بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 7 از 102
حدیث نمبر: 4568 مسند احمد
سُفْيَانُ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، مَسْجِدَ قُبَاءَ يُصَلِّي فِيهِ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ رِجَالُ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ، وَدَخَلَ مَعَهُ صُهَيْبٌ، فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ؟ قَالَ: يُشِيرُ بِيَدِهِ، قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ لِرَجُلٍ: سَلْ زَيْدًا: أَسَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ؟ وَهِبْتُ أَنَا أَنْ أَسْأَلَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا أُسَامَةَ، سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا، فَقَدْ رَأَيْتُهُ فَكَلَّمْتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو عمرو بن عوف کی مسجد یعنی مسجد قباء میں نماز پڑھنے کی لئے تشریف لے گئے وہاں کچھ انصاری صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کر نے کے لئے حاضر ہوئے ان کے ساتھ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب سلام کیا جاتا ہے تو آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرح جواب دیتے تھے؟ فرمایا کہ ہاتھ سے اشارہ کر دیتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے کہا سیدنا زید بن اسلم رحمہ اللہ سے پوچھو کہ یہ روایت آپ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خود سنی ہے؟ مجھے خود سوال کر نے میں ان کا رعب حائل ہو گیا چنانچہ اس آدمی نے ان سے پوچھا کہ اے ابواسامہ! کیا آپ نے یہ روایت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خود سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے انہیں دیکھا بھی ہے اور ان سے بات چیت بھی کی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4568]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4569 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ أَوْ غَزْوٍ فَأَوْفَى عَلَى فَدْفَدٍ مِنَ الْأَرْضِ، قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، آيِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب حج جہاد یا عمرہ سے واپس آتے تو زمین کے جس بلند حصے پر چڑھتے یہ دعا پڑھتے: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں سجدہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے واپس آ رہے ہیں اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو اکیلے ہی شکت دے دی، توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں سجدہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے واپس آ رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4569]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2995، م: 1344
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2995، م: 1344
حدیث نمبر: 4570 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، سَالِمٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ: كَان ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ: هَذِهِ الْبَيْدَاءُ الَّتِي يَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! وَاللَّهِ" مَا أَحْرَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے، یہ وہ مقام بیداء ہے جس کے متعلق تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف غلط نسبت کرتے ہو واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد ہی سے احرام باندھا ہے (مقام بیداء سے نہیں جیسا کہ تم نے مشہور رکھا ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4570]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1541، م: 1187
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1541، م: 1187
حدیث نمبر: 4571 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ، فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطور وتر کے ایک رکعت اور ملا لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4571]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 473، م: 729
الحكم: إسناده صحيح، خ: 473، م: 729
حدیث نمبر: 4572 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:" لَا تَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ، أَلَا وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ، وَإِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ بِالْإِبِلِ أَوْ عَنِ الْإِبِلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دیہاتی لوگ تمہاری نماز کے نام پر غالب نہ آ جائیں، یاد رکھو! اس کا نام نماز عشاء ہے اس وقت یہ اپنے اونٹوں کا دودہ دوہتے ہیں (اس مناسبت سے عشاء کی نماز کو عتمہ کہہ دیتے ہیں)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4572]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 644
الحكم: إسناده صحيح، م: 644
حدیث نمبر: 4573 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، وَهِشَامٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وَهِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الضَّبِّ؟ فَقَالَ:" لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4573]
حکم دارالسلام
هذا الحديث له إسنادان: الأول : سفيان، عن عبدالله بن دينار، عن ابن عمر، وهو إسناد صحيح على شرط الشيخين، والثاني: سفيان، عن هشام بن عروة، عن عروة بن الزبير، وهذا إسناد ضعيف لإرساله، عروة بن الزبير لم يدرك النبى ، وقد سلف تخريجه بالإسناد الأول برقم: 4562 .
الحكم: هذا الحديث له إسنادان: الأول : سفيان، عن عبدالله بن دينار، عن ابن عمر، وهو إسناد صحيح على شرط الشيخين، والثاني: سفيان، عن هشام بن عروة، عن عروة بن الزبير، وهذا إسناد ضعيف لإرساله، عروة بن الزبير لم يد
حدیث نمبر: 4574 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَافِعٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ أَسْرَعْتُ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَجَلَسْتُ، فَلَمْ أَسْمَعْ حَتَّى نَزَلَ، فَسَأَلْتُ النَّاسَ أَيَّ شَيْءٍ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا:" نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک مرتبہ منبر پر جلوہ افروز دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتے ہی میں تیزی سے مسجد میں داخل ہوا اور ایک جگہ جا کر بیٹھ گیا لیکن ابھی سننے کا موقعہ نہ ملا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4574]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1997
الحكم: إسناده صحيح، م: 1997
حدیث نمبر: 4575 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ، فَقَلَّبْتُ الْحَصَى، فَقَالَ:" لَا تُقَلِّبْ الْحَصَى، فَإِنَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَلَكِنْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ كَانَ يُحَرِّكُهُ هَكَذَا"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: يَعْنِي مَسْحَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علی بن عبدالرحمن معاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں نماز پڑھنے کا موقعہ ملا میں کنکر یوں کو الٹ پلٹ کر نے لگا، تو انہوں نے مجھے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ شیطانی عمل ہے البتہ اس طرح کرنا جائز ہے جیسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ وہ اس طرح انہیں حرکت دیتے تھے۔ راوی نے ہاتھ پھیر کر دکھایا (سجدے کی جگہ پر اسے برابر کر لیتے تھے بار بار اسی میں لگ کر نماز خراب نہیں کرتے تھے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4575]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 850
الحكم: إسناده صحيح، م: 850
حدیث نمبر: 4576 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سفر میں جاتے وقت قرآن کریم اپنے ساتھ نہ لے جایا کرو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4576]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1869
الحكم: إسناده صحيح، م: 1869
حدیث نمبر: 4577 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) سَمِعْت سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْت سُفْيَانَ، قَالَ: إِنَّهُ" نَذَرَ، يَعْنِي: أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَمَرَهُ" , قِيلَ لِسُفْيَانَ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ؟ قَالَ: نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے مسجد الحرام میں اعتکاف کر نے کی منت مانی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس منت کو پورا کر نے کا حکم دیا کسی نے سفیان سے پوچھا کہ یہ روایت ایوب نے نافع سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ منت مانی تھی؟ انہوں نے جواب دیا ہاں!۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4577]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4578 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَر
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَر ، أَنَّهُ قَالَ:" حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَبِيتَ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ مَا يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر مسلمان پر حق ہے کہ اس کی تین راتیں اس طرح نہیں گزرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4578]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1627
الحكم: حديث صحيح، م: 1627
حدیث نمبر: 4579 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ، فَبَلَغَتْ سِهَامُهُمْ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ روانہ فرمایا ان کا حصہ بارہ بارہ اونٹ بنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک ایک اونٹ بطور انعام کے بھی عطاء فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4579]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4338، م: 1749
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4338، م: 1749
حدیث نمبر: 4580 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِضَجْنَانَ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ نَادَى أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ مُنَادِيًا فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ أَوْ الْبَارِدَةِ:" أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وادی ضجنان میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نماز کا اعلان کروایا، پھر یہ منادی کر دی کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی دوران سفر سردی کی راتوں میں یا بارش والی راتوں میں نماز کا اعلان کر کے یہ منادی کر دیتے تھے کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4580]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4581 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَدْ اسْتَثْنَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص قسم کھاتے وقت ان شاء اللہ کہہ لے اسے اختیار ہے اگر اپنی قسم پوری کرنا چاہے تو کر لے اور اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو حانث ہوئے بغیر رجوع کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4581]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4582 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قَرِأَ عَلَيَّ سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حاملہ جانور کے حمل سے پیدا ہونے والے بچے کی جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہے پیٹ میں ہی بیع کر نے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4582]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2256، م:1514
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2256، م:1514
حدیث نمبر: 4583 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ جُدْعَانَ ، الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَهُوَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَأِ بِالسَّوْطِ أَوْ الْعَصَا فِيهِ مِئَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَقَالَ مَرَّةً: الْمُغَلَّظَةُ فِيهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً، فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا ألاَ إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَدَمٍ وَدَعْوَى، وَقَالَ مَرَّةً: وَدَمٍ وَمَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ، فَإِنِّي أُمْضِيهِمَا لِأَهْلِهِمَا عَلَى مَا كَانَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فتح مکہ کہ دن خانہ کعبہ کی سیڑھیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو تن تنہا شکست دی، یاد رکھو لکڑی یا لاٹھی سے مقتول ہو جانے والے کی دیت سو اونٹ ہے۔ بعض اسانید کے مطابق اس میں دیت مغلظہ ہے جن میں چالیس حاملہ اونٹیاں بھی ہوں گی۔ یاد رکھو! زمانہ جاہلیت کا ہر تفاخر،ہر خون اور ہر دعوی میرے ان دو قدموں کے نیچے ہے البتہ حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ شریف کی کلید برداری کا جو عہدہ ہے میں اسے ان عہدوں کے حاملین کے لئے برقرار رکھتا ہوں جب تک دنیا باقی ہے (یہ عہدے ان ہی لوگوں کے پاس رہیں گے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4583]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف ابن جدعان
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف ابن جدعان
حدیث نمبر: 4584 مسند احمد
سُفْيَانُ ، صَدَقَةَ ، ابْنُ عُمَر
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعَ صَدَقَةَ ابْنُ عُمَر ، يَقُولُ: يَعْنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ"، وَلَمْ يَسْمَعْهُ ابْنُ عُمَرَ، وَسَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذي الْحُلَيْفَةِ"، قَالُوا لَهُ: فَأَيْنَ أَهْلُ الْعِرَاقِ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے، اہل شام جحفہ سے، اہل یمن یلملم اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں۔ لوگوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اہل عراق کہاں گئے؟ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت اس کی میقات نہیں تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4584]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1525 م: 1182
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1525 م: 1182
حدیث نمبر: 4585 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ يَحُطَّانِ الذُّنُوبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام انسان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4585]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، سفيان ابن عيينة سمع من عطاء ابن السائب قبل الإختلاط
الحكم: إسناده حسن، سفيان ابن عيينة سمع من عطاء ابن السائب قبل الإختلاط
حدیث نمبر: 4586 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، ابْنِ عُمَرَ ، رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو : ابْنِ عُمَرَ كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا، حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، فَتَرَكْنَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ زمین مزارعت پر دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے بعد میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے چنانچہ ہم نے اسے چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4586]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3343، م: 1547
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3343، م: 1547
حدیث نمبر: 4587 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو : سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ:" حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي؟ قَالَ:" لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا، فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لعان کرنے والوں سے ارشاد فرمایا کہ تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمے ہے، تم میں سے کوئی ایک تو یقیناً جھوٹا ہے اور اب تمہیں اس عورت پر کوئی اختیار نہیں ہے، اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا مال؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کوئی مال نہیں ہے، اگر اس پر تمہارا الزام سچا ہے تو اسی مال کے عوض تم نے اس کی شرمگاہ کو اپنے لئے حلال کیا تھا اور اگر اس پر تمہارا الزام جھوٹا ہے پھر تو تمہاے لئے یہ بات بہت بعید ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4587]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5312، م: 1493
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5312، م: 1493