يَزِيدُ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، الْحَسَنِ بْنِ هَادِيَةَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ . ح وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ هَادِيَةَ ، قَالَ: لَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَال إِسْحَاقُ:، فَقَالَ لِي: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ عُمَانَ، قَالَ: مِنْ أَهْلِ عُمَانَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَلَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا: عُمَانُ، يَنْضَحُ بِجَانِبِهَا"، وَقَالَ إِسْحَاقُ:" بِنَاحِيَتِهَا الْبَحْرُ، الْحَجَّةُ مِنْهَا أَفْضَلُ مِنْ حَجَّتَيْنِ مِنْ غَيْرِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن بن ہادیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے میری ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس علاقے سے ہے؟ میں نے بتایا کہ میں اہل عمان میں سے ہوں، انہوں نے فرمایا کہ واقعی؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں، فرمایا: پھر کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک ایسا علاقہ جانتا ہوں جسے ”عمان“ کہا جاتا ہے، اس کے ایک جانب سمندر بہتا ہے وہاں سے آ کر ایک حج کرنا دوسرے علاقے سے دو حج کرنے سے زیادہ افضل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4853]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن بن هادية انفرد بالرواية عنه الزبير بن الخيريت وليس له إلا هذا الحديث، و ذكره ابن حبان فى «الثقات» : 123/4، ولم يؤثر توثيقه عن أحد غيره
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن بن هادية انفرد بالرواية عنه الزبير بن الخيريت وليس له إلا هذا الحديث، و ذكره ابن حبان فى «الثقات» : 123/4، ولم يؤثر توثيقه عن أحد غيره