بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 12 از 102
حدیث نمبر: 4668 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ فِيمَا أَحَبَّ أَوْ كَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان پر اپنے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے خواہ اسے اچھا لگے یا برا بشرطیکہ اسے کسی معصیت کا حکم نہ دیا جائے، اس لئے کہ اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو اس وقت کسی کی بات سننے اور اس کی اطاعت کر نے کی اجازت نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4668]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2955، م: 1839
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2955، م: 1839
حدیث نمبر: 4669 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ عَلَيْنَا السُّورَةَ، فَيَقْرَأُ السَّجْدَةَ، فَيَسْجُدُ، وَنَسْجُدُ مَعَهُ، حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے سامنے کسی سورت کی تلاوت فرماتے اس میں موجود آیت سجدہ کی تلاوت فرماتے اور سجدہ کرتے ہم بھی ان کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض لوگوں کو اپنی پیشانی زمین پر رکھنے کے لئے جگہ نہ ملتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4669]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1075، م: 575
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1075، م: 575
حدیث نمبر: 4670 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَّلَاةُ فِي الْجَمِيعِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت ستائیں درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4670]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 650
الحكم: إسناده صحيح، م: 650
حدیث نمبر: 4671 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَاكُمْ قَدْ تَتَابَعْتُمْ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، فَالْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ صحابہ نے خواب میں شب قدر کو آخری سات راتوں میں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں پر آ کر ایک دوسرے کے موافق ہو جاتے ہیں، اس لئے آخری سات راتوں میں اسے تلاش کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4671]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2015، م: 1165
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2015، م: 1165
حدیث نمبر: 4672 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، جُرَيْجٍ أَوْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، لِابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ جُرَيْجٍ أَوْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ أَرْبَعُ خِلَالٍ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُهُنَّ، لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُنَّ؟ قَالَ: مَا هِيَ؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ لَا تَسْتَلِمُ غَيْرَهُمَا، وَرَأَيْتُكَ لَا تُهِلُّ حَتَّى تَضَعَ رِجْلَكَ فِي الْغَرْزِ، وَرَأَيْتُكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ؟ قَالَ:" أَمَّا لُبْسِي هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُهَا، ويَتَوَضَّأُ فِيهَا، وَيَسْتَحِبُّهَا، وَأَمَّا اسْتِلَامُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا لَا يَسْتَلِمُ غَيْرَهُمَا، وَأَمَّا تَصْفِيرِي لِحْيَتِي: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ، وَأَمَّا إِهْلَالِي إِذَا اسْتَوَتْ بِي رَاحِلَتِي: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، وَاسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَهَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
جریج یا ابن جریج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کو چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، جو میں آپ کے علاوہ کسی اور کو کرتے ہوئے نہیں دیکھتا، انہوں نے پوچھا کہ وہ کون سے کام ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کو رنگی ہوئی کھالوں کی جوتیاں پہنے ہوئے دیکھتا ہوں کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے ہیں کسی اور رکن کا استلام نہیں کرتے، میں دیکھتاہوں کہ آپ اس وقت تک تلبیہ نہیں پڑھتے جب تک آپ اپنا پاؤں رکاب میں نہ رکھ دیں اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ داڑھی کو رنگین کرتے ہیں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رنگی ہوئی کھال کی جوتیاں پہننے کی جو بات ہے تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی ایسی جوتی پہنی ہے، اسے پہن کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وضو بھی فرما لیتے تھے اور اسے پسند کرتے تھے، رکن یمانی اور حجر اسود ہی کو بوسہ دینے کی جو بات ہے، تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو صرف انہی دو کونوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان دونوں کے علاوہ کسی کونے کا استلام نہیں فرماتے تھے، داڑھی کو رنگنے کا جو مسئلہ ہے سو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی داڑھی رنگتے ہوئے دیکھا ہے اور جہاں تک سواری پر بیٹھ کر تلبیہ پڑھنے اور احرام کی نیت کر نے کا تعلق ہے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب وہ پاؤں رکاب میں رکھ دیتے اور سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے اور سواری آپ کو لے کر سیدھی ہو جاتی تب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تلبیہ پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4672]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 166، م: 1187
الحكم: إسناده صحيح، خ: 166، م: 1187
حدیث نمبر: 4673 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" الْعَبْدُ إِذَا أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ، كَانَ لَهُ أََجْرُةُ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو غلام اپنے رب کی عبادت بھی اچھی طرح کرے اور اپنے آقا کا بھی ہمدرد ہو اسے دہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4673]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2550، م، 1664
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2550، م، 1664
حدیث نمبر: 4674 مسند احمد
يَحْيَى ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيُّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، قَالَ:" رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، وَلَا يَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے آغاز میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر کے رفع یدین کرتے تھے، نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد ربنا و لک الحمد کہتے تھے، لیکن دو سجدوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رفع یدین نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4674]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 735، م: 390
الحكم: إسناده صحيح، خ: 735، م: 390
حدیث نمبر: 4675 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عُثْمَانُ بْنُ سُرَاقَةَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سُرَاقَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يُصَلِّي فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر میں فرائض سے پہلے یا بعد میں نماز نہیں پڑھتے تھے (سنتیں مراد ہیں)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4675]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4676 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكٍ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ: صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مزدلفہ میں ایک ہی اقامت سے مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھائیں عبداللہ بن مالک نے عرض کیا: اے عبدالرحمن! یہ کیسی نماز ہے؟ فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ یہ نمازیں اس جگہ ایک ہی اقامت کے ساتھ پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4676]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عبد الله بن مالك الهمداني - ولو لم يذكر في الرواية عنه غير أبي إسحاق السبيعي، وأبي روق الهمداني، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان - متابع
الحكم: حديث صحيح، عبد الله بن مالك الهمداني - ولو لم يذكر في الرواية عنه غير أبي إسحاق السبيعي، وأبي روق الهمداني، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان - متابع
حدیث نمبر: 4677 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ، فَاتَّخَذَهُ النَّاسُ، فَرَمَى بِهِ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اس کا نگینہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پھینک دیا اور چاندی کی انگوٹھی بنوا لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4677]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5865، م: 2091
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5865، م: 2091
حدیث نمبر: 4678 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4678]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: م: 2265
الحكم: إسناده صحيح، خ: م: 2265
حدیث نمبر: 4679 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا عِنْدَ بَابِ عَائِشَةَ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَقَالَ:" الْفِتْنَةُ هَاهُنَا، حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے پڑ کھڑے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4679]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3104، م: 2905
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3104، م: 2905
حدیث نمبر: 4680 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، جَاءَ ابْنُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ، وَصَلِّ عَلَيْهِ، وَاسْتَغْفِرْ لَهُ، فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ، وَقَالَ:" آذِنِّي بِهِ"، فَلَمَّا ذَهَبَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، قَالَ يَعْنِي عُمَرَ: قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، فَقَالَ:" أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سورة التوبة آية 80 فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا سورة التوبة آية 84 قَالَ: فَتُرِكَتْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی مر گیا، تو اس کے صاحبزادے جو مخلص مسلمان تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ! مجھے اپنی قمیض عطاء فرمائیے تاکہ میں اس میں اسے کفن دوں اس کی نماز جنازہ بھی پڑھایئے اور اللہ سے بخشش بھی طلب کیجئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنی قمیض دے دی اور فرمایا کہ جنازے کے وقت مجھے اطلاع دینا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ نے آپ کو منافقین کی نماز جنازہ پڑھانے سے روکا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دو باتوں کا اختیار ہے استغفار کر نے یا نہ کر نے کا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، بعد میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرما دیا کہ ان میں سے جو مر جائے اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھائیں چنانچہ اس کے بعد ان کی نماز جنازہ متروک ہو گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4680]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1269، م: 2400
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1269، م: 2400
حدیث نمبر: 4681 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَكَزَ الْحَرْبَةَ يُصَلِّي إِلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات سترہ کے طور پر نیزہ گاڑ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4681]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح خ: 498، م: 501،
الحكم: إسناده صحيح خ: 498، م: 501،
حدیث نمبر: 4682 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ، قَالَ: أَنْتِ جَمِيلَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عاصیہ نام بدل کر اس کی جگہ جمیلہ نام رکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4682]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2139
الحكم: إسناده صحيح، م: 2139
حدیث نمبر: 4683 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، أَبِي الصِّدِّيقِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الذَّيْلِ شِبْرًا، فَاسْتَزَدْنَهُ، فَزَادَهُنَّ شِبْرًا آخَرَ، فَجَعَلْنَهُ ذِرَاعًا"، فَكُنَّ يُرْسِلْنَ إِلَيْنَا نَذْرَعُ لَهُنَّ ذِرَاعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ امہات المؤمنین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک بالشت کے برابر دامن کی اجازت عطاء فرمائی انہوں نے اس میں اضافے کی درخواست کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک بالشت کا مزید اضافہ کر دیا اور امہات المؤمنین نے اسے ایک گز بنا لیا، پھر وہ ہمارے پاس کپڑا بھیجتی تھیں تو ہم انہیں ایک گز ناپ کر دے دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4683]
حکم دارالسلام
صحیح، خ : 5783، م : 2085، وهذا إسناد ضعيف لضعف زيد العمي
الحكم: صحیح، خ : 5783، م : 2085، وهذا إسناد ضعيف لضعف زيد العمي
حدیث نمبر: 4684 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَكَّهَا، وَخَلَّقَ مَكَانَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4684]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ : 1213، م : 547، إسناده هذا قوي
الحكم: حديث صحيح، خ : 1213، م : 547، إسناده هذا قوي
حدیث نمبر: 4685 مسند احمد
يَحْيَى ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَنْتَجِي اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا"، قَالَ: قُلْنَا: فَإِنْ كَانُوا أَرْبَعًا؟ قَالَ:" فَلَا يَضُرُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر نے لگا کرو۔ ہم نے پوچھا: اگر چار ہوں تو؟ فرمایا: پھر کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4685]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 6288، م : 2183
الحكم: إسناده صحيح، خ : 6288، م : 2183
حدیث نمبر: 4686 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَان" لَا يَدَعُ أَنْ يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِي فِي كُلِّ طَوَافٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی طواف میں حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام ترک نہیں کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4686]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 4687 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، ابْنُ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَحَدُكُمْ قَالَ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب اپنے بھائی کو اے کافر کہتا ہے تو دونوں میں سے کوئی ایک تو کافر ہو کر لوٹتا ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4687]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح