خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَقِينَا الْعَدُوَّ، فَحَاصَ الْمُسْلِمُونَ حَيْصَةً، فَكُنْتُ فِيمَنْ حَاصَ، فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ، قَالَ: فَتَعَرَّضْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ لِلصَّلَاةِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، قَالَ:" لَا، بَلْ أَنْتُمْ الْعَكَّارُونَ، إِنِّي فِئَةٌ لَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارا دشمن سے آمنا سامنا ہوا، لوگ دوران جنگ گھبرا کر بھاگنے لگے، ان میں میں بھی شامل تھا، ہم مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے باہر نکلے تو ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم فرار ہو کر بھاگنے والے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم پلٹ کر حملہ کر نے والے ہو، میں تمہاری ایک جماعت ہوں۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5752]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد.