بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 21 از 102
حدیث نمبر: 4848 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ، فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کی نماز کے متعلق فرمایا: تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطور وتر کے ایک رکعت اور ملا لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4848]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 473، م: 749
الحكم: إسناده صحيح، خ: 473، م: 749
حدیث نمبر: 4849 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الشَّيْبَانِيُّ ، زِيَادُ بْنُ صُبَيْحٍ الْحَنَفِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ صُبَيْحٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا أُصَلِّي إِلَى الْبَيْتِ، وَشَيْخٌ إِلَى جَانِبِي، فَأَطَلْتُ الصَّلَاةَ، فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى خَصْرِي، فَضَرَبَ الشَّيْخُ صَدْرِي بِيَدِهِ ضَرْبَةً لَا يَأْلُو، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: مَا رَابَهُ مِنِّي؟ فَأَسْرَعْتُ الِانْصِرَافَ، فَإِذَا غُلَامٌ خَلْفَهُ قَاعِدٌ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا الشَّيْخُ؟ قَالَ: هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَجَلَسْتُ حَتَّى انْصَرَفَ، فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا رَابَكَ مِنِّي؟ قَالَ: أَنْتَ هُوَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" ذَاكَ الصَّلْبُ فِي الصَّلَاةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد بن صبیح حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بیت اللہ کے سامنے کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، میرے پہلو میں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے، میں نے نماز کو لمبا کر دیا اور ایک مرحلے پر اپنی کوکھ پر ہاتھ رکھ لیا، شیخ مذکور نے یہ دیکھ کر میرے سینے پر ایسا ہاتھ مارا کہ کسی قسم کی کسر نہ چھوڑی، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ انہیں مجھ سے کیا پریشانی ہے؟ چنانچہ میں نے جلدی سے نماز کو مکمل کیا۔ دیکھا تو ایک غلام ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میں نے پوچھا یہ بزرگ کون ہیں؟ اس نے بتایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو گئے، میں نے ان سے عرض کیا کہ اے عبدالرحمن! آپ کو مجھ سے کیا پریشانی تھی؟ انہوں نے پوچھا: کیا تم وہی ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: نماز میں اتنی سختی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے منع فرماتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4849]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 4850 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عَرَفَةَ، مِنَّا الْمُكَبِّرُ، وَمِنَّا الْمُهِلُّ، أَمَّا نَحْنُ فَنُكَبِّرُ، قَالَ: قُلْتُ: الْعَجَبُ لَكُمْ!! كَيْفَ لَمْ تَسْأَلُوهُ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جب میدان عرفات کی طرف روانہ ہوئے تو ہم سے بعض لوگ تکبیر کہہ رہے تھے اور بعض تلبیہ پڑھ رہے تھے، جبکہ ہم تکبیر کہہ رہے تھے، راوی نے کہا کہ تعجب ہے تم لوگوں پر کہ تم نے ان سے نہیں پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کر رہے تھے (تکبیر یا تلبیہ)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4850]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1284
الحكم: إسناده صحيح، م: 1284
حدیث نمبر: 4851 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَبَرَةَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ وَبَرَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الذِّئْبِ لِلْمُحْرِمِ، يَعْنِي، وَالْفَأْرَةَ، وَالْغُرَابَ وَالْحِدَأَ، فَقِيلَ لَهُ: فَالْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ؟ فَقَالَ: قَدْ كَانَ يُقَالُ ذَاكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محرم کو چوہے، کوے اور بھیڑیئے، کو مار دینے کا حکم دیا ہے کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سانپ اور بچھو کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے کہا کہ ان کے متعلق بھی کہا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4851]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4852 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا اشْتَرَى نَخْلًا قَدْ أَبَّرَهَا صَاحِبُهَا، فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الثَّمَرَةَ لِصَاحِبِهَا الَّذِي أَبَّرَهَا، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُشْتَرِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کھجور کا پیوندکاری شدہ درخت خریدا، ان دونوں کا جھگڑا ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ جھگڑا پیش ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ پھل درخت کے مالک کا ہے جس نے اس کی پیوندکاری کی ہے الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) نے پھل سمیت درخت خریدنے کی شرط لگائی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4852]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2206، م: 1543، وهذا إسناد منقطع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2206، م: 1543، وهذا إسناد منقطع
حدیث نمبر: 4853 مسند احمد
يَزِيدُ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، الْحَسَنِ بْنِ هَادِيَةَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ . ح وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ هَادِيَةَ ، قَالَ: لَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَال إِسْحَاقُ:، فَقَالَ لِي: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ عُمَانَ، قَالَ: مِنْ أَهْلِ عُمَانَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَلَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا: عُمَانُ، يَنْضَحُ بِجَانِبِهَا"، وَقَالَ إِسْحَاقُ:" بِنَاحِيَتِهَا الْبَحْرُ، الْحَجَّةُ مِنْهَا أَفْضَلُ مِنْ حَجَّتَيْنِ مِنْ غَيْرِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن بن ہادیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے میری ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس علاقے سے ہے؟ میں نے بتایا کہ میں اہل عمان میں سے ہوں، انہوں نے فرمایا کہ واقعی؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں، فرمایا: پھر کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک ایسا علاقہ جانتا ہوں جسے عمان کہا جاتا ہے، اس کے ایک جانب سمندر بہتا ہے وہاں سے آ کر ایک حج کرنا دوسرے علاقے سے دو حج کرنے سے زیادہ افضل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4853]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن بن هادية انفرد بالرواية عنه الزبير بن الخيريت وليس له إلا هذا الحديث، و ذكره ابن حبان فى «الثقات» : 123/4، ولم يؤثر توثيقه عن أحد غيره
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن بن هادية انفرد بالرواية عنه الزبير بن الخيريت وليس له إلا هذا الحديث، و ذكره ابن حبان فى «الثقات» : 123/4، ولم يؤثر توثيقه عن أحد غيره
حدیث نمبر: 4854 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَفَعَ خَيْبَرَ إِلَى أَهْلِهَا بِالشَّطْرِ، فَلَمْ تَزَلْ مَعَهُمْ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا، وَحَيَاةَ أَبِي بَكْرٍ، وَحَيَاةَ عُمَرَ، حَتَّى بَعَثَنِي عُمَرُ لِأُقَاسِمَهُمْ، فَسَحَرُونِي، فَتَكَوَّعَتْ يَدِي، فَانْتَزَعَهَا عُمَرُ مِنْهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کا علاقہ وہاں کے رہنے والوں ہی کے پاس نصف پیداوار کے عوض رہنے دیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پوری حیات طیبہ میں ان کے ساتھ یہی معاملہ رہا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں بھی اسی طرح رہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں بھی اسی طرح رہا، ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے خیبر بھیجا تاکہ ان کے حصے تقسیم کر دوں، تو وہاں کے یہودیوں نے مجھ پر جادو کر دیا اور میرے ہاتھ کی ہڈی کا جوڑ ہل گیا، اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خبیر کو ان سے چھین لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4854]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الحجاج بن أرطاة، وقد سلف نحوه بإسناد حسن فى «مسند عمر بن الخطاب» رقم: 90
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الحجاج بن أرطاة، وقد سلف نحوه بإسناد حسن فى «مسند عمر بن الخطاب» رقم: 90
حدیث نمبر: 4855 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِي بَرِيرَة، فَأَبَى أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمْ وَلَاؤُهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِيها فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدنا چاہا لیکن بریرہ کے مالک نے انہیں بیچنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر ولاء ہمیں ملے تو ہم بیچ دیں گے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خرید کر آزاد کر دو، ولاء اسی کا حق ہے جو قیمت ادا کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4855]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6759
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6759
حدیث نمبر: 4856 مسند احمد
يَزِيدُ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، نَافِعٌ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ: وَجَدَ ابْنُ عُمَرَ الْقُرَّ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ:" أَلْقِ عَلَيَّ ثَوْبًا، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا، فَأَخَّرَهُ، وَقَالَ: تُلْقِي عَلَيَّ ثَوْبًا قَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حالت احرام میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ٹھنڈ لگ گئی وہ مجھ سے کہنے لگے کہ مجھ پر کوئی کپڑا ڈال دو، میں نے ان پر ٹوپی ڈال دی، انہوں نے اسے پیچھے کر دیا اور کہنے لگے کہ تم مجھ پر ایسا کپڑا ڈال رہے جسے محرم کے پہننے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4856]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5794
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5794
حدیث نمبر: 4857 مسند احمد
مُعَاذٌ ، ابْنُ عَوْنٍ ، نافِعٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نافِعٍ أَسْأَلُهُ هَلْ كَانَتْ الدَّعْوَةُ قَبْلَ الْقِتَالِ؟ قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ ذَاكَ كَانَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ" أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ، وَسَبَى سَبْيَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ ابْنَةَ الْحَارِثِ"، وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن عون رحمہ اللہ کہتے کہ میں نے نافع رحمہ اللہ کے پاس ایک خط لکھا جس میں ان سے دریافت کیا کہ کیا قتال سے پہلے مشرکین کو دعوت دی جاتی تھی؟ انہوں نے مجھے جواب میں لکھ بھیجا کہ ایسا ابتداء اسلام میں ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو مصطلق پر جس وقت حملہ کیا تھا وہ لوگ غافل تھے اور ان کے جانور پانی پی رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لڑاکا لوگوں کو قتل کر دیا، بقیہ افراد کو قید کر لیا اور اسی دن سیدہ جویرہ بنت حارث ان کے حصے میں آئیں، مجھ سے یہ حدیث سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی ہے جو لشکر میں شریک تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4857]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2541، م: 1730
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2541، م: 1730
حدیث نمبر: 4858 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خُبَيْبٍ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ سِتَّ سِنِينَ بِمِنًى، فَصَلَّوْا صَلَاةَ الْمُسَافِرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حضرات شیخین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور چھ سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی منٰی میں نماز پڑھی ہے یہ سب حضرات مسافروں والی نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4858]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 694
الحكم: إسناده صحيح، م: 694
حدیث نمبر: 4859 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ شَجَرَةٍ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، فَمَا هِيَ؟" قَالَ: فَقَالُوا وَقَالُوا، فَلَمْ يُصِيبُوا، وَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ النَّخْلَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جو مسلمان کی طرح ہے (بتاؤ وہ کون سادرخت ہے؟) لوگوں نے اپنی اپنی رائے پیش کی، میں نے کہنا چاہا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن پھر خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہی فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4859]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6122، م: 2811
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6122، م: 2811
حدیث نمبر: 4860 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي اللَّيْلَ مَثْنَى مَثْنَى، ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَقُومُ كَأَنَّ الْأَذَانَ أوِ الْإِقَامَةَ فِي أُذُنَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھتے تھے پھر رات کے آخری حصے میں ان کے ساتھ ایک رکعت ملا کر (تین) وتر پڑھ لیتے تھے، پھر اس وقت کھڑے ہوتے جب اذان یا اقامت کی آواز کانوں میں پہنچتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4860]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 995
الحكم: إسناده صحيح، خ: 995
حدیث نمبر: 4861 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِسْمَاعِيلُ ، أَبِي حَنْظَلَةَ ، ابْنَ عُمَر
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَبِي حَنْظَلَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَر عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ:" الصَّلَاةُ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ"، فَقَالَ: إِنَّا آمِنُونَ لَا نَخَافُ أَحَدًا، قَالَ: سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سفر کی نماز کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کہ سفر میں نماز کی دو رکعتیں ہیں، ہم نے کہا کہ اب تو ہر طرف امن و امان ہے اور ہمیں کسی کا خوف بھی نہیں ہے؟ فرمایا یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4861]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل أبى حنظلة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل أبى حنظلة
حدیث نمبر: 4862 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6، لِعَظَمَةِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى إِنَّ الْعَرَقَ لَيُلْجِمُ الرِّجَالَ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت «يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» جب لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ کی تفسیر میں فرمایا کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4862]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن إسحاق. وإن كان مدلسا وقد عنعن. قد توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن إسحاق. وإن كان مدلسا وقد عنعن. قد توبع
حدیث نمبر: 4863 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ، قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4863]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2003، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 2003، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 4864 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَائِشَةُ:
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ:" يَا فُلَانُ يَا فُلَانُ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهُمْ الْآنَ لَيَسْمَعُونَ كَلَامِي"، قَالَ يَحْيَى: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّهُ وَهِلَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الْآنَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقُّ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ سورة فاطر آية 22.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ بدر کے دن اس کنوئیں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے جس میں صنادید قریش کی لاشیں پڑی تھیں اور ایک ایک کا نام لے لے کر فرمانے لگے، کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ بخدا! اس وقت یہ لوگ میری بات سن رہے ہیں، یحییٰ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب یہ حدیث معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگیں، اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے، انہیں وہم ہو گیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ اب یقین ہو گیا ہے کہ میں ان سے جو کہتا تھا وہ سچ تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں «إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَ» ى آپ مردوں کو سنا نہیں سکتے نیز یہ کہ «إِوَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ» آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4864]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4865 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَائِشَةُ:
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْر، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا لَيُعَذَّبُ الْآنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّهُ وَهِلَ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا لَيُعَذَّبُ الْآنَ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی قبر کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ اس وقت اسے اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن (ابن عمر رضی اللہ عنہما) کی بخشش فرمائے انہیں وہم ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4865]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1286، م: 928، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 1286، م: 928، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 4866 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: ، عَائِشَةُ:
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ صَفَّقَ الثَّالِثَةَ، وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّهُ وَهِلَ، إِنَّمَا هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ نَزَلَتْ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ! فَقَالَ:" إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مہینہ ٢٩ دن کا ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے دس دس کا اشارہ کیا اور تیسری مرتبہ اشارہ کرتے وقت انگوٹھا بند کر لیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث معلوم ہونے پر فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے انہیں وہم ہو گیا ہے دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینے کے لئے ازاواج مطہرات کو چھوڑ دیا تھا ٢٩ دن ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بالاخانے سے نیچے آ گئے لوگوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ تو ٢٩ ویں دن ہی نیچے آگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بعض اوقات مہینہ ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4866]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 4867 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِسْمَاعِيلُ ، سَالِمٍ الْبَرَّادِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ"، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَا الْقِيرَاطُ"؟ قَالَ:" مِثْلُ أُحُدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ قیراط کیا ہوتا ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4867]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح