بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 26 از 102
حدیث نمبر: 4948 مسند احمد
حَمَّادٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: عُبَيْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْمَسِيحَ، قَالَ ابْنُ بِشْرٍ فِي حَدِيثِهِ: وَذَكَرَ الدَّجَّالَ، بَيْنَ ظَهْرَانَيْ النَّاسِ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ، أَلاَ وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دجال کا تذکر ہ لوگوں کے سامنے کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کانا نہیں ہے لیکن یاد رکھو مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہو گا، اس کی دائیں آنکھ انگور کے دانے کی طرح پھولی ہوئی ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4948]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3439، م: 169.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3439، م: 169.
حدیث نمبر: 4949 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةٍ، فَلْيُجِبْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ دی جائے تو اسے اس دعوت کو قبول کر لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4949]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5173، م: 1429.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5173، م: 1429.
حدیث نمبر: 4950 مسند احمد
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَذَا الْحَدِيثَ وَهَذَا الْوَصْفَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4950]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5173، م: 1429.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5173، م: 1429.
حدیث نمبر: 4951 مسند احمد
هِشَامٌ ، وَابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: وَحَدَّثَنَا قَبْلَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتَيْ الْعَشِيِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَلْيُجِبْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ شام کی دو نمازوں میں سے کسی ایک میں دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4951]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4952 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4952]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 750.
الحكم: إسناده صحيح، م: 750.
حدیث نمبر: 4953 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اَلْحَقَ ابْنَ الْمُلاعِنَةِ بِأُمِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لعان کر نے والی خاتون کے بچے کا نسب اس کی ماں سے ثابت قرار دیا (باپ سے اس کا نسب ختم کر دیا)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4953]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5315، م: 1494.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5315، م: 1494.
حدیث نمبر: 4954 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوَتْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4954]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 750.
الحكم: إسناده صحيح، م: 750.
حدیث نمبر: 4955 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَجَّاجٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضَحِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا اور ہر سال قربانی کرتے رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4955]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فيه حجاج مدلس، وقد عنعن.
الحكم: إسناده ضعيف، فيه حجاج مدلس، وقد عنعن.
حدیث نمبر: 4956 مسند احمد
قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر نفل پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4956]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700.
حدیث نمبر: 4957 مسند احمد
مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَرِيرٍ ، قَزَعَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَقَالَ: تَعَالَ حَتَّى أُوَدِّعَكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَقَالَ:" أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قزعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے کسی کام سے بھیجتے ہوئے فرمایا قریب آ جاؤ تاکہ میں تمہیں اس طرح رخصت کروں جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اپنے کام سے بھیجتے ہوئے رخصت کیا تھا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ میں تمہارے دین و امانت اور تمہارے عمل کا انجام اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4957]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 4958 مسند احمد
عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكِلابِيُّ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ ، لِعَائِشَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكِلابِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ، فَقَالَ:" هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا؟"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ"، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: وَهِلَ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُمْ الآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ لَهُوَ الْحَقُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ بدر کے دن اس کنوئیں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے جس میں صنادید قریش کی لاشیں پڑی تھیں اور ایک ایک کا نام لے لے کر فرمانے لگے، کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ بخدا! اس وقت یہ لوگ میری بات سن رہے ہیں، یحییٰ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب یہ حدیث معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگیں، اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے انہیں وہم ہو گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ اب یقین ہو گیا ہے کہ میں ان سے جو کہتا تھا وہ سچ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4958]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3980، م: 932.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3980، م: 932.
حدیث نمبر: 4959 مسند احمد
عَبْدَةُ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ ، لِعَائِشَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ,عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ"، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: وَهِلَ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ، فَقَالَ:" إِنَّ صَاحِبَ هَذَا لَيُعَذَّبُ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ"، ثُمَّ قَرَأَتْ هَذِهِ الآيَةَ: وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، کسی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بات کا ذکر کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ انہیں وہم ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک قبر پر گزر ہوا تو اس کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4959]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1286، م: 928.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1286، م: 928.
حدیث نمبر: 4960 مسند احمد
عَبْدَةُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنَ الْجُيُوشِ وَالسَّرَايَا أَوْ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِذَا أَوْفَى عَلَى أُرْبِيَّةٍ، كَبَّرَ ثَلاَثًا، ثُمَّ قَالَ:" لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ، عَابِدُونَ سَاجِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حج جہاد یا عمرہ سے واپس آتے تو زمین کے جس بلند حصے پر چڑھتے یہ دعا پڑھتے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں سجدہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے واپس آ رہے ہیں اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو اکیلے ہی شکت دے دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4960]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2995، م: 1344.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2995، م: 1344.
حدیث نمبر: 4961 مسند احمد
عَبْدَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بِأَرْضِ الْفلاَةِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قَدْرَ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ الْخَبَثَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر جنگل میں انسان کو ایسا پانی ملے جہاں جانور اور درندے بھی آتے ہوں تو کیا اس سے وضو کیا جا سکتا ہے؟ میں نے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو وہ گندگی کو نہیں اٹھاتا (اس میں گندگی سرایت نہیں کر تی)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4961]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 4962 مسند احمد
عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، مَنْ ، ابْنَ سُرَاقَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ سُرَاقَةَ يَذْكُرُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الصَّلاَةِ وَلَا بَعْدَهَا فِي السَّفَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر میں فرائض سے پہلے یا بعد میں نماز نہیں پڑھتے تھے (سنتیں مراد ہیں)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4962]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن عثمان بن سراقة، لكن سلف متصلا بإسناد صحيح برقم: 4675.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن عثمان بن سراقة، لكن سلف متصلا بإسناد صحيح برقم: 4675.
حدیث نمبر: 4963 مسند احمد
عَبْدَةُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَانُوا" يَبْدَؤونَ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہ عید کے موقع پر خطبہ سے پہلے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4963]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 963، م: 888.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 963، م: 888.
حدیث نمبر: 4964 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، سُفْيَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ طَوَافًا وَاحِدًا لإِقْرَانِهِ، لَمْ يَحِلَّ بَيْنَهُمَا، وَاشْتَرَى هَدْيًا مِنَ الطَّرِيقِ مِنْ قُدَيْدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے حج قران میں ایک ہی طواف کیا تھا اور ان دونوں کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احرام نہیں کھولا تھا اور ہدی کا جانور راستے میں مقام قدیر سے خریدا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4964]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، يحيي بن يمان كثير الخطأ، فقد تغير ونسي .
الحكم: إسناده ضعيف، يحيي بن يمان كثير الخطأ، فقد تغير ونسي .
حدیث نمبر: 4965 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَمَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، نَافِعٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَمَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، الْمَعْنَى، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ،" سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَعَدَلَ رَاحِلَتَهُ عَنِ الطَّرِيقِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا نَافِعُ، أَتَسْمَعُ؟ فَأَقُولُ: نَعَمْ، قَالَ: فَيَمْضِي، حَتَّى قُلْتُ: لاَ، قَالَ: فَوَضَعَ يَدَيْهِ، وَأَعَادَ الرَّاحِلَةَ إِلَى الطَّرِيقِ، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما راستے میں چلے جا رہے تھے کہ ان کے کانوں میں کانوں میں کسی چرواہے کے گانے اور ساز کی آواز آئی، انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں اور وہ راستہ ہی چھوڑ دیا اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد مجھ سے پوچھتے رہے کہ نافع! کیا اب بھی آواز آ رہی ہے میں اگر ہاں میں جواب دیتا تو وہ چلتے رہتے یہاں تک کہ جب میں نے نہیں کہہ دیا، تو انہوں نے اپنے ہاتھ کانوں سے ہٹا لئے اور اپنی سواری کو پھر راستے پر ڈال دیا اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک چرواہے کے گانے اور ساز کی آواز سنتے ہوئے اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4965]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، الوليد بن مسلم - وإن كان يدلس عن الضعفاء ويسوي - تابعه مخلد ابن يزيد الحراني.
الحكم: إسناده حسن، الوليد بن مسلم - وإن كان يدلس عن الضعفاء ويسوي - تابعه مخلد ابن يزيد الحراني.
حدیث نمبر: 4966 مسند احمد
الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، الأوْزَاعِيُّ ، الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ،" أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَتَوَضَّأُ مَرَّةً مَرَّةً، وَيُسْنِدُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَتَوَضَّأُ ثَلاَثًا ثَلاَثًا، وَيُسْنِدُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کرتے تھے جب کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک ایک مرتبہ دھوتے تھے اور وہ بھی اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4966]
حکم دارالسلام
هو حديثان : حديث ابن عباس، وهو صحيح لغيره، وقد سلف برقم: 4818، وحديث ابن عمر، و إسناده ضعيف وروي موقوفا، وهو الصحيح، وقد سلف برقم: 4534 .
الحكم: هو حديثان : حديث ابن عباس، وهو صحيح لغيره، وقد سلف برقم: 4818، وحديث ابن عمر، و إسناده ضعيف وروي موقوفا، وهو الصحيح، وقد سلف برقم: 4534 .
حدیث نمبر: 4967 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَبْدِ الرَّزَّاقِ بْنِ عُمَرَ الثَّقَفِيِّ ، ابْنَ شِهَابٍ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بْنِ عُمَرَ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ يُخْبِرُ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَصَلَّى بِلاَ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ، قال: ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ، فَصَلَّى بِلاَ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ، قَالَ: ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ، فَصَلَّى بِلاَ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ، ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ، فَصَلَّى بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ موجود رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی، پھر میں عید کے موقع پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود رہا ہوں آپ نے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی، پھر میں عید کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود رہا ہوں آپ نے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی، پھر میں عید کے موقع پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود ر ہا ہوں آپ نے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4967]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، بطرقه وشواهده ، وهذا إسناد ضعيف جدا.
الحكم: حديث صحيح، بطرقه وشواهده ، وهذا إسناد ضعيف جدا.