بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 66 از 102
حدیث نمبر: 5748 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يُعْطِي عُمَرَ الْعَطَاءَ، فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ: أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ، أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ , وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَالَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ"، قَالَ سَالِمٌ: فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ , كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا، وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کوئی چیز عطاء فرماتے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عرض کرتے کہ یا رسول اللہ! مجھ سے زیادہ جو محتاج لوگ ہیں، یہ انہیں دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے لے لو، اپنے مال میں اضافہ کرو اس کے بعد صدقہ کر دو، اور یاد رکھو! اگر تمہاری خواہش اور سوال کے بغیر کہیں سے مال آئے تو اسے لے لیا کرو، ورنہ اس کے پیچھے نہ پڑا کرو، سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی کسی سے کچھ مانگتے نہ تھے، البتہ اگر کوئی دے دیتا تو اسے رد نہ فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5748]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1045، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشيدين، وهو متابع.
الحكم: حديث صحيح، م: 1045، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشيدين، وهو متابع.
حدیث نمبر: 5749 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5749]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشيدين.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشيدين.
حدیث نمبر: 5750 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْحَارِثِ بْنُ عُبَيْدٍ ، بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثِ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: تَأْخُذُ إِنْ حَدَّثْتُكَ؟! , قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَرَجَ مِنْ هَذِهِ الْمَدِينَةِ قَصَرَ الصَّلَاةَ وَلَمْ يَصُمْ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بشر بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ دوران سفر روزہ کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں تم سے حدیث بیان کروں تو تم اس پر عمل کرو گے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اس شہر سے باہر نکلتے تھے تو نماز میں قصر فرماتے اور واپس آنے تک روزہ نہ رکھتے تھے (بعد میں قضاء کر لیتے تھے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5750]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فيه الحارث بن عبيد أبو قدامة الإيادي وبشر بن حرب، وفيهما ضعف.
الحكم: إسناده ضعيف، فيه الحارث بن عبيد أبو قدامة الإيادي وبشر بن حرب، وفيهما ضعف.
حدیث نمبر: 5751 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، الْحَسَنُ بْنُ سُهَيْلِ أَو سُهَيْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُهَيْلِ أَو سُهَيْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمِيثَرَةِ، وَالْقَسِّيَّةِ، وَحَلْقَةِ الذَّهَبِ، وَالْمُفْدَمِ"، قَالَ يَزِيدُ: وَالْمِيثَرَةُ: جُلُودُ السِّبَاعِ، وَالْقَسِّيَّةُ: ثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ مِنْ إِبْرَيْسَمٍ يُجَاءُ بِهَا مِنْ مِصْرَ، وَالْمُفْدَمُ: الْمُشَبَّعُ بِالْعُصْفُرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میثرہ، قسیہ، سونے کے حلقے (چھلے) اور مفدم سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میثرہ سے مراد درندوں کی کھالیں ہیں، قسیہ سے مراد ریشم سے بنے ہوئے کپڑے ہیں جو مصر سے لائے جاتے تھے اور مفدم سے مراد زرد رنگ سے رنگے ہوئے کپڑے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5751]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد.
حدیث نمبر: 5752 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَقِينَا الْعَدُوَّ، فَحَاصَ الْمُسْلِمُونَ حَيْصَةً، فَكُنْتُ فِيمَنْ حَاصَ، فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ، قَالَ: فَتَعَرَّضْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ لِلصَّلَاةِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، قَالَ:" لَا، بَلْ أَنْتُمْ الْعَكَّارُونَ، إِنِّي فِئَةٌ لَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارا دشمن سے آمنا سامنا ہوا، لوگ دوران جنگ گھبرا کر بھاگنے لگے، ان میں میں بھی شامل تھا، ہم مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے باہر نکلے تو ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم فرار ہو کر بھاگنے والے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم پلٹ کر حملہ کر نے والے ہو، میں تمہاری ایک جماعت ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5752]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد.
حدیث نمبر: 5753 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ , عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا بِامْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ،" فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک مقتول عورت کو دیکھا تو عورتوں اور بچوں کو قتل کر نے سے روک دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5753]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سليمان بن قرم.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سليمان بن قرم.
حدیث نمبر: 5754 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى رَأْسًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ إِذَا جَاءَهُ مَنْ يُرِيدُ قَتْلَهُ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ ابْنيْ آدَمَ، الْقَاتِلُ فِي النَّارِ، وَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن سمیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک کٹا ہوا سر دیکھا تو فرمایا: تم میں سے کسی آدمی کو جب اسے کوئی قتل کر نے کے لئے آئے ابن آدم جیسا بننے سے کیا چیز روکتی ہے، یاد رکھو! مقتول جنت میں جائے گا اور قاتل جہنم میں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5754]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، علته عبدالرحمن سميرة.
الحكم: إسناده ضعيف، علته عبدالرحمن سميرة.
حدیث نمبر: 5755 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ الْقَاصُّ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ الْقَاصُّ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فَلْيَقْرَأْ: إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ، وَ إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: وَسُورَةَ هُودٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص قیامت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ سورہ تکویر، سورہ انفطار پڑھ لے، غالباً سورہ ہود کا بھی ذکر فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5755]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 5756 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٌ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ ، وَأَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، بِالْبَطْحَاءِ، ثُمَّ هَجَعَ بِهَا هَجْعَةً، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ"، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں وادی بطحاء میں پڑھیں، رات وہیں گزاری اور پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5756]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 1768.
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 1768.
حدیث نمبر: 5757 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، مَطَرٌ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ عُمَرَ، فَلَمْ أَرَهُمَا يَزِيدَانِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، وَكُنَّا ضُلَّالًا فَهَدَانَا اللَّهُ بِهِ، فَبِهِ نَقْتَدِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا ہے، یہ دونوں سفر میں دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھتے تھے، ہم پہلے گمراہ تھے پھر اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے ہمیں ہدایت عطاء فرمائی، اب ہم ان ہی کی اقتداء کر یں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5757]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل مطر.
الحكم: إسناده حسن من أجل مطر.
حدیث نمبر: 5758 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، الْمُغِيرَةَ بْنَ سَلْمَانَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ سَلْمَانَ يُحَدِّثُ فِي بَيْتِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ:" حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ سِوَى الْفَرِيضَةِ: رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرض نمازوں کے علاوہ دس رکعتیں محفوظ کی ہیں ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں، نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد دو رکعتیں نماز فجر سے پہلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5758]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 5759 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ , سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ:" مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رات کی نماز سے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا:دو رکعتیں پڑھا کرو اور وتر کی رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5759]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 473، م: 729.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 473، م: 729.
حدیث نمبر: 5760 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ :" يَرْمُلُ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ"، وَيُخْبِرُنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَذَكَرُوا لِنَافِعٍ , أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ؟ قَالَ:" مَا كَانَ يَمْشِي إِلَّا حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَلِمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کرتے تھے اور ہمیں بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے اور وہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتار سے چلتے تھے تاکہ استلام کرنے میں آسانی ہو سکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5760]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1262.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1262.
حدیث نمبر: 5761 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، نَافِعًا ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، سَمِعْتُ نَافِعًا يَزْعُمُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ: أَنَّ عَائِشَةَ سَاوَمَتْ بِبَرِيرَةَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَتْ: إِنَّهُمْ أَبَوْا أَنْ يَبِيعُونِي , إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدنا چاہا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز تشریف لے گئے، جب واپس آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ان لوگوں نے انہیں بیچنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر ولاء ہمیں ملے تو ہم بیچ دیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ولاء اسی کا حق ہے جو آزاد کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5761]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6759.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6759.
حدیث نمبر: 5762 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا دَخَلَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب نماز شروع کرتے تو کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے تھے، رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5762]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 739.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 739.
حدیث نمبر: 5763 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْحَجَّاجُ ، أَبُو مَطَرٍ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، حَدَّثَنِي أَبُو مَطَرٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ وَالصَّوَاعِقَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ، وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بجلی کی گرج اور کڑک سنتے تو یہ دعاء فرماتے «اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ» کہ اے اللہ! ہمیں اپنے غضب سے ہلاک نہ فرما، اپنے عذاب سے ہمیں ختم نہ فرما اور اس سے پہلے ہی ہمیں عافیت عطاء فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5763]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حجاج، ولجهالة حال أبي مطر.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حجاج، ولجهالة حال أبي مطر.
حدیث نمبر: 5764 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے اور کدو کے برتن سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5764]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:1997.
الحكم: إسناده صحيح، م:1997.
حدیث نمبر: 5765 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ فِي أَوَّلِ أَمْرِهِ: إِنَّهَا لَا تَنْفِرُ، قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ:" رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ابتداء میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ عورت جہاد کے لئے نہیں جا سکتی لیکن میں نے بعد میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کو بھی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5765]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 330.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 330.
حدیث نمبر: 5766 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الدَّعْوَةِ، فَلْيُجِبْ"، أَوْ قَالَ" فَلْيَأْتِهَا"، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ: يُجِيبُ صَائِمًا وَمُفْطِرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ دی جائے تو اسے اس میں شرکت کر نی چاہیے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی دعوت قبول کر لیتے تھے خواہ روزے سے ہوتے یا نہ ہوتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5766]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5179، م: 1429.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5179، م: 1429.
حدیث نمبر: 5767 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مصوروں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جنہیں تم نے بنایا تھا ان میں روح بھی پھونکو اور انہیں زندگی بھی دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5767]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2108.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2108.