يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا اشْتَرَى نَخْلًا قَدْ أَبَّرَهَا صَاحِبُهَا، فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الثَّمَرَةَ لِصَاحِبِهَا الَّذِي أَبَّرَهَا، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُشْتَرِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کھجور کا پیوندکاری شدہ درخت خریدا، ان دونوں کا جھگڑا ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ جھگڑا پیش ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ پھل درخت کے مالک کا ہے جس نے اس کی پیوندکاری کی ہے الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) نے پھل سمیت درخت خریدنے کی شرط لگائی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4852]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2206، م: 1543، وهذا إسناد منقطع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2206، م: 1543، وهذا إسناد منقطع