بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 10 از 102
حدیث نمبر: 4628 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ " إِذَا دَخَلَ أَدْنَى الْحَرَمِ، أَمْسَكَ عَنِ التَّلْبِيَةِ، فَإِذَا انْتَهَى إِلَى ذِي طُوًى بَاتَ بِهِ حَتَّى يُصْبِحَ، ثُمَّ يُصَلِّيَ الْغَدَاةَ، وَيَغْتَسِلَ، وَيُحَدِّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ ضُحًى، فَيَأْتِي الْبَيْتَ، فَيَسْتَلِمُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: بِسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَرْمُلُ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، فَإِذَا أَتَى عَلَى الْحَجَر اسْتَلَمَهُ، وَكَبَّرَ أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ مَشْيًا، ثُمَّ يَأْتِي الْمَقَامَ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْحَجَرِ، فَيَسْتَلِمُهُ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّفَا الْبَابِ الْأَعْظَمِ، فَيَقُومُ عَلَيْهِ، فَيُكَبِّرُ سَبْعَ مِرَارٍ، ثَلَاثًا يُكَبِّرُ، ثُمَّ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حرم کے قریب حصے میں پہنچتے تو تلبیہ روک دیتے جب مقام ذی طوی پر پہنچتے تو وہاں رات گزارتے صبح ہونے کے بعد فجر کی نماز پڑھتے غسل کرتے اور بتاتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے، پھر چاشت کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے بیت اللہ کے قریب پہنچ کر حجر اسود کا استلام «بسم الله، والله اكبر» کہہ کر فرماتے، طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے، البتہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتار سے چلتے، جب حجر اسود پر پہنچتے تو اس کا استلام کرتے اور تکبیر کہتے، بقیہ چار چکر عام رفتار سے پورے کرتے، مقام ابراہیم پر چلے جاتے اور اس پر کھڑے ہو کر سات مرتبہ تکبیر کہتے اور پھر یوں کہتے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریفات ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4628]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1573، م: 1259
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1573، م: 1259
حدیث نمبر: 4629 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدِ الْخَالِقِ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْخَالِقِ ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ النَّبِيذِ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ مَعَ الْأَشَجِّ، فَسَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشَّرَابِ، فَقَالَ:" لَا تَشْرَبُوا فِي حَنْتَمَةٍ، وَلَا فِي دُبَّاءٍ، وَلَا نَقِيرٍ"، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، وَالْمُزَفَّتُ؟ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ نَسِيَ، فَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ يَوْمَئِذٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدْ كَانَ يَكْرَهُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالخالق کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نبیذ کے متعلق سوال کیا، انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اس منبر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ بنو عبدالقیس کا وفد اپنے سردار کے ساتھ آیا، ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشروبات کے متعلق پوچھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ حنتم، دبا، یا نقیر میں کچھ مت پیو،میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابومحمد! کیا اس ممانعت میں مزفت بھی شامل ہے؟ میرا خیال تھا کہ شاید وہ یہ لفظ بھول گئے ہیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے اس دن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس کا تذکر ہ کرتے ہوئے نہیں سنا تھا البتہ وہ اسے ناپسند ضرور کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4629]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1997
الحكم: إسناده صحيح، م: 1997
حدیث نمبر: 4630 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ ثَمَنِ عَسْبِ الْفَحْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سانڈ کو مادہ جانور سے جفتی کروانے کے لئے کسی کو دینے پر اجرت لینے سے منع فرمایا ہے (یا یہ کہ ایسی کمائی کو استعمال کرنے کی ممانعت فرمائی ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4630]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2284
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2284
حدیث نمبر: 4631 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَال: ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا"، فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَاءَهُ، وَقَسَمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَظُنُّ الشَّيْطَانَ فِيمَا يَسْتَرِقُ مِنَ السَّمْعِ سَمِعَ بِمَوْتِكَ، فَقَذَفَهُ فِي نَفْسِكَ، وَلَعَلَّكَ أَنْ لَا تَمْكُثَ إِلَّا قَلِيلًا، وَايْمُ اللَّهِ، لَتُرَاجِعَنَّ نِسَاءَكَ، وَلَتَرْجِعَنَّ فِي مَالِكَ، أَوْ لَأُوَرِّثُهُنَّ مِنْكَ، وَلَآمُرَنَّ بِقَبْرِكَ فَيُرْجَمُ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے جس وقت اسلام قبول کیا ان کے نکاح میں دس بیویاں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان میں سے چار کو منتخب کر لو (باقی کو فارغ کر دو چنانچہ انہوں نے ایساہی کیا) اور جب عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے اپنی باقی بیویوں کو بھی طلاق دے دی اور اپنا سارا مال اپنے بیٹوں میں تقسیم کر دیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میرا خیال ہے شیطان کو چوری چھپے سننے کی وجہ سے تمہاری موت کی خبر معلوم ہو گئی اور وہ اس نے تمہارے دل میں ڈال دی ہے ہو سکتا ہے کہ اب تم تھوڑا عرصہ ہی زندہ رہو، اللہ کی قسم! یا تو تم اپنی بیویوں سے رجوع کر لو اور اپنی تقسیم وراثت سے بھی رجوع کر لو، ورنہ میں تمہاری طرف سے تمہاری بیویوں کو بھی وارث بناؤں گا (اور انہیں ان کا حصہ دلاؤں گا) اور تمہاری قبر پر پتھر مارنے کا حکم دے دوں گا اور جیسے ابو رغال کی قبر پر پتھر مارے جاتے ہیں، تمہاری قبر پر بھی مارے جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4631]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، لكن المرفوع منه أخطأ فيه معمر، كما سلف برقم : 4609
الحكم: حديث صحيح، لكن المرفوع منه أخطأ فيه معمر، كما سلف برقم : 4609
حدیث نمبر: 4632 مسند احمد
عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ كِتَابَ الصَّدَقَةِ، فَلَمْ يُخْرِجْهُ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ، فَقَرَنَهُ بِسَيْفِهِ، فَلَمَّا قُبِضَ عَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قُبِضَ، ثُمَّ عُمَرُ حَتَّى قُبِضَ، فَكَانَ فِيهِ" فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ". قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: ثُمَّ أَصَابَتْنِي عِلَّةٌ فِي مَجْلِسِ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَكَتَبْتُ تَمَامَ الْحَدِيثِ، فَأَحْسَبُنِي لَمْ أَفْهَمْ بَعْضَهُ، فَشَكَكْتُ فِي بَقِيَّةِ الْحَدِيثِ، فَتَرَكْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زکوٰۃ کی تفصیل سے متعلق ایک تحریر لکھوائی تھی لیکن اپنے گورنروں کو بھجوانے سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ تحریر اپنی تلوار کے ساتھ (میان میں) رکھ چھوڑی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اس پر عمل کرتے رہے تاآنکہ وہ بھی فوت ہو گئے، اس تحریر میں یہ لکھا تھا کہ پانچ اونٹوں پر ایک بکر ی واجب ہو گی، دس میں میں دو بکریاں، پندرہ میں تین، بیس میں چار اور پچیس میں ایک بنت مخاض واجب ہو گی۔ عبداللہ بن احمد کہتے ہیں میرے والد صاحب نے فرمایا: یہاں تک پہنچ کر مجھے عباد بن عوام کی مجلس میں کوئی عذر پیش آ گیا،میں نے حدیث تو مکمل لکھ لی لیکن میرا خیال ہے کہ مجھے اس کا کچھ حصہ سمجھ میں نہیں آیا، اس لئے مجھے بقیہ حدیث میں شک ہو گیا جس کی بناء پر میں نے اسے ترک کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4632]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعیف، سفیان بن حسین ضعيف في روايته عن الزهري، ثقة في غيره
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعیف، سفیان بن حسین ضعيف في روايته عن الزهري، ثقة في غيره
حدیث نمبر: 4633 مسند احمد
حَدَّثَنِي أَبِي بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمُسْنَدِ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، لِأَنَّهُ كَانَ قَدْ جَمَعَ حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ فَحَدَّثَنَا بِهِ فِي حَدِيثِ سَالِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بِتَمَامِهِ، وَفِي حَدِيثِ عَبَّادٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مکمل مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4633]
حدیث نمبر: 4634 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَتَبَ الصَّدَقَةَ وَلَمْ يُخْرِجْهَا إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ، قَالَ: فَأَخْرَجَهَا أَبُو بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ، فَعَمِلَ بِهَا حَتَّى تُوُفِّيَ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ، فَعَمِلَ بِهَا، قَالَ: فَلَقَدْ هَلَكَ عُمَرُ يَوْمَ هَلَكَ وَإِنَّ ذَلِكَ لَمَقْرُونٌ بِوَصِيَّتِهِ، فَقَالَ: كَانَ فِيهَا" فِي الْإِبِلِ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِلَى خَمْسٍ وَعِشْرِينَ، فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ، إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَابْنُ لَبُونٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ، إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا حِقَّةٌ، إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا جَذَعَةٌ، إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ، فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ، إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ، فَفِيهَا حِقَّتَانِ، إِلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتِ الْإِبِلُ، فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِي الْغَنَمِ مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا شَاتَانِ، إِلَى مِئَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ثَلَاثٌ إِلَى ثَلَاثِ مِئَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ بَعْدُ، فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَ مِئَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتْ الْغَنَمُ، فَفِي كُلِّ مِئَةٍ شَاةٌ" وَكَذَلِكَ لَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ، فَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ، لَا تُؤْخَذُ هَرِمَةٌ، وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ مِنَ الْغَنَمِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زکوٰۃ کی تفصیل سے متعلق ایک تحریر لکھوائی تھی لیکن اپنے گورنروں کو بھجوانے سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ تحریر اپنی تلوار کے ساتھ (میان میں) رکھ چھوڑی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اس پر عمل کرتے رہے تاآنکہ وہ بھی فوت ہو گئے، اس تحریر میں یہ لکھا تھا کہ پانچ اونٹوں پر ایک بکری واجب ہو گی، دس میں دو بکریاں، پندرہ میں تین، بیس میں چار اور پچیس میں ایک بنت مخاض واجب ہو گی۔ اور یہی تعداد ٣٥ اونٹوں تک رہے گی، اگر کسی کے پاس بنت مخاض نہ ہو تو وہ ایک ابن لبون مذکر (جو تیسرے سال میں لگ گیا ہو) دے دے۔جب اونٹوں کی تعداد ٣٦ ہو جائے تو اس میں ٤٥ تک ایک بنت لبون واجب ہو گی جب اونٹوں کی تعداد ٤٦ ہو جائے تو اس میں ایک حقہ (چوتھے سال میں لگ جانے والی اونٹنی) کا وجوب ہو گا، جس کے پاس رات کو نر جانور آ سکے۔ یہ حکم ساٹھ تک رہے گا جب یہ تعداد ٦١ ہو جائے تو ٧٥ تک اس میں ایک جزعہ (جو پانچویں سال میں لگ جائے) واجب ہو گا، جب یہ تعداد ٧٦ ہو جائے تو ٩٠ تک اس میں دو بنت لبون واجب ہوں گی جب یہ تعداد ٩١ ہو جائے تو ١٢٠ تک اس میں دو حقے ہوں گے جن کے پاس نر جانور آ سکے، جب یہ تعداد ١٢٠ سے تجاوز کر جائے تو ہر چالیس میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس میں ایک حقہ واجب ہو گا۔ سائمہ (خود چر کر اپنا پیٹ بھرنے والی) بکریوں میں زکوٰۃ کی تفصیل اس طرح ہے کہ جب بکریوں کی تعداد چالیس ہو جائے تو ١٢٠ تک ایک واجب ہو گی ٢٠٠ تک دو بکریاں اور تین سو تک تین بکریاں واجب ہوں گی، اس کے بعد چار سو تک کچھ اضافہ نہیں ہو گا، لیکن جب تعداد زیادہ ہو جائے گی تو اس کے بعد ہر سو میں ایک بکری دیناواجب ہو گی۔ نیز زکوٰۃ سے بچنے کے لئے متفرق جانوروں کو جمع اور اکٹھے جانوروں کو متفرق نہ کیا جائے اور یہ کہ اگر دو قسم کے جانور ہوں (مثلاً بکریاں بھی اور اونٹ بھی) تو ان دونوں کے درمیان برابری سے زکوٰۃ تقسیم ہو جائے گی اور زکوٰۃ میں انتہائی بوڑھی یا عیب دار بکری نہیں لی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4634]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سفيان بن حسين في روايته، عن الزهري
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سفيان بن حسين في روايته، عن الزهري
حدیث نمبر: 4635 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال:" مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا أَوْ قَالَ: شَقِيصًا لَهُ، أَوْ قَالَ: شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا بَلَغَ ثَمَنَهُ بِقِيمَةِ الْعَدْلِ، فَهُوَ عَتِيقٌ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ" قَالَ أَيُّوبُ: كَانَ نَافِعٌ رُبَّمَا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهُ، فَلَا أَدْرِي أَهُوَ فِي الْحَدِيثِ، أَوْ قَالَهُ نَافِعٌ مِنْ قِبَلِهِ؟ يَعْنِي قَوْلَهُ:" فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے تو وہ غلام کی قیمت کے اعتبار سے ہو گا، چنانچہ اب اس غلام کی قیمت لگائی جائے گی، باقی شرکاء کو ان کے حصے کی قیمت دے دی جائے گی اور غلام آزاد ہو جائے گا ورنہ جتنا اس نے آزاد کیا ہے اتنا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4635]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2524، م: 1501
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2524، م: 1501
حدیث نمبر: 4636 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ، أَوْ عُمْرَةٍ فَعَلَا فَدْفَدًا مِنَ الْأَرْضِ أَوْ شَرَفًا، قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ، سَاجِدُونَ عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب حج جہاد یا عمرہ سے واپس آتے تو زمین کے جس بلند حصے پر چڑھتے یہ دعا پڑھتے: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں، سجدہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے واپس آ رہے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو اکیلے ہی شکت دے دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4636]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2595، م: 1344
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2595، م: 1344
حدیث نمبر: 4637 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدًا رَعِيَّةً، قَلَّتْ أَوْ كَثُرَتْ، إِلَّا سَأَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَقَامَ فِيهِمْ أَمْرَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمْ أَضَاعَهُ؟ حَتَّى يَسْأَلَهُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ خَاصَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جس شخص کو رعیت کا خواہ وہ کم ہو یا زیادہ ذمہ داربناتا ہے، اس سے رعایا کے متعلق قیامت کے دن باز پرس بھی کرے گا کہ اس نے اپنی رعایا کے بارے اللہ کے احکامات کو قائم کیا یا ضائع کیا؟ یہاں تک کہ اس سے اس کے اہل خانہ کے متعلق بھی خصوصیت کے ساتھ پوچھا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4637]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، رجاله ثقات إلا أن الحسن البصري لم يسمع هذا الحديث من ابن عمر، وله شاهد من حديث معقل بن يسار عند البخاري : 7151، ومسلم : 142
الحكم: حديث صحيح، رجاله ثقات إلا أن الحسن البصري لم يسمع هذا الحديث من ابن عمر، وله شاهد من حديث معقل بن يسار عند البخاري : 7151، ومسلم : 142
حدیث نمبر: 4638 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، مَعْمَرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِكُمْ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مانگنا اپنی عادت بنا لیتا ہے وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کی ایک بوٹی تک نہ ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4638]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1474، م: 1040
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1474، م: 1040
حدیث نمبر: 4639 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الطَّعَامَ جُزَافًا عَلَى السُّوقِ،" فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يَنْقُلُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں لوگ اندازے سے غلے کی خرید و فروخت کر لیتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اس طرح بیع کرنے سے روک دیا جب تک کہ اسے اپنے خیمے میں نہ لے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4639]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2167، م: 1526
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2167، م: 1526
حدیث نمبر: 4640 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَبِيعُونَ لَحْمَ الْجَزُورِ بِحَبَلِ حَبَلَةٍ، وَحَبَلُ حَبَلَةٍ تُنْتَجُ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا، ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِي تُنْتَجُهُ،" فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اونٹ کا گوشت حاملہ جانور کے حمل سے پیدا ہونے والے بچے کے بدلے بیچا کرتے تھے اور حاملہ جانور کے حمل سے پیدا ہونے والے بچے سے مراد جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہے اس کا بچہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4640]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3843، م: 1514
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3843، م: 1514
حدیث نمبر: 4641 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ، قَالَ: عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ذَكَرُوا الرَّجُلَ يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ فَيَحِلُّ، هَلْ لَهُ أَنْ يَأْتِيَ يَعْنِي امْرَأَتَهُ، قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ؟ فَقَالَ: لَا، حَتَّى يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَسَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ ؟ فَقَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، فَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ:" لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں میں یہ بات چھڑ گئی کہ اگر کوئی آدمی عمرہ کا احرام باندھے تو کیا صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے سے پہلے اس کے لئے اپنی بیوی کے پاس آنا حلال ہو جاتا ہے یا نہیں؟ ہم نے یہ سوال سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے سے پہلے اس کے لئے یہ کام حلال نہیں، پھر ہم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے طواف کے سات چکر لگائے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر فرمایا کہ پیغمبر اللہ کی ذات میں تمہارے لئے بہترین نمونہ موجود ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4641]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 395، وأخرج الشطر الثاني منه مسلم : 1234
الحكم: إسناده صحيح، خ : 395، وأخرج الشطر الثاني منه مسلم : 1234
حدیث نمبر: 4642 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: بَيْنَمَا النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ الْغَدَاةَ، إِذْ جَاءَ جَاءٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ،" وَأُمِرَ أَنْ تُسْتَقْبَلَ الْكَعْبَةُ، فَاسْتَقْبَلُوهَا، وَاسْتَدَارُوا، فَتَوَجَّهُوا نَحْوَ الْكَعْبَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ آج رات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز میں خانہ کعبہ کی طرف رخ کر نے کا حکم دیا گیا ہے یہ سنتے ہی ان لوگوں نے نماز کے دوران ہی گھوم کر خانہ کعبہ کی طرف اپنارخ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4642]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 4488، م : 526
الحكم: إسناده صحيح، خ : 4488، م : 526
حدیث نمبر: 4643 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ" وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ مِنَ الْيَوْمِ الثَّالِثِ لَا يَأْكُلُ مِنْ لَحْمِ هَدْيِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت نہ کھائے۔ اسی وجہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تیسرے دن کے غروب آفتاب کے بعد قربانی کے جانور کا گوشت نہیں کھاتے تھے (بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4643]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م :1970، ابن جریج صرح بالتحديث هنا، فانتفت شبهة تدلیسه
الحكم: إسناده صحيح، م :1970، ابن جریج صرح بالتحديث هنا، فانتفت شبهة تدلیسه
حدیث نمبر: 4644 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4644]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 4645 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4645]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م : 2003
الحكم: إسناده صحيح، م : 2003
حدیث نمبر: 4646 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلفَ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسجد حرام کو چھوڑ کر میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4646]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م : 1395
الحكم: إسناده صحيح، م : 1395
حدیث نمبر: 4647 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: الثَّمَرُ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَالْعِنَبُ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا، وَالْحِنْطَةُ بِالزَّرْعِ كَيْلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع مزابنہ کی ممانعت فرمائی ہے، بیع مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ کٹی ہوئی کھجور کی درختوں پر لگی ہوئی کھجور کے بدلے، انگور کی کشمش کے بدلے اور گندم کے بدلے گیہوں کی اندازے سے بیع کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4647]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1272، م: 1542
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1272، م: 1542