عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَلْقَمَةَ ، رَزِينٍ الْأَحْمَرِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ رَزِينٍ الْأَحْمَرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ، فَأَغْلَقَ الْبَابَ، وَأَرْخَى السِّتْرَ، وَنَزَعَ الْخِمَارَ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، تَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ؟ فَقَالَ:" لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے، دوسرا شخص اس عورت سے نکاح کر لے دروازے بند ہو جائیں اور پردے لٹکا دئیے جائیں، دوپٹا اتر جائے لیکن دخول سے قبل ہی وہ اسے طلاق دے دے تو کیا وہ پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے گی؟ فرمایا: ”نہیں، جب تک کہ وہ دوسرا شوہر اس کا شہد نہ چکھ لے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5277]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف ، علته رزين الأحمري .
الحكم: حديث صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف ، علته رزين الأحمري .