بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 60 از 102
حدیث نمبر: 5628 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آشْتَرِي الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ، أَوْ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ؟ قَالَ:" إِذَا اشْتَرَيْتَ وَاحِدًا مِنْهُمَا بِالْآخَرِ، فَلَا يُفَارِقْكَ صَاحِبُكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ میں سونے کو چاندی کے بدلے یا چاندی کو سونے کے بدلے خرید سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم ان دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے کے بدلے وصول کرو تو اس وقت تک اپنے ساتھی سے جدا نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان بیع کا کوئی معاملہ باقی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5628]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد سماك برفعه .
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد سماك برفعه .
حدیث نمبر: 5629 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّاسَ اجْتَمَعُوا، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ قَامَ ابْنُ الْخَطَّابِ، فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَمَا رَأَيْتُ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ خواب میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، فرمایا: میں نے دیکھا کہ لوگ جمع ہیں، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزوری تھی اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائے پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ڈول کھینچے اور وہ ان کے ہاتھ میں آ کر بڑا ڈول بن گیا، میں نے کسی عبقری انسان کو ان کی طرح ڈول بھرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کو سیراب کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5629]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7020، م: 2393 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7020، م: 2393 .
حدیث نمبر: 5630 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَّرَ أُسَامَةَ، بَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ يَعِيبُونَ أُسَامَةَ وَيَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَامَ، كَمَا حَدَّثَنِي سَالِمٌ، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ تَعِيبُونَ أُسَامَةَ وَتَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ، وَقَدْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فِي أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَإِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ كُلِّهِمْ إِلَيَّ، وَإِنَّ ابْنَهُ هَذَا بَعْدَهُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، فَاسْتَوْصُوا بِهِ خَيْرًا، فَإِنَّهُ مِنْ خِيَارِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک موقع پر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو کچھ لوگوں کا امیر مقرر کیا، لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کر رہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کر چکے ہو، حالانکہ، اللہ کی قسم! وہ امارت کا حقدار تھا اور لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اور اب اس کا یہ بیٹا اس کے بعد مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، لہٰذا اس کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے کی وصیت قبول کرو، کیونکہ یہ تمہارا بہترین ساتھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5630]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2426 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2426 .
حدیث نمبر: 5631 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، وَقَالَ: إِنِّي لَا آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ، وَلَا آكُلُ مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کے نشیبی علاقے میں نزول وحی کا زمانہ شروع ہونے سے قبل، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ملاقات زید بن عمرو بن نفیل سے ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے سامنے دسترخوان بچھایا اور گوشت لاکر سامنے رکھا، انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ میں ان جانوروں کا گوشت نہیں کھاتا، جنہیں تم لوگ اپنے بتوں کے نام پر قربان کرتے ہو اور میں وہ چیزیں بھی نہیں کھاتا، جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5631]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3826.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3826.
حدیث نمبر: 5632 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" أُتِيَ وَهُوَ فِي الْمُعَرَّسِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پڑاؤ میں ایک فرشتہ آیا اور کہنے لگا کہ آپ مبارک بطحاء میں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5632]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1535، م: 1346 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1535، م: 1346 .
حدیث نمبر: 5633 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كان شَيْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ شَعَرَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بالوں میں گنتی کے بیس بال سفید تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5633]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك فإنه سيء الحفظ .
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك فإنه سيء الحفظ .
حدیث نمبر: 5634 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، فِرَاسٍ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَصَلَّى الظُّهْرَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّى الْعَصْرَ أَرْبَعًا، وَلَيْسَ بَعْدَهَا شَيْءٌ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ أَرْبَعًا، وَصَلَّى فِي السَّفَرِ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَلَيْسَ بَعْدَهَا شَيْءٌ، وَالْمَغْرِبَ ثَلَاثًا، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر و حضر میں نماز پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضر میں ظہر کی چار رکعتیں اور اس کم بعد دو سنتیں پڑھتے تھے، عصر کی چار رکعتیں اور اس کے بعد کچھ نہیں، مغرب کی تین رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں، اور عشاء کی چار رکعتیں پڑھتے تھے جبکہ سفر میں ظہر کی دو رکعتیں اور اس کے بعد بھی دو رکعتیں، عصر کی دو رکعتیں اور اس کے بعد کچھ نہیں، مغرب کی تین اور اس کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کی دو اور اس کے بعد بھی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5634]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عطية ابن سعد العوفي .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عطية ابن سعد العوفي .
حدیث نمبر: 5635 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، أَبُو هَانِئٍ ، عَبَّاسٍ الْحَجْرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْحَجْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي خَادِمًا يُسِيءُ وَيَظْلِمُ، أَفَأَضْرِبُهُ؟ قَالَ:" تَعْفُو عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا ایک خادم ہے جو میرے ساتھ برا اور زیادتی کرتا ہے، کیا میں اسے مار سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس سے روزانہ ستر مرتبہ درگزر کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5635]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5636 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنُ عُمَرَ يَعْنِي عَبْدَ الْجَبَّارِ الْأَيْلِيَّ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي سُمَيَّةَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ يَعْنِي عَبْدَ الْجَبَّارِ الْأَيْلِيَّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي سُمَيَّةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَأَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَرَى الْمَرْأَةُ فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَتْ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ وَأَنْزَلَتْ، فَلْتَغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے (جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ یا رسول اللہ! اگر عورت بھی خواب میں اس کیفیت سے دوچار ہو جس سے مرد ہوتا ہے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب عورت خواب میں پانی دیکھے اور انزال بھی ہو جائے تو وہ بھی غسل کرے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5636]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالجبار بن عمر الأيلي .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالجبار بن عمر الأيلي .
حدیث نمبر: 5637 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، مُطَرِّفٍ ، زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْنَهُ عَنِ الذَّيْلِ، فَقَالَ:" اجْعَلْنَهُ شِبْرًا"، فَقُلْنَ: إِنَّ شِبْرًا لَا يَسْتُرُ مِنْ عَوْرَةٍ، فَقَالَ:" اجْعَلْنَهُ ذِرَاعًا"، فَكَانَتْ إِحْدَاهُنَّ إِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَتَّخِذَ دِرْعًا أَرْخَتْ ذِرَاعًا، فَجَعَلَتْهُ ذَيْلًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دامن لٹکانے کے متعلق پوچھا، تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک بالشت کے برابر دامن کی اجازت عطاء فرمائی، انہوں نے کہا کہ ایک بالشت سے ستر پوشی نہیں ہوتی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم ایک گز کر لو، چنانچہ جب ان میں سے کوئی خاتون قمیض بنانا چاہتی تو اسے ایک گز لٹکا کر اس کا دامن بنا لیتی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5637]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك .
حدیث نمبر: 5638 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث موقوف) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ،" أَنَّ شَاعِرًا قَالَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ : وَبِلَالُ عَبْدُ اللَّهِ خَيْرُ بِلَالِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: كَذَبْتَ، ذَاكَ بِلَالُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شاعر نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی موجودگی میں ان کے صاحبزادے بلال کی تعریف میں یہ شعر کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بلال ہر بلال سے بہتر ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: تم غلط کہتے ہو یہ شان صرف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بلال کی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5638]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عمر بن حمزة .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عمر بن حمزة .
حدیث نمبر: 5639 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، أَبُو صَخْرٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّأْمِ يُكَاتِبُهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ مَرَّةً عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلَيَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل شام میں سے ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا دوست تھا جو ان سے خط و کتابت بھی کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے خط لکھا کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ تم تقدیر کے بارے میں اپنی زبان کھولتے ہو، آئندہ مجھے خط نہ لکھنا، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو تقدیر کی تکذیب کرتے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5639]
حکم دارالسلام
إسناده حسن .
الحكم: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 5640 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، بِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِذَا اسْتَأْذَنَّكُمْ"، فَقَالَ بِلَالٌ: وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ! فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ: لَنَمْنَعُهُنَّ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب خواتین تم سے مسجدوں میں جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں مساجد کے حصے سے مت روکا کرو، یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیٹا بلال کہنے لگا کہ ہم تو انہیں روکیں گے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم کہہ رہے ہو کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5640]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 442 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 442 .
حدیث نمبر: 5641 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ ، يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّارُ عَدُوٌّ، فَاحْذَرُوهَا"، قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَتَتَبَّعُ نِيرَانَ أَهْلِهِ، فَيُطْفِئُهَا قَبْلَ أَنْ يَبِيتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آگ دشمن ہے اس لئے اس سے بچو، یہی وجہ ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رات کو سونے سے پہلے اپنے گھر میں جہاں بھی آگ جل رہی ہوتی اسے بجھا کر سوتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5641]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5642 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَطَاءٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا، ويَمَنِنَا" مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَفِي مَشْرِقِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ هُنَالِكَ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ وَبَهَا تِسْعَةُ أَعْشَارِ الشَّرِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ یہ دعاء کی کہ اے اللہ! ہمارے شام اور یمن میں برکتیں عطاء فرما، ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے مشرق کے لئے بھی دعاء فرمائیے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہاں سے تو شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے اور دس میں سے نو فیصد شر وہیں سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5642]
حکم دارالسلام
إسناده حسن .
الحكم: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 5643 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ: الْخَمِيسَ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ، وَالِاثْنَيْنِ الَّذِي يَلِيهِ، وَالِاثْنَيْنِ الَّذِي يَلِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے، مہینے کی پہلی جمعرات کو، اگلے ہفتے میں پیر کے دن اور اس سے اگلے ہفتے میں بھی پیر کے دن۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5643]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شريك بن عبد الله سيء الحفظ .
الحكم: إسناده ضعيف، شريك بن عبد الله سيء الحفظ .
حدیث نمبر: 5644 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ أَبِي عَلْوَانَ الْحَنَفِيّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ أَبِي عَلْوَانَ الْحَنَفِيّ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قبیلہ ثقیف میں ایک ہلاکت میں ڈالنے والا شخص اور ایک کذاب ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5644]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك .
حدیث نمبر: 5645 مسند احمد
رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہ عذاب نہ آ پکڑے جو ان پر آیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5645]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 5646 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ، كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً، فَرَّجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا، سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، اس پر نہ ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے دشمن کے حوالے کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کے کام میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے کام میں لگا رہتا ہے، جو شخص کسی مسلمان کی کسی پریشانی کو دور کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پریشانی کو دور کر دے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5646]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2442، م:2580.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2442، م:2580.
حدیث نمبر: 5647 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ سورة إبراهيم آية 24 قَالَ:" هِيَ الَّتِي لَا تَنْفُضُ وَرَقَهَا"، وَظَنَنْتُ أَنَّهَا النَّخْلَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «كشجرة طيبة» کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ وہ درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور میرا خیال ہے کہ وہ کھجور کا درخت ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5647]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك .