يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، جُرَيْجٍ أَوْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، لِابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ جُرَيْجٍ أَوْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ أَرْبَعُ خِلَالٍ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُهُنَّ، لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُنَّ؟ قَالَ: مَا هِيَ؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ لَا تَسْتَلِمُ غَيْرَهُمَا، وَرَأَيْتُكَ لَا تُهِلُّ حَتَّى تَضَعَ رِجْلَكَ فِي الْغَرْزِ، وَرَأَيْتُكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ؟ قَالَ:" أَمَّا لُبْسِي هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُهَا، ويَتَوَضَّأُ فِيهَا، وَيَسْتَحِبُّهَا، وَأَمَّا اسْتِلَامُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا لَا يَسْتَلِمُ غَيْرَهُمَا، وَأَمَّا تَصْفِيرِي لِحْيَتِي: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ، وَأَمَّا إِهْلَالِي إِذَا اسْتَوَتْ بِي رَاحِلَتِي: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، وَاسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَهَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
جریج یا ابن جریج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کو چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، جو میں آپ کے علاوہ کسی اور کو کرتے ہوئے نہیں دیکھتا، انہوں نے پوچھا کہ وہ کون سے کام ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کو رنگی ہوئی کھالوں کی جوتیاں پہنے ہوئے دیکھتا ہوں کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے ہیں کسی اور رکن کا استلام نہیں کرتے، میں دیکھتاہوں کہ آپ اس وقت تک تلبیہ نہیں پڑھتے جب تک آپ اپنا پاؤں رکاب میں نہ رکھ دیں اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ داڑھی کو رنگین کرتے ہیں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رنگی ہوئی کھال کی جوتیاں پہننے کی جو بات ہے تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی ایسی جوتی پہنی ہے، اسے پہن کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وضو بھی فرما لیتے تھے اور اسے پسند کرتے تھے، رکن یمانی اور حجر اسود ہی کو بوسہ دینے کی جو بات ہے، تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو صرف انہی دو کونوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان دونوں کے علاوہ کسی کونے کا استلام نہیں فرماتے تھے، داڑھی کو رنگنے کا جو مسئلہ ہے سو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی داڑھی رنگتے ہوئے دیکھا ہے اور جہاں تک سواری پر بیٹھ کر تلبیہ پڑھنے اور احرام کی نیت کر نے کا تعلق ہے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب وہ پاؤں رکاب میں رکھ دیتے اور سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے اور سواری آپ کو لے کر سیدھی ہو جاتی تب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تلبیہ پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4672]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 166، م: 1187
الحكم: إسناده صحيح، خ: 166، م: 1187