وَكِيعٌ ، أَبُو جَنَابٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ"، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الْبَعِيرَ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ، فَتَجْرَبُ الْإِبِلُ؟ قَالَ:" ذَلِكَ الْقَدَرُ، فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ؟!".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیماری متعدی ہونے کا نظریہ صحیح نہیں۔ بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، الو کے منحوس ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ہے“، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! سو اونٹوں میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو کر ان سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے (اور آپ کہتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی؟)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہی تو تقدیر ہے، یہ بتاؤ اس پہلے اونٹ کو خارش میں کس نے مبتلا کیا؟“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4775]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب