَرَكَعَ لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صلوۃ الخوف اس طرح پڑھائی ہے کہ ایک گروہ کو اپنے پیچھے کھڑا کر کے ایک رکوع اور دو سجدے کروائے دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جس گروہ نے ایک رکعت پڑھی تھی وہ چلا گیا اور دوسرا گروہ آگیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے کروائے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیر دیا اس کے بعد دونوں گروہوں کے ہر آدمی نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک رکعت دو سجدوں کے ساتھ پڑھ لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6159]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4535، م: 839 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4535، م: 839 .
حدیث نمبر: 6160 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَعِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنُ ثَوْبَانَ ، أَبِيهِ ، مَكْحُولٍ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَعِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ نزع کی کیفیت طاری ہونے سے پہلے تک بھی قبول فرما لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6160]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل ثوبان .
الحكم: إسناده حسن من أجل ثوبان .
حدیث نمبر: 6161 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ ، شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا، أَوْ سَافَرَ، فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ، قَالَ:" يَا أَرْضُ، رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ، وَشَرِّ مَا فِيكِ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَيْكِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ، وَحَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر کسی سفریا غزوہ میں ہوتے اور رات کا وقت آجاتا تو یہ دعا فرماتے کہ اے زمین میرا اور تیرا رب اللہ ہے میں تیرے شر تجھ میں موجود شر تیرے اندر پیدا کی گئی چیزوں کے شر اور تجھ پر چلنے والوں کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں میں ہر شیر اور کالی چیز سے سانپ اور بچھو سے اہلیان شہر کے شر سے اور والد اور اولاد کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6161]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف للزبير بن الوليد .
الحكم: إسناده ضعيف للزبير بن الوليد .
حدیث نمبر: 6162 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، عُمَرُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عُثْمَانَ الْأُحْمُوسِيُّ ، الْمُخَارِقُ بْنُ أَبِي الْمُخَارِق ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عُثْمَانَ الْأُحْمُوسِيُّ ، حَدَّثَنِي الْمُخَارِقُ بْنُ أَبِي الْمُخَارِق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدَنَ , وَعَمَّانَ، أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ، أَكْوَابُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا، أَوَّلُ النَّاسِ عَلَيْهِ وُرُودًا صَعَالِيكُ الْمُهَاجِرِينَ"، قَالَ قَائِلٌ: وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ، الشَّحِبَةُ وُجُوهُهُمْ، الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ، لَا يُفْتَحُ لَهُمْ السُّدَدُ، وَلَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَلَا يَأْخُذُونَ الَّذِي لَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرا حوض عدن اور عمان کے درمیانی فاصلے جتنا بڑا ہے اس کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا شہد سے زیادہ شریں اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے اس کے آبخورے آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں جو شخص اس کا ایک گھونٹ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور سب سے پہلے اس حوض پر آنے والے پھکڑ مہاجرین ہوں گے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا: پراگندہ بال دھنسے ہوئے چہروں اور میلے کچیلے کپڑوں والے جن کے لئے دنیا میں دروازے نہیں کھولے جاتے ناز و نعمت میں پلی ہوئی لڑکیوں سے ان کا رشتہ قبول نہیں کیا جاتا اور جو اپنی ہر ذمہ داری پوری کرتے ہیں اور اپنا حق وصول نہیں کرتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6162]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف .
حدیث نمبر: 6163 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، حِينَ يُكَبِّرُ وَيَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ، وَحِينَ يَرْكَعُ، وَحِينَ يَسْجُدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکبیر کہہ کرنماز شروع کرتے وقت اور رکوع سجدہ کرتے وقت کندھوں کے برابر رفع یدین کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6163]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون رفع اليدين عند السجود، وهذا إسناد ضعيف .
الحكم: حديث صحيح دون رفع اليدين عند السجود، وهذا إسناد ضعيف .
حدیث نمبر: 6164 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6164]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون رفع اليدين عند السجود، وهذا إسناد ضعيف .
الحكم: حديث صحيح دون رفع اليدين عند السجود، وهذا إسناد ضعيف .
حدیث نمبر: 6165 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ ، ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِمُدْيَةٍ , وَهِيَ الشَّفْرَةُ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَأَرْسَلَ بِهَا، فَأُرْهِفَتْ، ثُمَّ أَعْطَانِيهَا، وَقَالَ:" اغْدُ عَلَيَّ بِهَا"، فَفَعَلْتُ، فَخَرَجَ بِأَصْحَابِهِ إِلَى أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ، وَفِيهَا زِقَاقُ خَمْرٍ قَدْ جُلِبَتْ مِنَ الشَّامِ، فَأَخَذَ الْمُدْيَةَ مِنِّي، فَشَقَّ مَا كَانَ مِنْ تِلْكَ الزِّقَاقِ بِحَضْرَتِهِ، ثُمَّ أَعْطَانِيهَا، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ أَنْ يَمْضُوا مَعِي، وَأَنْ يُعَاوِنُونِي، وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْأَسْوَاقَ كُلَّهَا، فَلَا أَجِدُ فِيهَا زِقَّ خَمْرٍ إِلَّا شَقَقْتُهُ، فَفَعَلْتُ، فَلَمْ أَتْرُكْ فِي أَسْوَاقِهَا زِقًّا إِلَّا شَقَقْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے چھری لانے کا حکم دیا میں لے آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تیز کرنے کے لئے بھیج دیا اس کے بعد وہ چھری مجھے دیتے ہوئے فرمایا: کہ یہ چھری صبح کے وقت میرے پاس لے کر آنا میں نے ایسا ہی کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ کے بازاروں میں نکلے جہاں شام سے درآمد کئے گئے شراب کے مشکیزے لٹک رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے ہاتھ سے چھری لی اور جو مشکیزہ بھی سامنے نظر آیا اسے چاک کر دیا اس کے بعد وہ چھری مجھے عطاء فرمائی اور اپنے ساتھ موجود صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ کو میرے ساتھ جانے اور میرے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیا اور مجھ سے فرمایا: کہ میں سارے بازاروں کا چکر لگاؤں اور جہاں کہیں بھی شراب کا کوئی مشکیزہ پاؤں اسے چاک کر دوں چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور بازاروں میں کوئی مشکیزہ ایسا نہ چھوڑا جسے میں نے چاک نہ کر دیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6165]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر بن أبى مريم الغساني .
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر بن أبى مريم الغساني .
حدیث نمبر: 6166 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ : أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ، فَقَالَ: اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: مَا جِئْتُ لِأَجْلِسَ عِنْدَكَ، وَلَكِنْ جِئْتُ أُخْبِرُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، أَوْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ، مَاتَ مِيتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے یہاں گیا، اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو خوش آمدید کہا اور لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں تکیہ پیش کرو، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ میں آپ کو ایک حدیث سنانے آیاہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت سے ہاتھ کھینچتا ہے قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص " جماعت " کو چھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6166]
حکم دارالسلام
حديث صحيح .
الحكم: حديث صحيح .
حدیث نمبر: 6167 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، نَافِعًا ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّمَا يُحْسَدُ مَنْ يُحْسَدُ، أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، عَلَى خَصْلَتَيْنِ رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ تَعَالَى الْقُرْآنَ، فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَهُوَ يُنْفِقُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ ارشادنبوی منقول ہے کہ سوائے دو آدمیوں کے کسی اور پر حسد (رشک) کرنا جائز نہیں ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن کی دولت دی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت میں مصروف رہتاہو اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال و دولت عطاء فرمایا: ہو اور اسے راہ حق میں لٹانے پر مسلط کر دیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6167]
حکم دارالسلام
حديث قوي .
الحكم: حديث قوي .