بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 90 از 102
حدیث نمبر: 6228 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ الْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں حالت میں احرام میں بھی مارنے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6228]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 1826 .
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 1826 .
حدیث نمبر: 6229 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ" , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6229]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1826، م: 1199 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1826، م: 1199 .
حدیث نمبر: 6230 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ
َقَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَيْضًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6230]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وأنظر ما قبله .
الحكم: إسناده صحيح وأنظر ما قبله .
حدیث نمبر: 6231 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , وَبِلَالٌ , وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ، وَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ، فَمَكَثَ فِيهَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ , مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ، وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ، وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى، وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کر دیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اندر کیا کیا؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو ستون دائیں ہاتھ، ایک ستون بائیں ہاتھ اور تین ستون پیچھے چھوڑ کرنماز پڑھی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خانہ کعبہ کی دیوار کے درمیان تین گز کا فاصلہ تھا سالم کہتے ہیں کہ اس زمانے میں بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6231]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 505 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 505 .
حدیث نمبر: 6232 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی وادی بطحاء میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6232]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1532، م: 1257 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1532، م: 1257 .
حدیث نمبر: 6233 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيْلِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِيهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: عَدَلَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ: مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ السَّرْحَةِ، قُلْتُ: أَرَدْتُ ظِلَّهَا , قَالَ: هَلْ غَيْرَ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: لَا، مَا أَنْزَلَنِي إِلَّا ذَلِكَ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كُنْتَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى , وَنَفَحَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ , فَإِنَّ هُنَالِكَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ: السُّرَرُ، بِهِ سَرْحَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمران انصاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک درخت کے سائے تلے پڑاؤ کئے ہوئے تھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما میرے پاس تشریف لے آئے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ اس درخت کے نیچے پڑاؤ کرنے پر تمہیں کس چیز نے مجبور کیا؟ میں نے عرض کیا کہ میں اس کا سایہ حاصل کرنا چاہتا تھا انہوں نے پوچھا اس کے علاوہ کوئی اور مقصد؟ میں نے عرض کیا کہ اس کے علاوہ کوئی مقصد نہیں انہوں نے فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم منٰی دو پتھریلے علاقوں کے درمیان ہو یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کر کے پھونک ماری تو وہاں سرر نامی ایک وادی آئے گی وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر انبیاء کر ام رضی اللہ عنہ نے استراحت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6233]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، محمد بن عمران الأنصاري تفرد بالرواية عنه محمد بن عمرو أبن حلحلة، وتفرد هو عن أبيه ، وقال الذهبي فىي الميزان : لا يدري من هو ولا أبوه .
الحكم: إسناده ضعيف، محمد بن عمران الأنصاري تفرد بالرواية عنه محمد بن عمرو أبن حلحلة، وتفرد هو عن أبيه ، وقال الذهبي فىي الميزان : لا يدري من هو ولا أبوه .
حدیث نمبر: 6234 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَالْمُقَصِّرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ حلق کر انے والوں کو معاف فرما دے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!! قصر کر انے والوں کے لئے بھی تو دعاء فرمایئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیسری مرتبہ قصر کر انے والوں کے لئے فرمایا: کہ اے اللہ! قصر کر انے والوں کو بھی معاف فرمادے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6234]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1301 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1301 .
حدیث نمبر: 6235 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ يَمْشِي بِمِنًى، فَقَالَ: نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ يَوْمِ ثُلَاثَاءَ أَوْ أَرْبِعَاءَ، فَوَافَقْتُ هَذَا الْيَوْمَ، يَوْمَ النَّحْرِ، فَمَا تَرَى؟ قَالَ:" أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ نُهِينَا , أَنْ نَصُومَ يَوْمَ النَّحْرِ" , قَالَ: فَظَنَّ الرَّجُلُ أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ يَوْمِ ثُلَاثَاءَ أَوْ أَرْبِعَاءَ، فَوَافَقْتُ هَذَا الْيَوْمَ، يَوْمَ النَّحْرِ؟ فَقَالَ: أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ نُهِينَا , أَنْ نَصُومَ يَوْمَ النَّحْرِ , قَالَ: فَمَا زَادَهُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى أَسْنَدَ فِي الْجَبَلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیادہ بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال پوچھا جبکہ وہ منٰی میں چل رہے تھے کہ میں نے یہ منت مان رکھی ہے کہ میں ہر منگل یا بدھ کو روزہ رکھا کروں گا اب بدھ کے دن عید الاضحی آگئی ہے، اب آپ کی کیا رائے ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ اللہ نے منت پوری کر نے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں یوم النحر (دس ذی الحجہ) کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا: ہے وہ آدمی یہ سمجھا کہ شاید سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی بات سنی نہیں ہے لہٰذا اس نے اپنا سوال پھر دہرادیا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی حسب سابق جواب دیا اور اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا یہاں تک کہ پہاڑ کے قریب پہنچ کر اس سے ٹیک لگا لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6235]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6705، م: 1139 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6705، م: 1139 .
حدیث نمبر: 6236 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسُ ، زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ بَدَنَتَهُ لِيَنْحَرَهَا بِمِنًى، فَقَالَ:" ابْعَثْهَا، قِيَامًا مُقَيَّدَةً"، سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ میں میدان منٰی میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا راستے میں ان کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جس نے اپنی اونٹنی کو گھٹنوں کے بل بٹھا رکھا تھا اور اسے نحر کرنا چاہتا تھا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: اسے کھڑا کر کے اس کے پاؤں باندھ لو اور پھر اسے ذبح کرو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6236]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1137، م: 749 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1137، م: 749 .
حدیث نمبر: 6237 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، زُهَيْرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا النَّاسُ كَإِبِلٍ مِئَةٍ، لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی سی ہے جن میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6237]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6498 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6498 .
حدیث نمبر: 6238 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى فِي الْبَيْتِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ میں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6238]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 468، م: 1329 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 468، م: 1329 .
حدیث نمبر: 6239 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ، فَأَقْبِضُ الْوَرِقَ مِنَ الدَّنَانِيرِ، وَالدَّنَانِيرَ مِنَ الْوَرِقِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ، إِنِّي كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ، فَأَقْبِضُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، وَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ؟ فَقَالَ:" لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا، مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں جنت البقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا اگر دینار کے بدلے بیچتا تو میں خریدار سے درہم لے لیتا اور دراہم کے بدلے بیچتا تو اس سے دینار لے لیتا ایک دن میں یہ مسئلہ معلوم کر نے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ!! ٹھہریئے میں آپ سے یہ مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں اور اس کے بدلے میں یہ اور اس کے بدلے میں وہ لے لیتا ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر اسی دن بھاؤ کے بدلے ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن تم اس وقت تک اپنے ساتھی سے جدا نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان بیع کا کوئی معاملہ باقی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6239]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد سماك برفعه .
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد سماك برفعه .
حدیث نمبر: 6240 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، شَرِيكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزبير
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزبير ، سئلوا عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ فِي الْمُتْعَةِ، فَقَالُوا: نَعَمْ، سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقْدَمُ، فَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ , وَبَيْنَ الصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ تَحِلُّ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ بِيَوْمٍ، ثُمَّ تُهِلُّ بِالْحَجِّ، فَتَكُونُ قَدْ جَمَعْتَ عُمْرَةً وَحَجَّةً، أَوْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شریک عامری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے کسی نے حج تمتع میں حج سے پہلے عمرہ کر نے کے متعلق پوچھا میں نے ان حضرات کو یہ جواب دیتے ہوئے سنا کہ ہاں! یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے تم مکہ مکرمہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کرو صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور حلال ہوجاؤ اگر یہ کام یوم عرفہ سے ایک دن پہلے ہوا ہو تو حج کا احرام باندھ لو اس طرح تمہارا حج اور عمرہ اکٹھا ہو جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6240]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك .
حدیث نمبر: 6241 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمٍ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُصَوِّرُ عَبْدٌ صُورَةً، إِلَّا قِيلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحْيِ مَا خَلَقْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی تصویر سازی کرتا ہے اس سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ جنہیں تم نے بنایا تھا ان میں روح بھی پھونکو اور انہیں زندگی بھی دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6241]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله بن عاصم بن عمر .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله بن عاصم بن عمر .
حدیث نمبر: 6242 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، شَرِيكٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَائِشَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ:" اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، قَدْ عَلِمَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، مِنْهُنَّ عُمْرَةٌ مَعَ حَجَّتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ انہوں نے کہا دو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو فرمایا: کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو معلوم بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر جو عمرہ کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6242]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك .
حدیث نمبر: 6243 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يُلَقِّنُنَا هُوَ" فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بات سننے اور اطاعت کر نے کی شرط پر بیعت لیا کرتے تھے کہ حسب استطاعت (جہاں تک ممکن ہو گا تم بات سنو گے اور مانو گے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6243]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7202، م: 1867 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7202، م: 1867 .
حدیث نمبر: 6244 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَشُقَّهُمَا، أَوْ لِيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6244]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 6245 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، مُهَاجِرٍ الشَّامِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ مُهَاجِرٍ الشَّامِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ، أَلْبَسَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ شَرِيكٌ: وَقَدْ رَأَيْتُ مُهَاجِرًا وَجَالَسْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دنیا میں شہرت کا لباس پہنتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6245]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك .
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك .
حدیث نمبر: 6246 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ سورة الطلاق آية 1 فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت احزاب کی یہ آیت اس طرح بھی پڑھی ہے اے نبی! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب آپ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت کے آغاز میں طلاق دو (ایام طہر میں طلاق دینا مراد ہے نہ کہ ایام حیض میں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6246]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1471، مطولًا .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1471، مطولًا .
حدیث نمبر: 6247 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: تَمَتَّعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَأَهْدَى، فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى، فَسَاقَ الْهَدْيَ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَالَ لِلنَّاسِ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ , وَبِالصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ، وَلْيُقَصِّرْ، وَلْيَحْلِلْ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ، وَلْيُهْدِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا، فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، اسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَانْصَرَفَ، فَأَتَى الصَّفَا، فَطَافَ بِالصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَفَاضَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ"، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج اور عمرہ کو جمع فرما لیا اور ذوالحلیفہ سے ہدی کا جانور بھی لے کر چل پڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب سے پہلے عمرہ کا احرام باندھا پھر حج کی نیت بھی کر لی لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا ان میں سے بعض اپنے ساتھ ہدی کا جانور بھی لے گئے اور بعض نہیں لے کر گئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو لوگوں نے سے فرمایا: کہ تم میں سے جو شخص اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر آیا ہے اس پر حج سے فراغت تک ممنوعات احرام میں سے کوئی چیز حلال نہ ہو گی اور جو شخص ہدی کا جانور نہیں لایا اسے چاہئے کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرے، صفا مروہ کے درمیان سعی کرے اور بال کٹوا کر حلال ہو جائے اور پھر اگر اسے ہدی کا جانور نہ ملے تو اسے چاہئے کہ وہ تین روزے ایام حج میں اور سات روزے اپنے گھر واپس آ کر رکھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ مکرمہ پہنچ کر جب خانہ کعبہ کا طواف شروع کیا تو سب سے پہلے حجر اسود کا استلام کیا پھر سات میں سے تین چکر تیزی کے ساتھ اور چار اپنی عام رفتار کے ساتھ لگائے پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں اور سلام پھیر کر صفا پہاڑی پر پہنچے صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور حج سے فراغت تک ممنوعات احرام میں سے کسی چیز کو اپنے لئے حلال نہیں سمجھا دس ذی الحجہ کو قربانی کی واپس مکہ مکرمہ تشریف لائے بیت اللہ کا طواف کیا اور ہر چیز ان پر حلال ہو گئی اور اپنے ساتھ ہدی کا جانور لانے والے تمام صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6247]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1691، م: 1227 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1691، م: 1227 .