بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 42 از 102
حدیث نمبر: 5268 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا"، قَالَ بَهْزٌ: أَتُحْتَسَبُ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا: اسے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے، جب وہ پاک ہو جائے تو ان ایام طہارت میں اسے طلاق دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5268]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5252 ، م : 1471 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5252 ، م : 1471 .
حدیث نمبر: 5269 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ :" قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ سورة الطلاق آية 1 فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ایمن رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایام کی حالت میں طلاق کا مسئلہ پوچھا، ابو الزبیر یہ باتیں سن رہے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ احزاب کی یہ آیت اس طرح بھی پڑھی ہے، اے نبی! جب آپ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت کے آغاز میں طلاق دو (ایام طہر میں طلاق دینا مراد ہے نہ کہ ایام حیض میں)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5269]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1471 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1471 .
حدیث نمبر: 5270 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَحِيضَ غَيْرَ هَذِهِ الْحَيْضَةِ، ثُمَّ تَطْهُرَ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا، فَلْيُطَلِّقْهَا كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا، فَلْيُمْسِكْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو اس کے ایامکی حالت میں طلاق دے دی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی یہ بات بتا دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس سے مطلع کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے چاہیے کہ اسے اپنے پاس ہی رکھے، یہاں تک کہ ان ایام کے علاوہ اسے ایام کا دوسرا دور آ جائے اور وہ اس سے بھی پاک ہو جائے، پھر اگر اسے طلاق دینے کی رائے ہو تو حکم الہٰی کے مطابق اسے طلاق دے دے اور اگر اپنے پاس رکھنے کی رائے ہو تو اپنے پاس رہنے دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5270]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، م : 1471 ، محمد بن أبي حفصة - وإن كان مختلفاً فيه - متابع ، وقد روى له البخاري و مسلم في المتابعات .
الحكم: حديث صحيح ، م : 1471 ، محمد بن أبي حفصة - وإن كان مختلفاً فيه - متابع ، وقد روى له البخاري و مسلم في المتابعات .
حدیث نمبر: 5271 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ:" إِذَا بِعْتَ، فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا، یا رسول اللہ! خرید و فروخت میں لوگ مجھے دھوکہ دے دیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم یوں کہہ لیا کرو کہ اس بیع میں کوئی دھوکہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5271]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1533 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1533 .
حدیث نمبر: 5272 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَنْظَلَةُ ، سَالِمًا ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، سَمِعْتُ سَالِمًا ، وَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ: لَا يَجُوزُ، طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ،" فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا"، فَرَاجَعَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ سے ایک مرتبہ کسی شخص نے پوچھا جو ایام کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ جائز نہیں ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں رجوع کر لینے کا حکم دیا تھا چنانچہ انہوں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5272]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1471 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1471 .
حدیث نمبر: 5273 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَنْظَلَةُ ، طَاوُسًا ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، سَمِعْتُ طَاوُسًا ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمارے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا کہ جب تک پھل پک نہ جائے، اس وقت اسے مت بیچو، جب تک ان کا پکنا واضح نہ ہو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5273]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1535 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1535 .
حدیث نمبر: 5274 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا شَجَرَةٌ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَهِيَ مِثْلُ الْمُؤْمِنِ؟"، أَوْ قَالَ:" الْمُسْلِمِ؟"، قَالَ: فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ النَّخْلَةُ"، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ، فَقَالَ: لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا، كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ مسلمان کی طرح ہوتا ہے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ لوگوں کے ذہن میں جنگل کے مختلف درختوں کی طرف گئے، میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہو سکتا ہے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود ہی فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: اس موقع پر تمہارا بولنا میرے نزدیک فلاں فلاں چیز سے بھی زیادہ پسندیدہ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5274]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 131 ، م : 2811 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 131 ، م : 2811 .
حدیث نمبر: 5275 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ:" إِنَّهُ لَا يَرُدُّ مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منت ماننے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے تقدیر کا تو کوئی فیصلہ بھی نہیں ٹلتا، البتہ بخیل آدمی سے اسی طرح مال نکلوایا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5275]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6608 ، م : 1639 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6608 ، م : 1639 .
حدیث نمبر: 5276 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً بِالْبَلَاطِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہموار زمین میں ایک یہودی مرد و عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5276]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 7543 ، م : 1699 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 7543 ، م : 1699 .
حدیث نمبر: 5277 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَلْقَمَةَ ، رَزِينٍ الْأَحْمَرِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ رَزِينٍ الْأَحْمَرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ، فَأَغْلَقَ الْبَابَ، وَأَرْخَى السِّتْرَ، وَنَزَعَ الْخِمَارَ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، تَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ؟ فَقَالَ:" لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے، دوسرا شخص اس عورت سے نکاح کر لے دروازے بند ہو جائیں اور پردے لٹکا دئیے جائیں، دوپٹا اتر جائے لیکن دخول سے قبل ہی وہ اسے طلاق دے دے تو کیا وہ پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے گی؟ فرمایا: نہیں، جب تک کہ وہ دوسرا شوہر اس کا شہد نہ چکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5277]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف ، علته رزين الأحمري .
الحكم: حديث صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف ، علته رزين الأحمري .
حدیث نمبر: 5278 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ رَزِينٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ، عَنْ رَجُلٍ فَارَقَ امْرَأَتَهُ بِثَلَاثٍ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5278]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف سليمان بن رزين والصواب رزين بن سليمان الأحمري .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف سليمان بن رزين والصواب رزين بن سليمان الأحمري .
حدیث نمبر: 5279 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے آغاز میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر کے رفع یدین کرتے تھے، نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے تھے لیکن دو سجدوں کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رفع یدین نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5279]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 735 ، م : 390 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 735 ، م : 390 .
حدیث نمبر: 5280 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ:" لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلَا مُحَرِّمِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5280]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1943 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1943 .
حدیث نمبر: 5281 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ أَنَا وَرَجُلٌ آخَرُ، فَدَعَا رَجُلًا آخَرَ، ثُمَّ قَالَ: اسْتَرْخِيَا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَنْتَجِيَ اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ کہتے کہ ایک مرتبہ میں اور دوسرا شخص سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، انہوں نے دوسرے آدمی کو بلایا اور فرمایا: تم دونوں نرمی کیا کرو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ایک آدمی کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشیاں کر نے لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5281]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6288 ، م : 2183 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6288 ، م : 2183 .
حدیث نمبر: 5282 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، وَشُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَشُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ يُلَقِّنُنَا، أَوْ يُلَقِّفُنَا:" فِيمَا اسْتَطَعْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بات سننے اور اطاعت کر نے کی شرط پر بیعت لیا کرتے تھے پھر فرماتے تھے کہ حسب استطاعت، (جہاں تک ممکن ہو گا تم بات سنو گے اور مانو گے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5282]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 7202 ، م : 1867 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 7202 ، م : 1867 .
حدیث نمبر: 5283 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ:" تَحَرَّوْهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5283]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5284 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا نَتَّقِي كَثِيرًا مِنَ الْكَلَامِ وَالِانْبِسَاطِ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَخَافَةَ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا الْقُرْآنُ، فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں زیادہ بات چیت اور اپنی بیویوں کے ساتھ مکمل بےتکلفی سے بچا کرتے تھے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے متعلق قرآن میں کوئی احکام جاری ہو جائیں، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا تب ہم نے کلام کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5284]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5187 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5187 .
حدیث نمبر: 5285 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلال رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5285]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 620 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 620 .
حدیث نمبر: 5286 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَنْفَالِ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم میں گھوڑے کے دو حصے اور سوار کا ایک حصہ مقرر فرمایا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5286]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2863 ، م : 1762 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2863 ، م : 1762 .
حدیث نمبر: 5287 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نماز مزدلفہ میں اکٹھی پڑھائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5287]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1287 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1287 .