بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 40 از 102
حدیث نمبر: 5228 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي الْحَيْضِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ أَوْ حَامِلٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں ایک طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے کہو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے، پھر طہر کے بعد اسے طلاق دے دے یا امید کی صورت ہو تب بھی طلاق دے سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5228]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1471 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1471 .
حدیث نمبر: 5229 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ: يَا أَخِي،" أَشْرِكْنَا فِي صَالِحِ دُعَائِكَ، وَلَا تَنْسَنَا"، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ عُمَرُ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عمرہ پر جانے کے لئے اجازت مانگی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دیتے ہوئے فرمایا: بھائی! ہمیں اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھنا بھول نہ جانا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر اس ایک لفظ «يا اخي» کے بدلے مجھے وہ سب کچھ دے دیا جائے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے یعنی پوری دنیا تو میں اس ایک لفظ کے بدلے پوری دنیا کو پسند نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5229]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله .
حدیث نمبر: 5230 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْعُمَرِيُّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ مَكَّةَ نَهَارًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں دن کے وقت داخل ہوئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5230]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري .
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري .
حدیث نمبر: 5231 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْعُمَرِيُّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَدْخُلُ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا، وَيَخْرُجُ مِنَ السُّفْلَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تو «ثنيه عليا» سے داخل ہوتے اور جب باہر جاتے تو «ثنيه سفلي» سے باہر جاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5231]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري .
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري .
حدیث نمبر: 5232 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، سَمِعَهُ مِنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ، فَتَكَلَّمَا، أَوْ تَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا"، أَوْ" إِنَّ الْبَيَانَ سِحْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرق کی طرف سے دو آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے، انہوں نے جو گفتگو کی (لوگوں کو اس کی روانی اور عمدگی پر تعجب ہوا تو) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5232]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5146 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5146 .
حدیث نمبر: 5233 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي قُبُورِهِمْ، فَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے مردوں کو قبر میں اتارو تو کہو «بسم الله وعلي سنة رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم» ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5233]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات .
الحكم: رجاله ثقات .
حدیث نمبر: 5234 مسند احمد
وَكِيعٌ ، فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُعْرَضُ عَلَى ابْنِ آدَمَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً فِي قَبْرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابن آدم کے سامنے صبح و شام قبر میں اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو اہل جنت کا ٹھکانہ اور اگر اہل جہنم میں سے ہو تو اہل جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5234]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 2866 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 2866 .
حدیث نمبر: 5235 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص غلہ خریدے تو اس پر قبضہ کرنے سے پہلے اسے آگے فروخت نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5235]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5236 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، النَّجْرَانِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ النَّجْرَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلَيْنِ تَبَايَعَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلًا قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الثَّمَرَةُ، فَلَمْ تُطْلِعْ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تَأْكُلُ مَالَهُ؟!" وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں دو آدمیوں نے پھل آنے سے پہلے بیع کر لی، لیکن اس سال پھل ہی نہیں آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے پیسے کیوں روک رکھے ہیں؟ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھل پکنے تک بیع سلم سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5236]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة النجراني .
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة النجراني .
حدیث نمبر: 5237 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا اشْتَرَيْتَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ، أَوْ أَحَدَهُمَا بِالْآخَرِ، فَلَا يُفَارِقْكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم سونے کو چاندی کے بدلے یا ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز لو تو اپنے ساتھی سے اس وقت تک جدا نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان معمولی سا بھی اشتباہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5237]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد سماك برفعه .
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد سماك برفعه .
حدیث نمبر: 5238 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْعُمَرِيِّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ" رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، وَصَلَّى عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے طواف کے پہلے تین چکروں میں حجر اسود سے حجر اسود تک رمل اور باقی چار چکروں میں عام رفتار رکھی اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5238]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، العمري - وإن كان ضعيفا - متابع .
الحكم: حديث صحيح ، العمري - وإن كان ضعيفا - متابع .
حدیث نمبر: 5239 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْعُمَرِيُّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ مُنْذُ" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا: الْحَجَرَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجر اسود کا استلام کرتے ہوئے خود دیکھا ہے اس لئے میں کسی سختی یا نرمی کی پرواہ کئے بغیر اس کا استلام کرتا ہی رہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5239]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، العمري - وإن كان ضعيفا - قد توبع .
الحكم: حديث صحيح ، العمري - وإن كان ضعيفا - قد توبع .
حدیث نمبر: 5240 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَاصِمٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الصَّلَاةِ بِمِنًي، قَالَ: هَلْ سَمِعْتَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَآمَنْتُ بِهِ، قَالَ: فَإِنَّهُ كَانَ" يُصَلِّي بِمِنًي رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
داؤد بن ابی عاصم ثقفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منٰی میں نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: کہ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام سنا ہے، میں نے کہا، جی ہاں! میں ان پر ایمان لا کر راہ راست پر بھی آیا ہوں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پھر وہ منٰی میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5240]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 694 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 694 .
حدیث نمبر: 5241 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ" صَلَّاهُمَا بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ: هَكَذَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَا فِي هَذَا الْمَكَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مغرب اور عشاء کی نماز (مزدلفہ میں) ایک ہی اقامت کے ساتھ ادا کی اور فرمایا کہ اس مقام پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5241]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1288 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1288 .
حدیث نمبر: 5242 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَدَّهِنُ بِالزَّيْتِ غَيْرِ الْمُقَتَّتِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھتے وقت زیتون کا وہ تیل استعمال فرماتے تھے جس میں پھول ڈال کر انہیں جوش نہ دیا گیا ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5242]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي .
حدیث نمبر: 5243 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: محرم ورس یا زعفران لگا ہوا کپڑا نہ پہنے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5243]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5794 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5794 .
حدیث نمبر: 5244 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محرم کو ورس یا زعفران لگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5244]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5794 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5794 .
حدیث نمبر: 5245 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ عَوْنٍ ، زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا، فَوَافَقَ يَوْمَئِذٍ عِيدَ أَضْحَى أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ :" أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال پوچھتے ہوئے دیکھا کہ میں نے یہ منت مان رکھی ہے کہ میں فلاں دن روزہ رکھا کروں گا، اب اگر فلاں دن عیدالاضحیٰ یا عیدالفطر آ جائے تو کیا کروں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ نے منت پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں یوم النحر (دس ذی الحجہ) کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5245]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1994 ، م : 1139 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1994 ، م : 1139 .
حدیث نمبر: 5246 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْرُنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ایک ساتھ دو کھجوریں کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5246]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2489 ، م : 2045 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2489 ، م : 2045 .
حدیث نمبر: 5247 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، الْمِنْهَالِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا بِالنَّبْلِ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَثَّلَ بِالْبَهِيمَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے، دیکھا کہ انہوں نے ایک مرغی کو باندھ رکھا ہے اور اس پر اپنا نشانہ درست کر رہے ہیں، اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جانور کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5247]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .