بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 31 از 102
حدیث نمبر: 5048 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَيْبَانُ ، مَنْصُورٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى آلِ عُمَرَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5048]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700.
حدیث نمبر: 5049 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي بِاللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر رات کے آخری حصے میں ان کے ساتھ ایک رکعت ملا کر (تین) وتر پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5049]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 473، م: 749 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 473، م: 749 .
حدیث نمبر: 5050 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، مُسْلِمَ بْنَ يَنَّاقٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَنَّاقٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَانْتَسَبَ لَهُ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ بَنِى لَيْثٍ، فَعَرَفَهُ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ يَقُولُ:" مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ لَا يُرِيدُ بِذَلِكَ إِلَّا الْمَخِيلَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسلم بن یناق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو تہبند گھسیٹتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ اس نے اپنا نسب بیان کیا تو پتہ چلا کہ اس کا تعلق بنو لیث سے ہے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے شناخت کر لیا پھر فرمایا کہ میں نے اپنے دونوں کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر کھینچتا ہوا چلتا ہے اللہ اس پر قیامت کے دن نظر رحم نہیں فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5050]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2085.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2085.
حدیث نمبر: 5051 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، فِرَاسٍ ، ذَكْوَانَ ، زَاذَانَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، أَوْ لَطَمَهُ، فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو کسی ایسے جرم کی سزا دے جو اس نے نہ کیا ہو یا اسے تھپڑ مارے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ اسے آزاد کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5051]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1657 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1657 .
حدیث نمبر: 5052 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، مُوَرِّقًا الْعِجْلِيَّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوَرِّقًا الْعِجْلِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، أَوْ هُوَ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ:" هَلْ تُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: لَا، قَالَ عُمَرُ؟ قَالَ: لَا؟ فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ؟ فَقَالَ: فَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا إِِِخَالُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مورق عجلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا، نہیں! میں نے پوچھا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے؟ فرمایا: نہیں! میں نے پوچھا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے؟ فرمایا: نہیں! میں نے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھتے تھے؟ فرمایا: میرا خیال نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5052]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1157.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1157.
حدیث نمبر: 5053 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى فِي الْبَيْتِ" وَسَتَأْتُونَ مَنْ يَنْهَاكُمْ عَنْهُ، فَتَسْمَعُونَ مِنْهُ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: فَتَسْمَعُونَ مِنْ قَوْلِهِ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ قَرِيبًا مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے لیکن ابھی تم ایک ایسے شخص کے پاس جاؤ گے اور ان کی باتیں سنو گے جو اس کی نفی کریں گے، مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے جو قریب ہی بیٹھے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5053]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5054 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَابِرٍ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَاهُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ رَأَى أَبَاهُ " يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَزَعَمَ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے والد صاحب کو نماز کے آغاز میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر کے رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے، نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5054]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي، لكنه متابع، وانظر ماسلف برقم: 4540 .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي، لكنه متابع، وانظر ماسلف برقم: 4540 .
حدیث نمبر: 5055 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِه، وَهُوَ إِلَى حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ يُوسُفَ الْأَزْرَقِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبًا مِنْ ثِيَابِهِ مَخِيلَةً لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5055]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085.
حدیث نمبر: 5056 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُصِيبُنِي مِنَ اللَّيْلِ الْجَنَابَةُ؟ فَقَالَ:" اغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ تَوَضَّأْ، ثُمَّ ارْقُدْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر میں رات کو ناپاک ہو جاؤں اور غسل کرنے سے پہلے سونا چاہوں تو کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شرمگاہ دھو کر نماز والا وضو کر کے سو جاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5056]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5057 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مَخِيلَةً، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5057]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085.
حدیث نمبر: 5058 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الضَّبِّ، قَالَ:" لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5058]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1943.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1943.
حدیث نمبر: 5059 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا"، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَنُبِّئْتُ أَنَّهُ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر فرمایا۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات مقرر فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5059]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1182 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1182 .
حدیث نمبر: 5060 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ أَوْ النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پکنے سے قبل پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5060]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1486، م: 1534.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1486، م: 1534.
حدیث نمبر: 5061 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ؟ فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پکنے سے قبل پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5061]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1535.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1535.
حدیث نمبر: 5062 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ وَجَّهَتْ، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری پر ہی نفل نماز پڑھ لیتے تھے، خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا اور فرماتے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5062]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700 .
حدیث نمبر: 5063 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ، وَبِالنَّاسِ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ، قَالَ: فَمَرَّ بِنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَنَهَانَا عَنِ الْإِقْرَانِ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الْإِقْرَانِ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
جبلہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمیں کھانے کے لئے کھجور دیا کرتے تھے، اس زمانے میں لوگ انتہائی مشکلات کا شکار تھے، ایک دن ہم کھجوریں کھا رہے تھے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرے اور فرمانے لگے کہ ایک وقت میں کئی کئی کھجوریں اکٹھی مت کھاؤ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بھائی کی اجازت کے بغیر کئی کھجوریں اکٹھی کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5063]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2045 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2045 .
حدیث نمبر: 5064 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا، فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص غلہ خریدے تو اس پر قبضہ کرنے پہلے اسے آگے فروخت نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5064]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1233، م: 1526.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1233، م: 1526.
حدیث نمبر: 5065 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخبرنا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر دو رکعت نماز پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5065]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5066 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَقَالَ حَجَّاجٌ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى فِي الْبَيْتِ"، وَسَتَأْتُونَ مَنْ يَنْهَاكُمْ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے لیکن ابھی تم ایک ایسے شخص کے پاس جاؤ گے جو اس کی نفی کریں گے، (مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تھے جو قریب ہی بیٹھے تھے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5066]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5067 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، رَجُلٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ نَجْرَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ: عَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ، وَعَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ سَكْرَانَ، فَقَالَ: إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا، قَالَ: فَجَلَدَهُ الْحَدَّ، وَنَهَى عَنْهُمَا أَنْ يُجْمَعَا، قَالَ: وَأَسْلَمَ رَجُلٌ فِي نَخْلٍ لِرَجُلٍ، فَقَالَ: لَمْ تَحْمِلْ نَخْلُهُ ذَلِكَ الْعَامَ، فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ دَرَاهِمَهُ، فَلَمْ يُعْطِهِ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَمْ تَحْمِلْ نَخْلُهُ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَفِيمَ تَحْبِسُ دَرَاهِمَهُ؟!"، قَالَ: فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، قَالَ: وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نجران کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے دو چیزوں کے متعلق پوچھتا ہوں، ایک تو کشمش اور کھجور کے متعلق اور ایک کھجور کے درخت میں بیع سلم کے متعلق (ادھار)۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس نشے میں دھت ایک شخص کو لایا گیا، اس نے کشمش اور کھجور کی شراب پینے کا اعتراف کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر حد جاری فرمائی اور ان دونوں کو اکٹھا کرنے سے منع فرمایا۔ نیز ایک آدمی نے دوسرے کے لئے کھجور کے درخت میں بیع سلم کی، لیکن اس سال پھل ہی نہیں آیا، اس نے اپنے پیسے واپس لینا چاہے تو اس نے انکار کر دیا، وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درختوں کے مالک سے پوچھا کہ کیا اس کے درختوں پر پھل نہیں آیا؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کے پیسے کیوں روک رکھے ہیں؟ چنانچہ اس نے اس کے پیسے لوٹا دئیے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھل پکنے تک بیع سلم سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5067]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة النجراني الذى روى عنه أبو إسحاق .
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة النجراني الذى روى عنه أبو إسحاق .