بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 63 از 102
حدیث نمبر: 5688 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الْعَزِيز يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيز يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ" إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْجُمُعَةِ، انْصَرَفَ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز جمعہ پڑھ کر گھر واپس آتے تو دو رکعتیں گھر میں پڑھتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5688]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5689 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، جُنَيْدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ جُنَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ سَيْفَهُ عَلَى أُمَّتِي"، أَوْ قَالَ" أُمَّةِ مُحَمَّدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازہ اس شخص کے لئے ہے جو میری امت پر تلوار سونتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5689]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، جنيد مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، جنيد مجهول.
حدیث نمبر: 5690 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، بَيَانٌ ، وَبَرَةَ ، ابْنِ جُبَيْرٍ يَعْنِي سَعِيدًا ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ ، عَنْ وَبَرَةَ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ يَعْنِي سَعِيدًا ، خَرَجَ إِلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يُحَدِّثَنَا بِحَدِيثٍ يُعْجِبُنَا، فَبَدَرَنَا إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا تَقُولُ فِي الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ سورة البقرة آية 193، قَالَ: وَيْحَكَ! أَتَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ؟! إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ الدُّخُولُ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً، وَلَيْسَ بِقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ!!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس تشریف لائے، ہمیں امید تھی کہ وہ ہم سے عمدہ احادیث بیان کریں گے لیکن ہم سے پہلے ہی ایک آدمی (جس کا نام حکم تھا) بول پڑا اور کہنے لگا، اے ابو عبدالرحمن! فتنہ کے ایام میں قتال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان سے اس وقت تک قتال کرو، جب تک فتنہ باقی رہے، انہوں نے فرمایا: تیری ماں تجھے روئے، کیا تجھے معلوم ہے کہ فتنہ کیا چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مشرکین سے قتال کیا کرتے تھے، اس وقت مشرکین کے دین میں داخل ہونا فتنہ تھا، ایسا نہیں تھا جیسے آج تم حکومت کی خاطر قتال کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5690]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7095 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7095 .
حدیث نمبر: 5691 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا، فَكَانَ" يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے پورا مہینہ یہ اندازہ لگایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعتوں (سنتوں) میں سورہ کافروں اور سورہ اخلاص پڑھتے رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5691]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5692 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، أبو إِسْرَائِيلُ ، فُضَيلٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أبو إِسْرَائِيلُ ، عَنْ فُضَيلٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ حَتَّى نَامَ النَّاسُ، وَتَهَجَّدَ الْمُتَهَجِّدُونَ، وَاسْتَيْقَظَ الْمُسْتَيْقِظُ، فَخَرَجَ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، وَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَخَّرْتُهَا إِلَى هَذَا الْوَقْتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر کر دی کہ سونے والے سو گئے اور تہجد پڑھنے والوں نے تہجد پڑھ لی اور جاگنے والے جاگتے رہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر تکلیف کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں عشاء کی نماز اسی وقت تک مؤخر کر دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5692]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى إسرائيل.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى إسرائيل.
حدیث نمبر: 5693 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَسَاهُ حُلَّةً سِيَرَاءَ، وَكَسَا أُسَامَةَ قُبْطِيَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا مَسَّ الْأَرْضَ فَهُوَ فِي النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایک ریشمی جو ڑا دیا اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو کتان کا جوڑا عطاء فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اس کا جو حصہ زمین پر لگے کا وہ جہنم میں ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5693]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 5694 مسند احمد
أَبُو الْوَلِيدِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، إِيَادٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نُعْمٍ أَوْ نُعَيْمٍ الْأَعْرَجِيِّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، حَدَّثَنَا إِيَادٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نُعْمٍ أَوْ نُعَيْمٍ الْأَعْرَجِيِّ شَكَّ أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْمُتْعَةِ وَأَنَا عِنْدَهُ مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَانِينَ وَلَا مُسَافِحِينَ!! ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيَكُونَنَّ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ: الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ، وَكَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ أَوْ أَكْثَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن اعرجی سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے میری موجودگی میں عورتوں سے متعہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں کوئی بدکاری یا شہوت رانی نہیں کیا کرتے تھے، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت سے پہلے مسیح دجال اور تیس یا زیادہ کذاب ضرور آئیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5694]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبد الرحمن بن نعيم الأعرجي مجهول.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبد الرحمن بن نعيم الأعرجي مجهول.
حدیث نمبر: 5695 مسند احمد
جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، إِيَادٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
قال عبد الله بن أحمد: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَخْبَرَنَا إِيَادٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5695]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه.
حدیث نمبر: 5696 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ، بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ"، فَكَانَ أَحَبُّهُمَا إِلَى اللَّهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابتداء اسلام میں یہ دعاء فرمائی تھی کہ اے اللہ! اسلام کو ان دو آدمیوں ابوجہل یا عمربن خطاب میں سے اس شخص کے ذریعے غلبہ عطاء فرما جو تیری نگاہوں میں زیادہ محبوب ہو (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا) معلوم ہوا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اللہ کی نگاہوں میں زیادہ محبوب تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5696]
حدیث نمبر: 5697 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى قَلْبِ عُمَرَ وَلِسَانِهِ"، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوا فِيهِ، وَقَالَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَوْ قَالَ عُمَرُ، إِلَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا قَالَ عُمَرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ نے عمر کے قلب و زبان پر حق کو جاری فرما دیا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا اور لوگوں کی رائے کچھ ہوتی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کچھ، تو قرآن کریم اسی کے قریب قریب نازل ہوتا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے ہوتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5697]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قابل للتحسين.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قابل للتحسين.
حدیث نمبر: 5698 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، مَطَرٌ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ عُمَرَ، فَكَانَا" لَا يَزِيدَانِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، وَكُنَّا ضُلَّالًا فَهَدَانَا اللَّهُ بِهِ، فَبِهِ نَقْتَدِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا ہے، یہ دونوں سفر میں دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھتے تھے، ہم پہلے گمراہ تھے پھر اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے ہمیں ہدایت عطاء فرمائی، اب ہم ان ہی کی اقتداء کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5698]
حکم دارالسلام
إسناده حسن .
الحكم: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 5699 مسند احمد
حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً، أَوْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً،" يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے چوبیس یا پچیس دن تک یہ اندازہ لگایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر سے پہلے کی اور مغرب کے بعد کی دو رکعتوں (سنتوں) میں سورہ کافرون اور سورہ اخلاص پڑھتے رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5699]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5700 مسند احمد
رَوْحٌ ، صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَالِمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يُفْتِي بِالَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الرُّخْصَةِ بِالتَّمَتُّعِ، وَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَيَقُولُ نَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ: كَيْفَ تُخَالِفُ أَبَاكَ وَقَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ؟! فَيَقُولُ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ: وَيْلَكُمْ! أَلَا تَتَّقُونَ اللَّهَ؟! إِنْ كَانَ عُمَرُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، فَيَبْتَغِي فِيهِ الْخَيْرَ يَلْتَمِسُ بِهِ تَمَامَ الْعُمْرَةِ، فَلِمَ تُحَرِّمُونَ ذَلِكَ وَقَدْ أَحَلَّهُ اللَّهُ، وَعَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! أَفَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعُوا سُنَّتَهُ أَمْ سُنَّةَ عُمَرَ؟! إِنَّ عُمَرَ لَمْ يَقُلْ لَكُمْ إِنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ حَرَامٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: إِنَّ" أَتَمَّ الْعُمْرَةِ أَنْ تُفْرِدُوهَا مِنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم کہتے ہیں کہ حج تمتع کے سلسلے میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وہی رخصت دیتے تھے، جو اللہ نے قرآن میں نازل کی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے، کچھ لوگ ان سے کہتے کہ آپ کے والد صاحب تو اس سے منع کرتے تھے، آپ ان کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ وہ انہیں جواب دیتے کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے روکا تھا، تو ان کے پیش نظر بھی خیر تھی کہ لوگ اتمام عمرہ کریں، جب اللہ نے اسے حلال قرار دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے تو تم اسے خود پر حرام کیوں کرتے ہو؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنا زیادہ بہتر ہے یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ اشہر حج میں عمرہ کرنا ہی حرام ہے، انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ عمرہ کا اتمام یہ ہے کہ تم اشہر حج کے علاوہ کسی اور مہینے میں الگ سے اس کے لئے سفر کر کے آؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5700]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف صالح بن أبى الأخضر.
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف صالح بن أبى الأخضر.
حدیث نمبر: 5701 مسند احمد
رَوْحٌ ، هَمَّامٌ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِيهِ ، لِابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : أَرَاكَ تُزَاحِمُ عَلَى هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ؟ قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ، فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ مَسْحَهُمَا يَحُطَّانِ الْخَطَايَا". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا يُحْصِيهِ، كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةٌ، وَكُفِّرَ عَنْهُ سَيِّئَةٌ، وَرُفِعَتْ لَهُ دَرَجَةٌ وَكَانَ عَدْلَ عِتْقِ رَقَبَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبید بن عمیر نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں آپ کو ان دو رکنوں حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کرنے کے لئے رش میں گھستے ہوئے دیکھتا ہوں، اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان دونوں کا استلام انسان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ جو شخص گن کر طواف کے سات چکر لگائے (اور اس کے بعد دوگانہ طواف پڑھ لے) تو ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جائے گی، ایک گناہ مٹا دیا جائے گا، ایک درجہ بلند کر دیا جائے گا اور یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5701]
حکم دارالسلام
حديث حسن.
الحكم: حديث حسن.
حدیث نمبر: 5702 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، إِبْرَاهِيمَ قُعَيْسٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قُعَيْسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَأْمُرُونَكُمْ بِمَا لَا يَفْعَلُونَ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب تم پر ایسے امراء آئیں گے جو تمہیں ایسی چیزوں کا حکم دیں گے جو خود نہیں کرتے ہوں گے، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ حوض کوثر پر میرے پاس نہ آ سکے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5702]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبراهيم قعيس، ضعفه أبو حاتم.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبراهيم قعيس، ضعفه أبو حاتم.
حدیث نمبر: 5703 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، لَيْثٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَمَنْ أَهْدَى لَكُمْ فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ، فَادْعُوا لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ کے نام پر سوال کرے اسے عطاء کر دو، جو شخص تمہیں دعوت دے اسے قبول کر لو، جو تمہیں ہدیہ دے اس کا بدلہ دو، اگر بدلہ میں دینے کے لئے کچھ نہ ملے تو اس کے لئے اتنی دعائیں کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ اتار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5703]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث.
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث.
حدیث نمبر: 5704 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَنْظَلَةُ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَأَنْ يَكُونَ جَوْفُ الْمَرْءِ مَمْلُوءًا قَيْحًا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ مَمْلُوءًا شِعْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تم میں سے کسی کا پیٹ قے سے بھر جانا اس بات کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5704]
حکم دارالسلام
إسناد صحيح، خ: 6154.
الحكم: إسناد صحيح، خ: 6154.
حدیث نمبر: 5705 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہ عذاب نہ آ پکڑے جو ان پر آیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5705]
حکم دارالسلام
إسناد صحيح، خ: 3381، م: 2980.
الحكم: إسناد صحيح، خ: 3381، م: 2980.
حدیث نمبر: 5706 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، كَانَ يُدْخِلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَطَرَحَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَطَرَحَ أَصْحَابُهُ خَوَاتِيمَهُمْ، ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، وَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اس کا نگینہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں، جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پھینک دیا، لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مہر لگاتے تھے، لیکن اسے پہنتے نہیں تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5706]
حکم دارالسلام
إسناد صحيح، خ: 5865، م: 2091.
الحكم: إسناد صحيح، خ: 5865، م: 2091.
حدیث نمبر: 5707 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُسَامَةُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ"، مَا حَاشَا فَاطِمَةَ وَلَا غَيْرَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں میں مجھے اسامہ سب سے زیادہ محبوب ہے، سوائے فاطمہ کے، لیکن کوئی اور نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5707]
حکم دارالسلام
إسناد صحيح، خ: 4468، وليس فيه: ما حاشا فاطمة ولا غيرها.
الحكم: إسناد صحيح، خ: 4468، وليس فيه: ما حاشا فاطمة ولا غيرها.