بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 69 از 102
حدیث نمبر: 5808 مسند احمد
عَفَّانُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، إِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ لَقِيطٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نُعَيْمٍ الْأَعْرَجِيِّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ لَقِيطٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نُعَيْمٍ الْأَعْرَجِيِّ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ ، وَأَنَا عِنْدَهُ، عَنِ الْمُتْعَةِ , مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَغَضِبَ، وَقَالَ: وَاللَّهِ مَا كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَّائِينَ وَلَا مُسَافِحِينَ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيَكُونَنَّ قَبْلَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ أَوْ أَكْثَرُ" , قَالَ عَبْدُ اللهُ بْنِ أَحْمَّد: قَالَ أَبِي: وقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ:" قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن اعرجی سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے میری موجودگی میں عورتوں سے متعہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں کوئی بدکاری یا شہوت رانی نہیں کیا کرتے تھے، پھر فرمایا کہ بخدا! میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: قیامت سے پہلے مسیح دجال اور تیس یا زیادہ کذاب ضرور آئیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5808]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعبدالرحمن بن نعيم الأعرجي.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعبدالرحمن بن نعيم الأعرجي.
حدیث نمبر: 5809 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , كَذَا قَالَ عَفَّانُ، وإنما هو واقد بن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (حجتہ الوداع کے موقع پر) ارشاد فرمایا:میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنے مارنے لگو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5809]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6166، م: 66.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6166، م: 66.
حدیث نمبر: 5810 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَبَاهُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" وَيْحَكُمْ"، أَوْ قَالَ" وَيْلَكُمْ"،" لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (حجتہ الوداع کے موقع پر) ارشاد فرمایا: میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنے مارنے لگو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5810]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6166، م: 66.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6166، م: 66.
حدیث نمبر: 5811 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى ، أَيُّوبُ بْنُ حُصَيْنٍ التَّمِيمِيُّ ، أَبِي عَلْقَمَةَ ، يَسَارٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ حُصَيْنٍ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ , وَأَنَا أُصَلِّي بَعْدَمَا طَلَعَ الْفَجْرُ، فَقَالَ: يَا يَسَارُ، كَمْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي! قَالَ: لَا دَرَيْتَ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ، فَقَالَ:" أَلَا لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ أَنْ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ إِلَّا سَجْدَتَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یسار جو کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کر دہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے طلوع فجر کے بعد نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمانے لگے: اے یسار! تم نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟ میں نے عرض کیا کہ یاد نہیں، فرمایا: تجھے یاد نہ رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ایک مرتبہ اس وقت تشریف لائے تھے اور ہم اسی طرح نماز پڑھ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حاضرین غائبین کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ طلوع فجر کے بعد دو رکعتوں کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5811]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهد، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن حسين مجهول.
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهد، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن حسين مجهول.
حدیث نمبر: 5812 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ الْغَلَابِيُّ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الْغَلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَدْعُو عَلَى أَرْبَعَةٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128، قَالَ: وَهَدَاهُمْ اللَّهُ إِلَى الْإِسْلَامِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چار آدمیوں پر بددعاء فرماتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ یہ ظالم ہیں، چنانچہ ان سب کو اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت عطاء فرما دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5812]
حکم دارالسلام
حديث حسن.
الحكم: حديث حسن.
حدیث نمبر: 5813 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5813]
حکم دارالسلام
حديث حسن.
الحكم: حديث حسن.
حدیث نمبر: 5814 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ الْغَلَابِيُّ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الْغَلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ الْعَقِيقَ:" فَنَهَى عَنْ طُرُوقِ النِّسَاءِ اللَّيْلَةَ الَّتِي يَأْتِي فِيهَا، فَعَصَاهُ فَتَيَانِ، فَكِلَاهُمَا رَأَى مَا كَرِهَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وادی عقیق میں پڑاؤ کیا تو لوگوں کو رات کے وقت اچانک بغیر اطلاع کے اپنی خواتین کے پاس جانے سے منع کیا، دو نوجوانوں نے بات نہیں مانی اور دونوں کو کراہت امیز مناظر دیکھنے پڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5814]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، محمد بن عجلان مضطرب الحديث في حديث نافع.
الحكم: إسناده ضعيف، محمد بن عجلان مضطرب الحديث في حديث نافع.
حدیث نمبر: 5815 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سَالِمٌ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُتِيَ وَهُوَ فِي الْمُعَرَّسِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي، فَقِيلَ: إِنَّكَ فِي بَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پڑاؤ میں جو بطن وادی میں ذوالحلیفہ کے قریب تھا ایک فرشتہ آیا اور کہنے لگا کہ آپ مبارک بطحاء میں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5815]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1535، م: 1346.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1535، م: 1346.
حدیث نمبر: 5816 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سَالِمٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي لَيَسْتَرْخِي، إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ؟ فَقَالَ:" إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ تَصْنَعُ الْخُيَلَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر گھسیٹتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر نظررحم نہیں فرمائے گا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک کونا بعض اوقات نیچے لٹک جاتا ہے گو کہ میں کوشش تو بہت کرتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں، جو یہ کام تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5816]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3665.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3665.
حدیث نمبر: 5817 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سَالِمٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّاسَ اجْتَمَعُوا، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ قَامَ ابْنُ الْخَطَّابِ، فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَمَا رَأَيْتُ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ خواب میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، فرمایا:میں نے دیکھا کہ لوگ جمع ہیں، ابوبکر کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزوری تھی، اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائے، پھر عمر نے ڈول کھینچے اور وہ ان کے ہاتھ میں آ کر بڑا ڈول بن گیا، میں نے کسی عبقری انسان کو ان کی طرح ڈول بھرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کو سیراب کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5817]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3633
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3633
حدیث نمبر: 5818 مسند احمد
عَفَّانُ ، الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ، فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مدینہ میں مر سکتا ہو، اسے ایسا ہی کرنا چاہئے کیونکہ میں مدینہ منورہ میں مرنے والوں کی سفارش کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5818]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الحسن بن أبي جعفر- وإن كان ضعيفا- متابع.
الحكم: حديث صحيح، الحسن بن أبي جعفر- وإن كان ضعيفا- متابع.
حدیث نمبر: 5819 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عُمَرَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ:" حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ"، قَالَ: فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: أَلَا تَعْجَبُ مِنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ! فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : صَدَقَ، فَقُلْتُ: وَمَا الْجَرُّ؟ قَالَ: مَا يُصْنَعُ مِنَ الْمَدَرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مٹکے کی نبیذ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ آپ کو ابو عبدالرحمن پر تعجب نہیں ہوتا، ان کا خیال ہے کہ مٹکے کی نبیذ کو تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے میں نے پوچھا مٹکےسے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ہر وہ چیز جو پکی مٹی سے بنائی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5819]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1997.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1997.
حدیث نمبر: 5820 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ أَصْحَابَنَا حَدَّثُونَا عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! قَالَ أَبِي: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ یہ حدیث بعض حضرات نے موقوفاً نقل کی ہے اور بعض نے مرفوعاً۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5820]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 5821 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، نَافِعًا ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، سَمِعْتُ نَافِعًا ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَإِنْ كَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ قِيمَتَهُ، قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، وَإِلَّا فَقَدْ أَعْتَقَ مَا أَعْتَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے تو اسے اس کا بقیہ حصہ آزاد کر نے کا بھی مکلف بنایا جائے گا، اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے اسے آزاد کیا جا سکے تو جتنا اس نے آزاد کیا ہے اتنا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5821]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2553، م1501.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2553، م1501.
حدیث نمبر: 5822 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سَالِمٌ ، عَبْدَ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ :" كَانَ يُصَلِّي فِي اللَّيْلِ، وَيُوتِرُ رَاكِبًا عَلَى بَعِيرِهِ، لَا يُبَالِي حَيْثُ وَجَّهَهُ"، قَالَ: وَقَدْ رَأَيْتُ أَنَا سَالِمًا يَصْنَعُ ذَلِكَ، وَقَدْ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَأْثُرُ ذَلِكَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رات کی نماز اور وتر اپنی سواری پر پڑھ لیتے تھے اور اس بات کی کوئی پرواہ نہ فرماتے تھے کہ اس کا رخ کس سمت میں ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے سالم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے اور مجھے نافع نے بتایا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5822]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1095.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1095.
حدیث نمبر: 5823 مسند احمد
عَفَّانُ ، صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6، قَالَ:" يَغِيبُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت جب لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے کی تفسیر میں فرمایا کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5823]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4938، م: 2862.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4938، م: 2862.
حدیث نمبر: 5824 مسند احمد
عَفَّانُ ، صَخْرٌ يَعْنِي ابْنَ جُوَيْرِيَةَ ، نَافِعٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ يَعْنِي ابْنَ جُوَيْرِيَةَ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِصَاحِبِهِ يَا كَافِرُ، فَإِنَّهَا تَجِبُ عَلَى أَحَدِهِمَا، فَإِنْ كَانَ الَّذِي قِيلَ لَهُ كَافِرٌ، فَهُوَ كَافِرٌ، وَإِلَّا رَجَعَ إِلَيْهِ مَا قَالَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص جب اپنے بھائی کو اے کافر کہتا ہے تو دونوں میں سے کسی ایک پر تو یہ چیز لازم ہو ہی جاتی ہے، جسے کافر کہا گیا ہے یا تو وہ کافر ہوتا ہے ورنہ کہنے والے پر اس کی بات پلٹ جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5824]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5825 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا ابْنُ عُمَرَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، إِذْ عَرَضَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كَيْفَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى؟ قَالَ:" يَدْنُو الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ بَذَجٌ، فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ أَيْ يَسْتُرُهُ، ثُمَّ يَقُولُ: أَتَعْرِفُ؟ فَيَقُولُ: رَبِّ أَعْرِفُ، ثُمَّ يَقُولُ: أَتَعْرِفُ؟ فَيَقُولُ: رَبِّ أَعْرِفُ، يَعْنِي فَيَقُولُ: أَنَا سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، وَيُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ، فَيُنَادَى بِهِمْ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ: هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ سورة هود آية 18 , قَالَ سَعِيدٌ: وَقَالَ قَتَادَةُ: فَلَمْ يَخْزَ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ , فَخَفِيَ خِزْيُهُ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
صفوان بن محرز رحمہ الله کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کہ ایک آدمی آ کر کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! قیامت کے دن جو سرگوشی ہو گی، اس کے متعلق آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک بندہ مومن کو اپنے قریب کریں گے اور اس اپنی چادر ڈال کر اسے لوگوں کی نگاہوں سے مستور کر لیں گے اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروائیں گے اور اس سے فرمائیں گے، کیا تھے فلاں فلاں گناہ یاد ہے؟ جب وہ اپنے سارے گناہوں کا اقرار کر چکے گا (اور اپنے دل میں یہ سوچ لے گا کہ اب تو وہ ہلاک ہو گیا)، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے میں نے دنیا میں تیری پردہ پوشی کی تھی اور آج تیری بخشش کرتا ہوں، پھر اسے اس کا نامہ اعمال دے دیا جائے گا، باقی رہے کفار اور منافقین تو گواہ کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی تکذیب کیا کرتے تھے، آگاہ رہو ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5825]
حکم دارالسلام
إسناده، صحيح، خ: 4658.
الحكم: إسناده، صحيح، خ: 4658.
حدیث نمبر: 5826 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ ، حَمَّادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَمَّادٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّهُ أَبْصَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ :" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ تَطَوُّعًا"، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے کہ وہ سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت ہو، انہوں نے ایک مرتبہ ان سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5826]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 5827 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ"، قَالَ: فَاسْتَدَارُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، اسی دوران ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ آج کی رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز میں خانہ کعبہ کی طرف رخ کر نے کا حکم دیا گیا ہے، یہ سنتے ہی ان لوگوں نے نماز کے دوران ہی گھوم کر خانہ کعبہ کی طرف اپنا رخ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5827]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4488، م: 526.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4488، م: 526.