بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 38 از 102
حدیث نمبر: 5188 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَثَلُ الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ، أَوْ ثَوْبَهُ شَكَّ يَحْيَى مِنَ الْخُيَلَاءِ، لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5188]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5783 ، م : 2085 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5783 ، م : 2085 .
حدیث نمبر: 5189 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5189]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1000 ، م : 700 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1000 ، م : 700 .
حدیث نمبر: 5190 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ؟ فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْسِلَ ذَكَرَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ مجھے رات کو جنابت لاحق ہو جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ شرمگاہ کو دھو کروضو کر لیا کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5190]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5191 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، زَاذَانَ ، لِابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : أَخْبِرْنِي مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْعِيَةِ؟ وَفَسِّرْهُ لَنَا بِلُغَتِنَا، فَإِنَّ لَنَا لُغَةً سِوَى لُغَتِكُمْ، قَالَ:" نَهَى عَنِ الْحَنْتَمِ، وَهُوَ الْجَرُّ، وَنَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ، وَهُوَ الْمُقَيَّرُ، وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَهُوَ الْقَرْعُ، وَنَهَى عَنِ النَّقِيرِ، وَهِيَ النَّخْلَةُ تُنْقَرُ نَقْرًا، وَتُنْسَجُ نَسْجًا"، قَالَ: فَفِيمَ تَأْمُرُنَا أَنْ نَشْرَبَ فِيهِ؟ قَالَ: الْأَسْقِيَةُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَمَرَ أَنْ نَنْبِذَ فِي الْأَسْقِيَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زاذان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جن برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے، مجھے وہ بھی بتائیے اور ہماری زبان میں اس کی وضاحت بھی کیجئے کیونکہ ہماری زبان اور آپ کی زبان میں فرق ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «حنتم» سے منع کیا ہے جس کا معنی مٹکا ہے، «مزفت» سے بھی منع کیا ہے، جو لُک کے برتن کو کہتے ہیں۔ «دباء» سے بھی منع کیا ہے جس کا معنی کدو ہے اور «نقير» سے بھی منع کیا ہے جس کا معنی ہے کھجور کی وہ لکڑی جسے اندر سے کھوکھلا کر لیا جائے۔ راوی نے پوچھا کہ پھر آپ ہمیں کس برتن میں پانی پینے کا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: مشکیزوں میں۔ بقول راوی محمد کے انہوں نے ہمیں مشکیزوں میں نبیذ بنانے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5191]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1997 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1997 .
حدیث نمبر: 5192 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، ابْنُ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُنْصَبُ لِلْغَادِرِ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5192]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6178 ، م : 1735 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6178 ، م : 1735 .
حدیث نمبر: 5193 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، ابْنُ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ أَوْ وَرْسٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محرم کو ایسے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے، جس پر زعفران اور ورس لگی ہوئی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5193]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5847 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5847 .
حدیث نمبر: 5194 مسند احمد
يَحْيَى ، إِسْمَاعِيلَ ، وَبَرَةُ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، أَخْبَرَنِي وَبَرَةُ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَيَصْلُحُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَأَنَا مُحْرِمٌ؟ قَالَ: مَا يَمْنَعُكَ مِنْ ذَلِكَ؟! قَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَنْهَانَا عَنْ ذَلِكَ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ مِنَ الْمَوْقِفِ، وَرَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ مَالَتْ بِهِ الدُّنْيَا، وَأَنْتَ أَعْجَبُ إِلَيْنَا مِنْهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ :" حَجّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ"، وَسُنَّةُ اللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ مِنْ سُنَّةِ ابْنِ فُلَانٍ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اگر میں نے حج کا احرام باندھ رکھا ہو تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کر سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کیا حرج ہے؟ وہ شخص کہنے لگا کہ اصل میں فلاں صاحب اس سے منع کرتے ہیں، جب تک کہ لوگ موقف سے واپس نہ آ جائیں اور میں دیکھتا ہوں کہ دنیا ان پر ٹوٹی پڑی ہے، لیکن ہمیں آپ زیادہ اچھے لگتے ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف بھی کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی بھی کی اور اللہ اور اس کے رسول کی سنت کی پیروی کرنا فلاں کے بیٹے کی سنت کی پیروی سے زیادہ حق رکھتی ہے، بشرطیکہ تم اس کے متعلق اپنی بات میں سچے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5194]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1233 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1233 .
حدیث نمبر: 5195 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلال رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5195]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 622 ، م : 1092 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 622 ، م : 1092 .
حدیث نمبر: 5196 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ تُحْتَلَبَ الْمَوَاشِي مِنْ غَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کی اجازت کے بغیر ان کے جانوروں کا دودھ دوہ کر اپنے استعمال میں لانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5196]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2435 ، م : 1726 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2435 ، م : 1726 .
حدیث نمبر: 5197 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا حَقُّ امْرِئٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ، يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی شخص پر کسی کا کوئی حق ہو تو اس پر دو راتیں اس طرح نہیں گزرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5197]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1627 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1627 .
حدیث نمبر: 5198 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: أَصَابَ ابْنَ عُمَر الْبَرْدُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَأَلْقَيْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ بُرْنُسًا، فَقَالَ: أَبْعِدْهُ عَنِّي، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْبُرْنُسِ لِلْمُحْرِمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حالت احرام میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ٹھنڈ لگ گئی، وہ مجھ سے کہنے لگے کہ مجھ پر کوئی کپڑا ڈال دو، میں نے ان پر ٹوپی ڈال دی، انہوں نے اسے پیچھے کر دیا اور کہنے لگے کہ تم مجھ پر ایسا کپڑا ڈال رہے جسے محرم کے پہننے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5198]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، خ : 5794
الحكم: حديث صحيح ، خ : 5794
حدیث نمبر: 5199 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد قباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کر بھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5199]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1194 ، م : 1399 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1194 ، م : 1399 .
حدیث نمبر: 5200 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانی میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5200]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3644 ، م : 1871 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3644 ، م : 1871 .
حدیث نمبر: 5201 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَا أَتْرُكُ اسْتِلَامَهُمَا فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ، بَعْدَ إِذْ" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا: الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَالْحَجَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجر اسود کا استلام کرتے ہوئے خود دیکھا ہے اس لئے میں کسی سختی یا نرمی کی پرواہ کئے بغیر اس کا استلام کرتا ہی رہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5201]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1606 ، م : 1268 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1606 ، م : 1268 .
حدیث نمبر: 5202 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَاعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار کے ایک مرد اور عورت کے درمیان لعان کروایا اور ان دونوں کے درمیان تفریق کر ادی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5202]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5314 ، م : 1494 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5314 ، م : 1494 .
حدیث نمبر: 5203 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ سُئِلَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هُوَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ تَعَالَى، مَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی کہ اہل جاہلیت دس محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے، جب ماہ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا حکم دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے جو چاہے روزہ رکھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5203]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 4501 ، م : 1126 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 4501 ، م : 1126 .
حدیث نمبر: 5204 مسند احمد
رَوْحٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5204]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1126 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1126 .
حدیث نمبر: 5205 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ تَعَالَى صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ، وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مال غنیمت میں سے چوری کی ہوئی چیز کا صدقہ قبول نہیں کرتا اور نہ ہی طہارت کے بغیر نماز قبول کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5205]
حکم دارالسلام
إسناده حسن ، م : 224 .
الحكم: إسناده حسن ، م : 224 .
حدیث نمبر: 5206 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ، وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ، نَحْوَ الْمَشْرِقِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر کو جا رہے تھے جو مشرق کی جانب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5206]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 700 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 700 .
حدیث نمبر: 5207 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وقَرَأْتُهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنِ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَلَمْ يَقُلْ:" نَحْوَ الْمَشْرِقِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں «نحوالمشرق» کا لفظ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5207]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 700 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 700 .