وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، رَزِينِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَحْمَرِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ رَزِينِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَحْمَرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سُئِل النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَيَتَزَوَّجُهَا آخَرُ، فَيُغْلَقُ الْبَابُ، وَيُرْخَى السِّتْرُ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، هَلْ تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ:" لَا، حَتَّى يَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے دوسرا شخص اس عورت سے نکاح کر لے دروازے بند ہو جائیں اور پردے لٹکا دئیے جائیں لیکن دخول سے قبل ہی وہ اسے طلاق دے دے تو کیا وہ پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے گی؟ فرمایا: نہیں، جب تک کہ وہ دوسرا شوہر اس کا شہد نہ چکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4776]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة رزين بن سليمان الأحمري
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة رزين بن سليمان الأحمري