يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، بَكْرٍ ، لِابْنِ عُمَرَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرٍ ، قَالَ: ذَكَرْتُ لِابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَنَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ، فَقَالَ: وَهِلَ أَنَسٌ، إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، وَأَهْلَلْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً"، وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ، فَلَمْ يَحِلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بکر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو مغالطہ ہو گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابتداء میں تو حج کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ حج کا ہی احرام باندھا تھا، پھر جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو فرمایا: ”جس شخص کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو، اسے چاہئے کہ اسے عمرہ بنا لے اور چونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہدی کا جانور تھا اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احرام نہیں کھولا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4996]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4353، م: 1232.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4353، م: 1232.