بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 46 از 102
حدیث نمبر: 5348 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عبد الله ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حدثنا عبد الله ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَبَّقَ بِالْخَيْلِ وَرَاهَنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ منعقد کروایا اور ایک جگہ مقرر کر کے شرط لگائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5348]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5349 مسند احمد
عَتَّابٌ ، أَبُو حَمْزَةَ يَعْنِي السُّكَّرِيَّ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، صَدَقَةَ الْمَكِّيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ يَعْنِي السُّكَّرِيَّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صَدَقَةَ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَاتُّخِذَ لَهُ فِيهِ بَيْتٌ مِنْ سَعَفٍ، قَالَ: فَأَخْرَجَ رَأْسَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ بِمَا يُنَاجِي رَبَّهُ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کھجور کی شاخوں سے ایک خیمہ بنادیا گیا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں سے سر نکالا اور ارشاد فرمایا: جو شخص بھی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے درحقیقت وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، اس لئے تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تم اپنے رب سے کیا مناجات کر رہے ہو؟ اور تم نماز میں ایک دوسرے سے اونچی قرأت نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5349]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، ابن أبي ليلى-وإن كان سيء الحفظ- قد تابعه معمر بن راشد فيما مضى برقم : 4928 .
الحكم: حديث صحيح ، ابن أبي ليلى-وإن كان سيء الحفظ- قد تابعه معمر بن راشد فيما مضى برقم : 4928 .
حدیث نمبر: 5350 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ، الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ، أَخْبَرَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَرَنَ بَيْنَ حَجَّتِهِ وَعُمْرَتِهِ، أَجْزَأَهُ لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حج و عمرہ کا قران کرے اس کے لئے ان دونوں کی طرف سے ایک ہی طواف کافی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5350]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفا بهذا اللفظ .
الحكم: صحيح موقوفا بهذا اللفظ .
حدیث نمبر: 5351 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ ثَوْبِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ خُيَلَاءَ"، قَالَ مُوسَى: قُلْتُ لِسَالِمٍ: أَذَكَرَ عَبْدُ اللَّهِ:" مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ"؟ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ ذَكَرَ إِلَّا" ثَوْبَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہیں فرمائے گا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک کونا بعض اوقات نیچے لٹک جاتا ہے گو کہ میں کوشش تو بہت کرتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو یہ کام تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5351]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3665 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3665 .
حدیث نمبر: 5352 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5352]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3665 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3665 .
حدیث نمبر: 5353 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَنْزِلُ الدَّجَّالُ فِي هَذِهِ السَّبَخَةِ بِمَرِّ قَنَاةَ، فَيَكُونُ أَكْثَرَ مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْجِعُ إِلَى حَمِيمِهِ، وَإِلَى أُمِّهِ، وَابْنَتِهِ، وَأُخْتِهِ، وَعَمَّتِهِ، فَيُوثِقُهَا رِبَاطًا، مَخَافَةَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ، ثُمَّ يُسَلِّطُ اللَّهُ الْمُسْلِمِينَ عَلَيْهِ، فَيَقْتُلُونَهُ وَيَقْتُلُونَ شِيعَتَهُ، حَتَّى إِنَّ الْيَهُودِيَّ لَيَخْتَبِئُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ أَوْ الْحَجَرِ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوْ الشَّجَرَةُ لِلْمُسْلِمِ: هَذَا يَهُودِيٌّ تَحْتِي، فَاقْتُلْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دجال اس مرقناۃ کی دلدلی زمین میں آ کر پڑاؤ ڈالے گا، اس کے پاس نکل نکل کر جانے والوں میں اکثریت خواتین کی ہو گی اور نوبت یہاں تک جاپہنچے گی کہ ایک آدمی اپنے گھر میں اپنی ماں، بیٹی، بہن اور پھوپھی کے پاس آ کر انہیں اس اندیشے سے کہ کہیں یہ دجال کے پاس نہ چلی جائیں، رسیوں سے باندھ دے گا، پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دجال پر تسلط عطاء فرمائے گا اور وہ اسے اور اس کے ہمنواؤں کو قتل کر دیں گے، حتیٰ کہ اگر کوئی یہودی کسی درخت یا پتھر کے نیچے چھپا ہو گا تو وہ درخت اور پتھر مسلمانوں سے پکار پکار کر کہے گا کہ یہ میرے نیچے یہودی چھپا ہوا ہے، آ کر اسے قتل کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5353]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، فيه محمد بن إسحاق وهو مدلس، وقد عنعن .
الحكم: إسناده ضعيف ، فيه محمد بن إسحاق وهو مدلس، وقد عنعن .
حدیث نمبر: 5354 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ اسْتَغْفَرَ مِائَةَ مَرَّةٍ، ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ"، أَوْ" إِنَّكَ تَوَّابٌ غَفُورٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سو مرتبہ استغفار کرتے ہوئے سنا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ أَوْ إِنَّكَ تَوَّابٌ غَفُورٌ» اے اللہ مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھ پر توجہ فرما، بیشک تو نہایت توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے یا یہ کہ نہایت بخشنے والا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5354]
حکم دارالسلام
حديث صحيح .
الحكم: حديث صحيح .
حدیث نمبر: 5355 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، عَطَاءٌ ، مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، قَالَ: وَقَالَ عَطَاءٌ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكَوْثَرُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، حَافَّتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ، وَالْمَاءُ يَجْرِي عَلَى اللُّؤْلُؤِ وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: کوثر جنت میں ایک نہر ہو گی جس کے دونوں کنارے سونے کے ہوں گے اور اس کا پانی موتیوں پر بہتا ہو گا، نیز اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5355]
حکم دارالسلام
حديث قوي، وهذا إسناد فيه ضعف ، فإن عطاء قد اختلط ، وراويه عنه هنا ورقاء ابن عمر اليشكري، وهو ممن روى عنه بعد الاختلاط، لكن سيأتي برقم : 5913 من طريق حماد بن زيد ، وهو ممن روى عن عطاء قبل الاختلاط.
الحكم: حديث قوي، وهذا إسناد فيه ضعف ، فإن عطاء قد اختلط ، وراويه عنه هنا ورقاء ابن عمر اليشكري، وهو ممن روى عنه بعد الاختلاط، لكن سيأتي برقم : 5913 من طريق حماد بن زيد ، وهو ممن روى عن عطاء قبل الاختلاط.
حدیث نمبر: 5356 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْقَزَعِ فِي الرَّأْسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا ہے، (قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوالیے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5356]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 2120.
الحكم: إسناده صحيح ، م : 2120.
حدیث نمبر: 5357 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَيَقُولُ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا تَوَادَّ اثْنَانِ فَفُرِّقَ بَيْنَهُمَا إِلَّا بِذَنْبٍ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ يَقُولُ:" لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ مِنَ الْمَعْرُوفِ سِتٌّ: يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَنْصَحُهُ إِذَا غَابَ، وَيَشْهَدُهُ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيَتْبَعُهُ إِذَا مَاتَ"، وَنَهَى عَنْ هِجْرَةِ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، اس پر نہ ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے رسوا کرتا ہے۔ اور فرماتے تھے: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی جان ہے، جو دو آدمی بھی آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں اور ان دونوں کے درمیان جدائی ہو جائے تو وہ یقیناً ان میں سے کسی ایک کے گناہ کی وجہ سے ہو گی، اور فرماتے تھے کہ ایک مسلمان آدمی پر اپنے بھائی کے چھ حقوق ہیں، چھینک آنے پر اس کا جواب دے، بیمار ہونے پر اس کی عیادت کرے، اس کی غیر موجودگی میں خیرخواہی کرے، ملاقات ہونے پر اسے سلام کرے، دعوت دینے پر قبول کرے اور فوت ہو جانے پر اس کے جنازے میں شرکت کرے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5357]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف ، لضعف ابن لهيعة .
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف ، لضعف ابن لهيعة .
حدیث نمبر: 5358 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام کو چھوڑ کر میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5358]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف ، لضعف عبدالله بن عمر .
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف ، لضعف عبدالله بن عمر .
حدیث نمبر: 5359 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، الْهُذَيْلُ بْنُ بِلَالٍ ، ابْنِ عُبَيْدٍ ، أَبِي ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا الْهُذَيْلُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ بِمَكَّةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مَعَهُ، فَقَالَ أَبِي : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مَثَلَ الْمُنَافِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالشَّاةِ بَيْنَ الرَّبِيضَيْنِ مِنَ الْغَنَمِ، إِنْ أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحْتَهَا وَإِنْ أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحْتَهَا"، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : كَذَبْتَ، فَأَثْنَى الْقَوْمُ عَلَى أَبِي خَيْرًا، أَوْ مَعْرُوفًا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا أَظُنُّ صَاحِبَكُمْ إِلَّا كَمَا تَقُولُونَ، وَلَكِنِّي شَاهِدٌ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ:" كَالشَّاةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ"، فَقَالَ: هُوَ سَوَاءٌ، فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن عبید رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ کسی مجلس میں بیٹھے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی وہاں تشریف فرما تھے، میرے والد صاحب کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن منافق کی مثال اس بکری کی سی ہو گی جو دو ریوڑوں کے درمیان ہو، اس ریوڑ کے پاس جائے تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں اور اس ریوڑ کے پاس جائے، تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ آپ کو غلطی لگی ہے، ادھر لوگ میرے والد صاحب کی تعریف کر نے لگے، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں بھی تمہارے ساتھی کو ویسا ہی سمجھتا ہوں جیسے تم لوگ کہہ رہے ہو لیکن میں بھی اس مجلس میں موجود تھا جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس موقع پر «غنمين» کا لفظ استعمال کیا تھا، عبید نے فرمایا کہ یہ دونوں برابر ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5359]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف ، لضعف الهذيل بن بلال .
الحكم: إسناد ضعيف ، لضعف الهذيل بن بلال .
حدیث نمبر: 5360 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَتَادَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَابَيْ الْمَكِّيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَابَيْ الْمَكِّيُّ ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، فَقَالَ:" أَلَا أُعَلِّمُكَ تَحِيَّةَ الصَّلَاةِ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا؟" فَتَلَا عَلَيَّ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، يَعْنِي: قَوْلَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فِي التَّشَهُّدِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بابی المکی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں نماز پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا: کیا میں تمہیں تحیۃ الصلوٰۃ نہ سکھاؤں جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے؟ یہ کہہ کر انہوں نے میرے سامنے تشہد کے وہ کلمات پڑھے جو سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5360]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5361 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ:" فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟" قَالَ: لَا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا فَعَلْتُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام:" قَدْ فَعَلَ، وَلَكِنْ قَدْ غُفِرَ لَهُ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، قَالَ حَمَّادٌ: لَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنَ ابْنِ عُمَرَ، بَيْنَهُمَا رَجُلٌ، يَعْنِي: ثَابِتًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی شخص سے پوچھا کہ تم نے یہ کام کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے یہ کام نہیں کیا، اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آ گئے اور کہنے لگے کہ وہ کام تو اس نے کیا ہے لیکن «لا اله الا الله» کہنے کی برکت سے اس کی بخشش ہو گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5361]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه مابين ثابت البناني وبين ابن عمر .
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه مابين ثابت البناني وبين ابن عمر .
حدیث نمبر: 5362 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ فَلْيَمْضِ، وَإِنْ شَاءَ فَلْيَتْرُكْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص قسم کھاتے وقت ان شاء اللہ کہہ لے اسے اختیار ہے، اگر اپنی قسم پوری کرنا چاہئے تو کر لے اور اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو حانث ہوئے بغیر رجوع کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5362]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5363 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5363]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5364 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَبِشْرُ بْنُ عَائِذٍ الْهُذَلِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَبِشْرُ بْنُ عَائِذٍ الْهُذَلِيُّ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ریشمی لباس وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5364]
حکم دارالسلام
إسناده من جهة بكر بن عبدالله المزني صحيح ، وسلف الكلام بشر بن عائذ برقم : 5125 .
الحكم: إسناده من جهة بكر بن عبدالله المزني صحيح ، وسلف الكلام بشر بن عائذ برقم : 5125 .
حدیث نمبر: 5365 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَمَنْ أَتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ، فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَعْلَمُوا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دے دو، جو شخص اللہ کے نام پر سوال کرے اسے عطاء کر دو، جو شخص تمہیں دعوت دے اسے قبول کر لو، جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ دو، اگر بدلہ دینے کے لئے کچھ نہ ملے تو اس کے لئے اتنی دعائیں کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ اتار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5365]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5366 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ يَدِهِ، قَالَ: فَطَرَحَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، اس کا نگینہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں، جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پھینک دیا، لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مہر لگاتے تھے لیکن اسے پہنتے نہیں تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5366]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5865، م :2091.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5865، م :2091.
حدیث نمبر: 5367 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَجِيبُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہیں دعوت دی جائے تو اسے قبول کر لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5367]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5179، م :1429.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5179، م :1429.