بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 28 از 102
حدیث نمبر: 4988 مسند احمد
الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّاسَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُضْرَبُونَ إِذَا ابْتَاعُوا الطَّعَامَ جُزَافًا أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں لوگوں کو اس بات پر مار پڑتی تھی کہ وہ اندازے سے کوئی غلہ خریدیں اور اسی جگہ کھڑے کھڑے اسے کسی اور کے ہاتھ فروخت کر دیں جب تک کہ اسے اپنے خیمے میں نہ لے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4988]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6852، م: 1527.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6852، م: 1527.
حدیث نمبر: 4989 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَيَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَ: أخبرنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَيَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ، وَإِنْ كَانَ لَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ، قَالَ يَزِيدُ: فِي الصُّبْحِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیتے تھے اور خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ہماری امامت کرتے ہوئے سورت صفّٰت (کی چند آیات) پر اکتفاء فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4989]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 4990 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي الْحَدَّادَ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي الْحَدَّادَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي الْقُبُورِ، فَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے مردوں کو قبر میں اتارو تو کہو «بسم الله وعلي ملة رسول الله» ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4990]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، و المحفوظ وقفه من قول ابن عمر.
الحكم: رجاله ثقات، و المحفوظ وقفه من قول ابن عمر.
حدیث نمبر: 4991 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: لَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ، مُسْتَقْبِلًا بَيْتَ الْمَقْدِسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شام کی طرف رخ کر کے دو اینٹوں پر بیٹھے ہوئے قضائے حاجت فرما رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4991]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 149، م: 266.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 149، م: 266.
حدیث نمبر: 4992 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ النَّهَارِ، فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مغرب کی نماز دن کا وتر ہیں سو تم رات کا وتر بھی ادا کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4992]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وهو مكرر: 4847 بهذا الإسناد.
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر: 4847 بهذا الإسناد.
حدیث نمبر: 4993 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَجَّاجٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمِقْدَامِ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمِقْدَامِ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا لَكَ لَا تَرْمُلُ؟ فَقَالَ: قَدْ" رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مقدام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا مروہ کے درمیان سعی میں عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا، اے ابوعبدالرحمن! آپ تیز کیوں نہیں چل رہے؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہاں اپنی رفتار تیز بھی فرمائی اور نہیں بھی فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4993]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، وعبد الملك بن المغيرة الطائفي لم يوثقه غير ابن حبان، وعبد الله بن المقدام لم يرو عنه غير عبد الملك بن المغيرة الطائفي، فهو فى عداد المجهولين.
الحكم: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، وعبد الملك بن المغيرة الطائفي لم يوثقه غير ابن حبان، وعبد الله بن المقدام لم يرو عنه غير عبد الملك بن المغيرة الطائفي، فهو فى عداد المجهولين.
حدیث نمبر: 4994 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، سُلَيْمَانُ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ مَوْلَى مَيْمُونَةَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک دن میں ایک ہی نماز کو دو مرتبہ نہ پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4994]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 4995 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ سَلَمَةَ الشَّيْبَانِيُّ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ سَلَمَةَ الشَّيْبَانِيُّ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُدُمَ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ مَعَ الْأَشَجِّ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَشْرِبَةِ؟" فَنَهَاهُمْ عَنِ الْحَنْتَمِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے اس منبر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ بنو عبدالقیس کا وفد اپنے سردار کے ساتھ آیا، ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشروبات کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حنتم، دباء، اور نقیر سے منع فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4995]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1997.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1997.
حدیث نمبر: 4996 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، بَكْرٍ ، لِابْنِ عُمَرَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرٍ ، قَالَ: ذَكَرْتُ لِابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَنَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ، فَقَالَ: وَهِلَ أَنَسٌ، إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، وَأَهْلَلْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً"، وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ، فَلَمْ يَحِلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بکر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو مغالطہ ہو گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابتداء میں تو حج کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ حج کا ہی احرام باندھا تھا، پھر جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو فرمایا: جس شخص کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو، اسے چاہئے کہ اسے عمرہ بنا لے اور چونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہدی کا جانور تھا اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احرام نہیں کھولا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4996]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4353، م: 1232.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4353، م: 1232.
حدیث نمبر: 4997 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَرْبَعًا تَلَقَّفْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ چار جملے ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حاصل کئے ہیں اور وہ یہ کہ میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں، حکومت بھی آپ ہی کی ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4997]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1184.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1184.
حدیث نمبر: 4998 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَجَّاجٌ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا صَلَاحُهَا؟ قَالَ: إِذَا ذَهَبَتْ عَاهَتُهَا، وَخَلَصَ طَيِّبُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھل پکنے سے پہلے اس کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ!! پھل پکنے سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب اس سے خراب ہونے کا خطرہ دور ہو جائے اور عمدہ پھل چھٹ جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4998]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: يا رسول الله! ماصلاحها؟...... وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج وعطية العوفي، وقد سلف، بإسناد صحيح برقم: 4525 ، وقوله: يا رسول الله ماصلاحها؟ ....... قلنا: الصحيح أن هذا التفسير من قول ابن عمر كما ورد عند البخاري: 1486، ومسلم: 1534.
الحكم: حديث صحيح دون قوله: يا رسول الله! ماصلاحها؟...... وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج وعطية العوفي، وقد سلف، بإسناد صحيح برقم: 4525 ، وقوله: يا رسول الله ماصلاحها؟ ....... قلنا: الصحيح أن هذا التفسير من قول ابن
حدیث نمبر: 4999 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَسْهَمَ لِلرَّجُلِ وَفَرَسِهِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ: سَهْمًا لَهُ، وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (غزوہ خیبر کے موقع پر) مرد اور اس کے گھوڑے کے تین حصے مقرر فرمائے تھے، جن میں سے ایک حصہ مرد کا اور دو حصے گھوڑے کے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4999]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2863، م: 1762.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2863، م: 1762.
حدیث نمبر: 5000 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْرِفُ شَجَرَةً بَرَكَتُهَا كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ النَّخْلَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا درخت جانتا ہوں جس کی برکت مرد مسلم کی طرح ہے، وہ کھجور کا درخت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5000]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4544، م: 2811.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4544، م: 2811.
حدیث نمبر: 5001 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" يُصَلِّي حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ، وَيَتَأَوَّلُ عَلَيْهِ: وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ سورة البقرة آية 144".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری پر ہی نفل نماز پڑھ لیتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا اور فرماتے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے اور وہ اس کی تائید میں یہ آیت پیش کرتے تھے «وحيث ماكنتم فولوا وجوهكم» ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5001]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700.
حدیث نمبر: 5002 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، لَيْثٌ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِي، أَوْ بِبَعْضِ جَسَدِي، وَقَالَ: يا عَبْدَ اللَّهِ،" كُنْ كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ، وَعُدَّ نَفْسَكَ مِنْ أَهْلِ الْقُبُورِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ میرے کپڑے یا جسم کے کسی حصے کو پکڑ کر فرمایا: اے عبداللہ! دنیا میں اس طرح رہو، جیسے کوئی مسافر یا راہ گزر ہوتا ہے اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5002]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 6416 دون قوله: وعد نفسك من أهل القبور فحسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث.
الحكم: صحيح لغيره، خ: 6416 دون قوله: وعد نفسك من أهل القبور فحسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث.
حدیث نمبر: 5003 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْبُرْنُسَ، وَلَا الْقَمِيصَ، وَلَا الْعِمَامَةَ، وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا الْخُفَّيْنِ، إِلَّا أَنْ يَضْطَرَّ، يَقْطَعُهُ مِنْ عِنْدِ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا يَلْبَسُ ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ وَلَا الزَّعْفَرَانُ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ غَسِيلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: محرم قمیض شلوار عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے، اسی طرح ٹوپی یا ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو، وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے دھو لیا گیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5003]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 5794.
الحكم: إسناده صحيح، م: 5794.
حدیث نمبر: 5004 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، مَالِكٍ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مَالِكٍ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الضَّبِّ؟ فَقَالَ:" لَا آكُلُهُ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گوہ کے متعلق سوال پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اس کی ممانعت کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5004]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1943.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1943.
حدیث نمبر: 5005 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، مَالِكٍ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مَالِكٍ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہیے کہ غسل کر کے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5005]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 844.
الحكم: إسناده صحيح، م: 844.
حدیث نمبر: 5006 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَجَّاجٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْدَامِ بْنِ وَرْدٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْدَامِ بْنِ وَرْدٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ " طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمْ يَرْمُلْ، فَقُلْتُ: لِمَ تَفْعَلُ هَذَا؟ قَالَ: فَقَالَ: نَعَمْ، كُلًّا قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ، رَمَلَ وَتَرَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مقدام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا مروہ کے درمیان سعی میں عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا، تو ان سے پوچھا: اے ابوعبدالرحمن! آپ تیز کیوں نہیں چل رہے؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہاں اپنی رفتار تیز بھی فرمائی اور نہیں بھی فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5006]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، حجاج مدلس، وقد عنعن، وعبدالملك، الطائفي لم يوثقه غير ابن حبان، وعبدالله بن مقدام لم يرو عنه غير عبدالملك، ولا يؤثر توثيقه عن أحد.
الحكم: إسناده ضعيف، حجاج مدلس، وقد عنعن، وعبدالملك، الطائفي لم يوثقه غير ابن حبان، وعبدالله بن مقدام لم يرو عنه غير عبدالملك، ولا يؤثر توثيقه عن أحد.
حدیث نمبر: 5007 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، أَبُو جَنَابٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، أخبرنا أَبُو جَنَابٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَئِنْ تَرَكْتُمْ الْجِهَادَ، وَأَخَذْتُمْ بِأَذْنَابِ الْبَقَرِ، وَتَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ، لَيُلْزِمَنَّكُمْ اللَّهُ مَذَلَّةً فِي رِقَابِكُمْ، لَا تَنْفَكُّ عَنْكُمْ حَتَّى تَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ وَتَرْجِعُوا عَلَى مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم نے جہاد کو ترک کر دیا، گائے کی دمیں پکڑنے لگے، عمدہ اور بڑھیا چیزیں خریدنے لگے، تو اللہ تم پر مصائب کو نازل فرمائے گا اور اس وقت تک انہیں دور نہیں کرے گا جب تک تم لوگ توبہ کر کے دین کی طرف واپس نہ آ جاؤ گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5007]
حکم دارالسلام
حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب.
الحكم: حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب.