عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا شَجَرَةٌ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَهِيَ مِثْلُ الْمُؤْمِنِ؟"، أَوْ قَالَ:" الْمُسْلِمِ؟"، قَالَ: فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ النَّخْلَةُ"، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ، فَقَالَ: لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا، كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ مسلمان کی طرح ہوتا ہے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ لوگوں کے ذہن میں جنگل کے مختلف درختوں کی طرف گئے، میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہو سکتا ہے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود ہی فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: اس موقع پر تمہارا بولنا میرے نزدیک فلاں فلاں چیز سے بھی زیادہ پسندیدہ تھا۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5274]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 131 ، م : 2811 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 131 ، م : 2811 .