بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 78 از 102
حدیث نمبر: 5988 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَنْظَلَةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ يَذْكُرُ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنَ الْفِطْرَةِ حَلْقُ الْعَانَةِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ"، وَقَالَ إِسْحَاقُ مَرَّةً: وَقَصُّ الشَّوَارِبِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زیر ناف بالوں کو صاف کرنا، ناخن کاٹنا اور مونچھیں تراشنا فطرت سلیمہ کا حصہ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5988]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 5890.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 5890.
حدیث نمبر: 5989 مسند احمد
أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " قزع " سے منع فرمایا: ہے (قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوالیے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں جیسا کہ آج کل فیشن ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5989]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف ، مبارك بن فضالة مدلس، ثم هو منقطع، فإن مباركا لم يدرك عبد الله بن دينار.
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف ، مبارك بن فضالة مدلس، ثم هو منقطع، فإن مباركا لم يدرك عبد الله بن دينار.
حدیث نمبر: 5990 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ , حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " قزع " سے منع فرمایا: ہے (قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوالیے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں جیسا کہ آج کل فیشن ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5990]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، المبارك بن فضالة مدلس وقد عنعن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، المبارك بن فضالة مدلس وقد عنعن.
حدیث نمبر: 5991 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَنْظَلَةُ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي الصُّورَةِ، وَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ چہرے پر نشان پڑنے کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا: ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5991]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5541.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5541.
حدیث نمبر: 5992 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي النَّضْرِ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرٌ، وَمِنْ التَّمْرِ خَمْرٌ، وَمِنْ الشَّعِيرِ خَمْرٌ، وَمِنْ الزَّبِيبِ خَمْرٌ، وَمِنْ الْعَسَلِ خَمْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گندم کی بھی شراب ہوتی ہے، کھجور، جو کشمش اور شہد کی بھی شراب ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5992]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
حدیث نمبر: 5993 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ، جِيءَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُوقَفَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ، يَا أَهْلَ النَّارِ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ، فَازْدَادَ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَازْدَادَ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اہل جنت، جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو لا کر جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے گا اور اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر ایک منادی پکار کر کہے گا اے جنت! تم ہمیشہ جنت میں رہو گے، یہاں تمہیں موت نہ آئے گی اور اے جہنم! تم ہمیشہ جہنم میں رہو گے، یہاں تمہیں موت نہ آئے گی، یہ اعلان سن کر اہل جنت کی خوشی اور مسرت دو چند ہو جائے گی اور اہل جہنم کے غموں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5993]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ:6548، م: 2850.
الحكم: حديث صحيح، خ:6548، م: 2850.
حدیث نمبر: 5994 مسند احمد
يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ النَّذْرَ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِالنَّذْرِ مِنَ الْبَخِيلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: منت ماننا کسی چیز کو آگے پیچھے نہیں کر سکتا البتہ منت ماننے سے کنجوس آدمی کے پاس سے کچھ نکل آتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5994]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ:6692، م: 1639.
الحكم: حديث صحيح، خ:6692، م: 1639.
حدیث نمبر: 5995 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، يُونُسُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَنَفِيُّ يَمَامِيٌّ ، عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيَّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَنَفِيُّ يَمَامِيٌّ ، سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيَّ , يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ تَعَظَّمَ فِي نَفْسِهِ، أَوْ اخْتَالَ فِي مِشْيَتِهِ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو بڑا سمجھے یا اپنی چال میں متکبرانہ چال کو جگہ دے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5995]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5996 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سورج اور چاند کو کسی کی موت زندگی سے گہن نہیں لگتا یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اس لئے جب تم انہیں گہن لگتے ہوئے دیکھو تو نماز کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5996]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 1042، م: 914.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 1042، م: 914.
حدیث نمبر: 5997 مسند احمد
هَارُونُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَى رِجَالٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُسَمِّيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128، فَتَرَكَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مشرکین کے چند آدمیوں پر نام لے بددعاء فرماتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ یہ ظالم ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بددعاء دینا چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5997]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 5998 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَيْوَةُ ، أَبُو عُثْمَانَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ حَيْوَةُ , أَخْبَرَنِي أَبُو عُثْمَانَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَفْرَى الْفِرَى مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَأَفْرَى الْفِرَى مَنْ أَرَى عَيْنَيْهِ فِي النَّوْمِ مَا لَمْ تَرَيَا، وَمَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے بڑاجھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے نسب کی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کرے یا وہ خواب بیان کرے جو اس نے دیکھا ہی نہ ہو یا وہ جو زمین کے بیج بدل دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 7043.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 7043.
حدیث نمبر: 5999 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: أَقْبَلْتُ مِنْ مَسْجِدِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَاءَ عَلَى بَغْلَةٍ لِي، قَدْ صَلَّيْتُ فِيهِ، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَاشِيًا، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ نَزَلْتُ عَنْ بَغْلَتِي، ثُمّ قُلْتُ: ارْكَبْ أَيْ عَمِّ، قَالَ: أَيْ ابْنَ أَخِي، لَوْ أَرَدْتُ أَنْ أَرْكَبَ الدَّوَابَّ لَوَجَدْتُهَا، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَمْشِي إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى يَأْتِيَ فَيُصَلِّيَ فِيهِ"، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَمْشِيَ إِلَيْهِ كَمَا رَأَيْتُهُ يَمْشِي، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَ، وَمَضَى عَلَى وَجْهِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن قیس بن مخرمہ کہتے ہیں کہ میں اپنے خچر پر سوار ہو کر مسجد قباء سے آرہا تھا وہاں مجھے نماز پڑھنے کا موقع بھی ملا تھا راستے میں میری ملاقات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہو گئی جو پیدل چلے آرہے تھے، میں انہیں دیکھ کر اپنے خچر سے اترپڑا اور ان سے عرض کیا کہ چچاجان! آپ اس پر سوار ہوجائیے، انہوں نے فرمایا: بھتیجے! اگر میں سواری پر سوار ہونا چاہتا تو مجھے سواریاں مل جاتیں، لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس مسجد کی طرف پیدل جاتے ہوئے دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہاں پہنچ کرنماز بھی پڑھتے تھے اس لئے جیسے میں نے انہیں پیدل جاتے ہوئے دیکھا ہے اسی طرح خود بھی پیدل جانا پسند کرتا ہوں یہ کہہ کر انہوں نے سوار ہونے سے انکار کر دیا اور اپنے راستے پر ہو لئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5999]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل ابن إسحاق، وقد صرح بالتحديث هنا، فانتفت شبهة تدليسه.
الحكم: إسناده حسن من أجل ابن إسحاق، وقد صرح بالتحديث هنا، فانتفت شبهة تدليسه.
حدیث نمبر: 6000 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ، وَأَتْبَعَهَا بَصَرَهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَهِيَ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ"، يَعْنِي السَّبَّابَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز میں بیٹھتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اور اس پر اپنی نگاہیں جما دیتے، پھر فرماتے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شہادت والی انگلی شیطان کے لئے لوہے سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6000]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لكثير بن زيد.
الحكم: إسناده ضعيف لكثير بن زيد.
حدیث نمبر: 6001 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرٍ ، يُحَنَّسَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرٍ ، عَنْ يُحَنَّسَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور سختیوں پر صبر کرے، میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6001]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1377.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1377.
حدیث نمبر: 6002 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، يَحْيَى ، أَبُو قِلَابَةَ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، قَالَ: قَالَ لِي يَحْيَى , حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَتَخْرُجُ نَارٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنْ بَحْرِ حَضْرَمَوْتَ، تَحْشُرُ النَّاسَ"، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ہے کہ قیامت کے قریب حضرموت " جو کہ شام کا ایک علاقہ ہے " کے سمندر سے ایک آگ نکلے گی اور لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی، ہم نے پوچھا یا رسول اللہ!! پھر آپ اس وقت کے لئے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: ملک شام کو اپنے اوپر لازم کر لینا (وہاں چلے جانا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6002]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6003 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، لَيْثٌ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَلْبَسُوا الْقُمُيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الْوَرْسُ , وَلَا الزَّعْفَرَانُ، وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ، وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کرنبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ!! احرام کی حالت میں آپ ہمیں کون سے کپڑے پہننے کی اجازت دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہ محرم قمیض، شلوار، عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہیے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے اسی طرح ٹوپی، یا ایساکپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو، بھی محرم نہیں پہن سکتا اور عورت حالت احرام میں چہرے پر نقاب یا ہاتھوں میں دستانے نہ پہنے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6003]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1838، م: 1177.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1838، م: 1177.
حدیث نمبر: 6004 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، نَافِعٌ ، عَبْدَ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ :" كَانَ يُنِيخُ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنِيخُ بِهَا وَيُصَلِّي بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ ذوالحلیفہ کی وادی بطحاء میں اپنی سواری بٹھاتے تھے یہ وہی جگہ تھی جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی اونٹنی بٹھاتے اور نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6004]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1257.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1257.
حدیث نمبر: 6005 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَلَقَ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ" مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ" وَالْمُقَصِّرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حلق کر ایاجب کہ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ میں سے بعض نے حلق اور بعض نے قصر کر ایا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یا دو مرتبہ حلق کر انے والوں پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، پھر فرمایا: اور قصر کر انے والوں پر بھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6005]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 1727، م: 1301.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 1727، م: 1301.
حدیث نمبر: 6006 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَكَانَا جَمِيعًا، وَيُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا، وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب دو آدمی خریدو فروخت کر یں تو ان میں سے ہر ایک کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں اور اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیاردے دے اور وہ دونوں اسی پر بیع کر لیں تو بیع لازم ہو گئی اور اگر بیع کے بعد دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور ان میں سے کسی نے بیع کو ترک نہیں کیا تب بھی بیع لازم ہو گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6006]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 2112، م: 1531.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 2112، م: 1531.
حدیث نمبر: 6007 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ إِذَا لَبِسَهُ، فَصَنَعَ النَّاسُ، ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ، فَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ، وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ"، فَرَمَى بِهِ، ثُمَّ قَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا"، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اس کا نگینہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بر سر منبر اسے پھینک دیا اور فرمایا: میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی طرف کر لیتا تھا واللہ اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا چنانچہ لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6007]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 6651، م: 2091.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 6651، م: 2091.