بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 5194
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 5194
حدیث نمبر: 5194 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى ، إِسْمَاعِيلَ ، وَبَرَةُ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، أَخْبَرَنِي وَبَرَةُ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَيَصْلُحُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَأَنَا مُحْرِمٌ؟ قَالَ: مَا يَمْنَعُكَ مِنْ ذَلِكَ؟! قَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَنْهَانَا عَنْ ذَلِكَ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ مِنَ الْمَوْقِفِ، وَرَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ مَالَتْ بِهِ الدُّنْيَا، وَأَنْتَ أَعْجَبُ إِلَيْنَا مِنْهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ :" حَجّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ"، وَسُنَّةُ اللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ مِنْ سُنَّةِ ابْنِ فُلَانٍ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اگر میں نے حج کا احرام باندھ رکھا ہو تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کر سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کیا حرج ہے؟ وہ شخص کہنے لگا کہ اصل میں فلاں صاحب اس سے منع کرتے ہیں، جب تک کہ لوگ موقف سے واپس نہ آ جائیں اور میں دیکھتا ہوں کہ دنیا ان پر ٹوٹی پڑی ہے، لیکن ہمیں آپ زیادہ اچھے لگتے ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف بھی کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی بھی کی اور اللہ اور اس کے رسول کی سنت کی پیروی کرنا فلاں کے بیٹے کی سنت کی پیروی سے زیادہ حق رکھتی ہے، بشرطیکہ تم اس کے متعلق اپنی بات میں سچے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5194]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1233 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1233 .
← پچھلی حدیث (5193) باب پر واپس اگلی حدیث (5195) →