عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى ، أَيُّوبُ بْنُ حُصَيْنٍ التَّمِيمِيُّ ، أَبِي عَلْقَمَةَ ، يَسَارٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ حُصَيْنٍ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ , وَأَنَا أُصَلِّي بَعْدَمَا طَلَعَ الْفَجْرُ، فَقَالَ: يَا يَسَارُ، كَمْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي! قَالَ: لَا دَرَيْتَ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ، فَقَالَ:" أَلَا لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ أَنْ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ إِلَّا سَجْدَتَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یسار ”جو کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کر دہ غلام ہیں“ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے طلوع فجر کے بعد نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمانے لگے: اے یسار! تم نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟ میں نے عرض کیا کہ یاد نہیں، فرمایا: تجھے یاد نہ رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ایک مرتبہ اس وقت تشریف لائے تھے اور ہم اسی طرح نماز پڑھ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”حاضرین غائبین کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ طلوع فجر کے بعد دو رکعتوں کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5811]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهد، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن حسين مجهول.
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهد، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن حسين مجهول.