بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 17 از 102
حدیث نمبر: 4768 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْعُمَرِيُّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى خَيْبَرَ، يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ خَيَّرَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوا أَوْ يَرُدُّوا، فَقَالُوا: هَذَا الْحَقُّ، بِهَذَا قَامَتْ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو خبیر بھیجا تاکہ وہاں کے رہنے والوں پر ایک اندازہ مقرر کر دیں، پھر انہیں اختیار دے دیا کہ وہ اسے قبول کر لیں یا رد کر دیں لیکن وہ لوگ کہنے لگے کہ یہی صحیح ہے اور اسی وعدے پر زمین آسمان قائم ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4768]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف العمري
الحكم: إسناده ضعيف لضعف العمري
حدیث نمبر: 4769 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِخْصَاءِ الْخَيْلِ وَالْبَهَائِمِ"، وقَالَ ابْنُ عُمَر: فِيهَا نَمَاءُ الْخَلْقِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھوڑوں اور دیگر چوپایوں کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اسی میں ان کی جسمانی نشوونما ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4769]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن نافع مولي ابن عمر، وقد روي مرفوعا و موقوفا، وموقوفه هو الصحيح
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن نافع مولي ابن عمر، وقد روي مرفوعا و موقوفا، وموقوفه هو الصحيح
حدیث نمبر: 4770 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا نقصان معلوم ہو جائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہا سفر نہ کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4770]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2998
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2998
حدیث نمبر: 4771 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وعُثْمَانَ، فَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ، يَعْنِي الشَّمْسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یاد رکھو! طلوع آفتاب تک نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4771]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 4772 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کیا کرو کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4772]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 828
الحكم: إسناده صحيح، م: 828
حدیث نمبر: 4773 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْعُمَرِيُّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلنِّسَاءِ أَنْ يُرْخِينَ شِبْرًا، فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَنْ تَنْكَشِفَ أَقْدَامُنَا؟ فَقَالَ:" ذِرَاعًا، وَلَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خواتین کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ ایک بالشت کپڑا اونچا کر لیا کریں انہوں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ہمارے پاؤں نظر آنے لگیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک بالشت پر اضافہ نہ کرنا (اتنی مقدارمعاف ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4773]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري
الحكم: صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري
حدیث نمبر: 4774 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْعُمَرِيُّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ" مِنْ أَحْسَنِ أَسْمَائِكُمْ عَبْدَ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے بہترین نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4774]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2132، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 2132، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري، لكنه متابع
حدیث نمبر: 4775 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبُو جَنَابٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ"، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الْبَعِيرَ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ، فَتَجْرَبُ الْإِبِلُ؟ قَالَ:" ذَلِكَ الْقَدَرُ، فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ؟!".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیماری متعدی ہونے کا نظریہ صحیح نہیں۔ بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، الو کے منحوس ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! سو اونٹوں میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو کر ان سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے (اور آپ کہتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی؟)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہی تو تقدیر ہے، یہ بتاؤ اس پہلے اونٹ کو خارش میں کس نے مبتلا کیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4775]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب
حدیث نمبر: 4776 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، رَزِينِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَحْمَرِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ رَزِينِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَحْمَرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سُئِل النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَيَتَزَوَّجُهَا آخَرُ، فَيُغْلَقُ الْبَابُ، وَيُرْخَى السِّتْرُ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، هَلْ تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ:" لَا، حَتَّى يَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے دوسرا شخص اس عورت سے نکاح کر لے دروازے بند ہو جائیں اور پردے لٹکا دئیے جائیں لیکن دخول سے قبل ہی وہ اسے طلاق دے دے تو کیا وہ پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے گی؟ فرمایا: نہیں، جب تک کہ وہ دوسرا شوہر اس کا شہد نہ چکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4776]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة رزين بن سليمان الأحمري
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة رزين بن سليمان الأحمري
حدیث نمبر: 4777 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدُ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ رَزِينٍ
وحَدَّثَنَاه أَبُو أَحْمَدُ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ رَزِينٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4777]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، علته سليمان بن رزين، فهو مجهول
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، علته سليمان بن رزين، فهو مجهول
حدیث نمبر: 4778 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنَايَانَا بِهَا، حَتَّى تُخْرِجَنَا مِنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ ہمیں یہاں موت نہ دیجئے گا یہاں تک کہ آپ ہمیں یہاں سے نکال کر لے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4778]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وإسناده صحيح إن ثبت سماع سعيد بن أبى هند من ابن عمر، فلم نجد فى كتب الرجال سماعه منه، وهو قد أدرك عبد الله بن عباس، وسمع منه، فهو معاصر لعبد الله بن عمر، ولم يوصف بالتدليس
الحكم: رجاله ثقات، وإسناده صحيح إن ثبت سماع سعيد بن أبى هند من ابن عمر، فلم نجد فى كتب الرجال سماعه منه، وهو قد أدرك عبد الله بن عباس، وسمع منه، فهو معاصر لعبد الله بن عمر، ولم يوصف بالتدليس
حدیث نمبر: 4779 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَنْظَلَةُ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ تُضْرَبَ الصُّوَرَة، يَعْنِي الْوَجْهَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4779]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4780 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَعْجَلْ أَحَدُكُمْ عَنْ طَعَامِهِ لِلصَّلَاةِ"، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ الْإِقَامَةَ وَهُوَ يَتَعَشَّى، فَلَا يَعْجَلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کے سامنے کھانا لا کر رکھ دیا جائے اور نماز کھڑی ہو جائے تو فارغ ہونے سے پہلے نماز کے لئے کھڑا نہ ہو، خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4780]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن نافع، لكن لم يتفرد به، فقد تابعه عليه أيوب فيما يأتي برقم: 5806، وابن جريح فيما يأتي برقم: 6359
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن نافع، لكن لم يتفرد به، فقد تابعه عليه أيوب فيما يأتي برقم: 5806، وابن جريح فيما يأتي برقم: 6359
حدیث نمبر: 4781 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ ، قَزَعَةَ ، ابْنُ عُمَرَ:
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ: أُوَدِّعُكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قزعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: قریب آ جاؤ تاکہ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں رخصت کرتے تھے پھر فرمایا کہ میں تمہارے دین و امانت اور تمہارے عمل کا انجام اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4781]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، فإن بين عبد العزيز و قزعة راويا آخر اختلف فيه على عبد العزيز
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، فإن بين عبد العزيز و قزعة راويا آخر اختلف فيه على عبد العزيز
حدیث نمبر: 4782 مسند احمد
وَكِيعٌ ، نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَنْزِلُ بِعَرَفَةَ وَادِيَ نَمِرَةَ، فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ: أَيَّةَ سَاعَةٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ؟ فَقَالَ: إِذَا كَانَ ذَاكَ رُحْنَا، فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلًا يَنْظُرُ أَيَّ سَاعَةٍ يَرُوحُ؟ فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرُوحَ، قَالَ: أَزَاغَتْ الشَّمْسُ؟ قَالُوا: لَمْ تَزِغْ الشَّمْسُ، قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوا: لَمْ تَزِغْ، فَلَمَّا قَالُوا: قَدْ زَاغَتْ، ارْتَحَلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میدان عرفات کی وادی نمرہ میں پڑاؤ کیا تھا جب حجاج یوسف نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس قاصد کو یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن (نو ذی الحجہ کو) کس وقت کوچ فرماتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب ہم یہاں سے کوچ کریں گے وہ وہی گھڑی ہو گی حجاج نے یہ سن کر ایک آدمی کو بھیجا، جو یہ دیکھتا رہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کس وقت روانہ ہوتے ہیں؟ جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے روانگی کا ارادہ کیا تو پوچھا کہ کیا سورج غروب ہو گیا؟ لوگوں نے جواب دیا، نہیں، تھوڑی دیر بعد انہوں نے پھر یہی پوچھا اور لوگوں نے جواب دیا ابھی نہیں جب لوگوں نے کہا کہ سورج غروب ہو گیا تو وہ وہاں سے روانہ ہو گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4782]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سعيد بن حسان الحجازي لم يرو عنه إلا إبراهيم بن نافع و نافع ابن عمر الجمحي، وذكره ابن حبان فى «الثقات» ولم يؤثر توثيقه عن أحد غيره
الحكم: إسناده ضعيف، سعيد بن حسان الحجازي لم يرو عنه إلا إبراهيم بن نافع و نافع ابن عمر الجمحي، وذكره ابن حبان فى «الثقات» ولم يؤثر توثيقه عن أحد غيره
حدیث نمبر: 4783 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ:
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَدَّهِنُ عِنْدَ الْإِحْرَامِ بِالزَّيْتِ غَيْرَ الْمُقَتَّتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھتے وقت زیتون کا وہ تیل استعمال فرماتے تھے جس میں پھول ڈال کر انہیں جوش نہ دیا گیا ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4783]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي
حدیث نمبر: 4784 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، فِرَاسٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، زَاذَانَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ دَعَا غُلَامًا لَهُ، فَأَعْتَقَهُ، فَقَالَ: مَا لِي مِنْ أَجْرِهِ مِثْلُ هَذَا، لِشَيْءٍ رَفَعَهُ مِنَ الْأَرْضِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ لَطَمَ غُلَامَهُ، فَكَفَّارَتُهُ عِتْقُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کسی غلام کو بلا کر اسے آزاد کر دیا اور زمین سے کوئی تنکا وغیرہ اٹھا کر فرمایا کہ مجھے اس تنکے کے برابر بھی اسے آزاد کر نے پر ثواب نہیں ملے گا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ مارے اس کا کفارہ یہی ہے کہ اسے آزاد کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4784]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1657
الحكم: إسناده صحيح، م: 1657
حدیث نمبر: 4785 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيُّ ، جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ، حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي"، قَالَ: يَعْنِي الْخَسْفَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح وںشام ان دعاؤں میں سے کسی دعاء کو ترک نہ فرماتے تھے اے اللہ! میں دنیا و آخرت میں آپ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں آپ سے اپنی دنیا اور دین اپنے اہل خانہ اور مال کے متعلق درگزر اور عافیت کی درخواست کرتا ہوں، اے اللہ میرے عیوب پر پردہ ڈال دیجئے اور خوف سے مجھے امن عطاء کیجئے، اے اللہ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر کی جانب سے میری حفاظت فرما اور میں آپ کی عظمت سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں کہ مجھے نیچے سے اچک لیا جائے یعنی زمین میں دھنسنے سے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4785]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4786 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، النَّجْرَانِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ النَّجْرَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَكْرَانٍ، فَضَرَبَهُ الْحَدَّ، فَقَالَ:" مَا شَرَابُكَ؟" قَالَ: الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ، قَالَ:" يَكْفِي كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک نشئی کو لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر حد جاری کی اور اس سے پوچھا کہ تم نے کس قسم کی شراب پی ہے؟ اس نے کہا کشمش اور کھجور کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کی کفایت کر جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4786]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الخبراني الذى روي عنه أبو إسحاق السبيعي
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الخبراني الذى روي عنه أبو إسحاق السبيعي
حدیث نمبر: 4787 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَبِي طُعْمَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي طُعْمَةَ مَوْلَاهُمْ، وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لُعِنَتِ الْخَمْرُ عَلَى عَشْرَةِ وُجُوهٍ لُعِنَتِ الْخَمْرُ بِعَيْنِهَا، وَشَارِبُهَا، وَسَاقِيهَا، وَبَائِعُهَا، وَمُبْتَاعُهَا، وَعَاصِرُهَا، وَمُعْتَصِرُهَا، وَحَامِلُهَا، وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ، وَآكِلُ ثَمَنِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شراب پر دس طرح سے لعنت کی گئی ہے۔ نفس شراب پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، فروخت کر نے والے پر، خریدار پر، نچوڑنے والے پر اور جس کے لئے نچوڑی گئی اٹھانے والے پر اور جس کے لئے اٹھائی گئی اور اس کی قیمت کھانے والے پر بھی لعنت کی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4787]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه و شواهده، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح بطرقه و شواهده، وهذا إسناد حسن