بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 74 از 102
حدیث نمبر: 5908 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا سَرَى أَحَدٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو تنہا سفر کر نے کا نقصان معلوم ہو جائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہا سفر نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5908]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناده ضعيف لضعف مؤمل، وقد توبع.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناده ضعيف لضعف مؤمل، وقد توبع.
حدیث نمبر: 5909 مسند احمد
قَالَ أَبِي: وَحَدَّثَنَا بِهِ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً أُخْرَى، وَلَمْ يَقُلْ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مرسلاً بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5909]
حکم دارالسلام
صحيح على إرساله وضعف إسناده، وانظر ما قبله.
الحكم: صحيح على إرساله وضعف إسناده، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 5910 مسند احمد
قَالَ عَبْد اللَّهِ بنْ أَحْمَّد , سَمِعْت أَبِي , يَقُولُ: قَدْ سَمِعَ مُؤَمَّلٌ، مِنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي أَحَادِيثَ، وَسَمِعَ أَيْضًا مِنْ ابْنِ جُرَيْجٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مؤمل نے عمر بن محمد بن زید سے بھی حدیث کی سماعت کی ہے اور ابن جریج سے بھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5910]
حدیث نمبر: 5911 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پہلی امتوں کے مقابلے میں تمہاری مدت اتنی ہی ہے جتنی عصر کی نماز سے لے کر غروب آفتاب تک ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5911]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - قد توبع.
الحكم: حديث صحيح، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - قد توبع.
حدیث نمبر: 5912 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ سورة المعارج آية 4 فِي الرَّشْحِ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت جب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے اور اس آیت وہ دن جس کی مقدارپچاس ہزار سال کے برابر ہو گی کی تفسیر میں فرمایا کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5912]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - قد توبع.
الحكم: حديث صحيح، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - قد توبع.
حدیث نمبر: 5913 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، قَالَ: قَالَ لِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ : مَا سَمِعْتَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَذْكُرُ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْكَوْثَرِ؟ فَقُلْتُ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَذَا الْخَيْرُ الْكَثِيرُ، فَقَالَ مُحَارِبٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ! مَا أَقَلَّ مَا يَسْقُطُ لِابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلٌ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: لَمَّا أُنْزِلَتْ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، حَافَتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ، يَجْرِي عَلَى جَنَادِلِ الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ، شَرَابُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ"، قَالَ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، هَذَا وَاللَّهِ الْخَيْرُ الْكَثِيرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن سائب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے محارب بن دثار نے کہا کہ آپ نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے کوثر کے متعلق کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد خیر کثیر ہے، محارب نے کہا: سبحان اللہ! سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول اتنا کم وزن نہیں ہو سکتا، میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب سورت کوثر نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوثر جنت کی ایک نہر کا نام ہے، جس کا پانی موتیوں اور یاقوت کی کنکریوں پر بہتا ہے، اس کا پانی شہد سے زیادہ شریں، دودھ سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، محارب نے یہ سن کر کہا کہ پھر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صحیح فرمایا: کیونکہ واللہ یہ خیر کثیر ہی تو ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5913]
حکم دارالسلام
حديث قوي
الحكم: حديث قوي
حدیث نمبر: 5914 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص اپنے بھائی کو اے کافر! کہتا ہے تو دونوں میں سے کوئی ایک تو کافر ہو کر لوٹتا ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5914]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، مؤمل بن إسماعيل - وإن كان سيئ الحفظ - تابعه يحيى بن سعيد فيما سلف برقم:4687، ووكيع فيما سلف برقم:5259.
الحكم: حديث صحيح، مؤمل بن إسماعيل - وإن كان سيئ الحفظ - تابعه يحيى بن سعيد فيما سلف برقم:4687، ووكيع فيما سلف برقم:5259.
حدیث نمبر: 5915 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5915]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3188، م: 1735، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - قد توبع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 3188، م: 1735، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - قد توبع.
حدیث نمبر: 5916 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ"، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا الْجَرُّ؟ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنَ الْمَدَرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مٹکے کی نبیذ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ آپ کو ابو عبدالرحمن پر تعجب نہیں ہوتا ان کا خیال ہے کہ مٹکے کی نبیذ کو تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے میں نے پوچھا مٹکے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ہر وہ چیز جو پکی مٹی سے بنائی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5916]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1997.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1997.
حدیث نمبر: 5917 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ"، فَقَالَ: أَوَلَسْتَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ:" إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (رمضان کے مہینے میں) ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے لوگوں کو روکا، تو وہ کہنے لگے کہ کیا آپ اس طرح نہیں کرتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تو اللہ کی طرف سے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5917]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1962، م: 1102.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1962، م: 1102.
حدیث نمبر: 5918 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكًا ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، سَمِعْتُ مَالِكًا يُحَدِّثُ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانی میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5918]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2849، م: 1871.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2849، م: 1871.
حدیث نمبر: 5919 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ، فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمْ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ روانہ فرمایا جن میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے، ان کا حصہ بارہ بارہ اونٹ بنے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایک ایک اونٹ بطور انعام کے بھی عطاء فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5919]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3134، م: 1749.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3134، م: 1749.
حدیث نمبر: 5920 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ، فَإِنَّهُ يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، فَيُعْطَى شُرَكَاؤُهُ حِصَصَهُمْ، وَعَتَقَ الْعَبْدُ عَلَيْهِ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مَا عَتَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہو تو اس غلام کی قیمت لگائی جائے گی، باقی شرکاء کو ان کے حصے کی قیمت دے دی جائے گی اور غلام آزاد ہو جائے گا، ورنہ جتنا اس نے آزاد کیا ہے اتناہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5920]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2522، م: 1501.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2522، م: 1501.
حدیث نمبر: 5921 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ عَنْ صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت ستائیس درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5921]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 650.
الحكم: إسناده صحيح، م: 650.
حدیث نمبر: 5922 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَصَلَّى بِهَا، وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی وادی بطحاء میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی، خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5922]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1532، م: 1257.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1532، م: 1257.
حدیث نمبر: 5923 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، فَإِنْ تَعَاهَدَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حامل قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے جسے اس کا مالک اگر باندھ کر رکھے تو وہ اس کے قابو میں رہتا ہے اور اگر کھلاچھوڑ دے تو وہ نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5923]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5031، م: 789.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5031، م: 789.
حدیث نمبر: 5924 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا نَبْتَاعُ الطَّعَامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِنَقْلِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم لوگ خرید و فروخت کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس لوگوں کو بھیجتے تھے جو ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ اسے بیچنے سے پہلے اس جگہ سے جہاں سے ہم نے اسے خریدا ہے کسی اور جگہ منتقل کر لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5924]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5925 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَقَالَ:" مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ ضَارِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایسا کتا رکھے جو جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5925]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قصة الاقتناء أخرجها البخاري، 5482، ومسلم 1547، والأمر بالقتل أخرجه البخاري: 3323، ومسلم: 1570.
الحكم: إسناده صحيح، قصة الاقتناء أخرجها البخاري، 5482، ومسلم 1547، والأمر بالقتل أخرجه البخاري: 3323، ومسلم: 1570.
حدیث نمبر: 5926 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ، عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ , وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ , فَيُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر شخص کے سامنے جب وہ مر جاتا ہے صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو اہل جنت کا ٹھکانہ اور اگر اہل جہنم میں سے ہو تو اہل جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے تک تمہارا یہی ٹھکانہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5926]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1379، م: 2866.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1379، م: 2866.
حدیث نمبر: 5927 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، وَإِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَر ، بِلَالًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وَإِسْحَاقُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَر , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، فَأَغْلَقَهَا، فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُ بِلَالًا , مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" تَرَكَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ، وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ خَلْفَهُ، ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ"، قَالَ إِسْحَاقُ: وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہم تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کر دیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اندر کیا کیا؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو ستون دائیں ہاتھ، ایک ستون بائیں ہاتھ اور تین ستون پیچھے چھوڑ کر نماز پڑھی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خانہ کعبہ کی دیوار کے درمیان تین گز کا فاصلہ تھا، سالم کہتے ہیں کہ اس زمانے میں بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5927]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 505.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 505.