بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 8 از 102
حدیث نمبر: 4588 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: ابْنُ عَمْرٍو؟ قَالَ: لَا، ابْنُ عُمَرَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَاصَرَ أَهْلَ الطَّائِفِ، وَلَمْ يَقْدِرْ مِنْهُمْ عَلَى شَيْءٍ، قَالَ:" إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، فَكَأَنَّ الْمُسْلِمِينَ كَرِهُوا ذَلِكَ، فَقَالَ:" اغْدُوا"، فَغَدَوْا عَلَى الْقِتَالِ، فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا اور اس سے کچھ فائدہ نہ ہو سکا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک دن اعلان کروا دیا کہ کل ہم لوگ ان شاء اللہ واپس چلیں گے، مسلمانوں کو اس حکم پر اپنی طبیعت میں بوجھ محسوس ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خبر ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں رکنے کے لئے فرما دیا، چنانچہ اگلے دن لڑائی ہوئی تو اس میں مسلمانوں کے کئی آدمی زخمی ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس دن پھر یہی اعلان فرمایا کہ کل ہم لوگ ان شاء اللہ واپس چلیں گے اس مرتبہ مسلمان خوش ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دیکھ مسکر انے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4588]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4325، م: 1778
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4325، م: 1778
حدیث نمبر: 4589 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا، قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةً لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، ثُمَّ يُعْتَقُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر دو آدمیوں کے درمیان ایک غلام مشترک ہو اور ان میں سے کوئی ایک اپنے حصے سے اسے آزاد کر دے تو دوسرے کے مالدار ہونے کی صورت میں اس کی قیمت لگوائی جائے گی جو حد سے زیادہ کم یا زیادہ نہ ہو گی (اور دوسرے کو اس کا حصہ دے کر) غلام مکمل آزاد ہو جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4589]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2503، م: 1501
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2503، م: 1501
حدیث نمبر: 4590 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيِّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيِّ : بِعْتُ مَا فِي رُؤُوسِ نَخْلِي بِمِئَةِ وَسْقٍ، إِنْ زَاد فَلَهُمْ، وَإِنْ نَقَصَ فَلَهُمْ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ:" نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسماعیل شیبانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے باغ کی کھجوروں کو سو وسق کے بدلے بیچ دیا کہ اگر زیادہ ہوں تب بھی ان کی اور کم ہوں تب بھی ان کی، پھر میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، البتہ اندازے کے ساتھ بیع عرایا کی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4590]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4591 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ ، سَالِمٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، بَيْنَهُمَا سَالِمٌ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4591]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 882
الحكم: إسناده صحيح، م: 882
حدیث نمبر: 4592 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا أَضَاءَ الْفَجْرُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طلوع فجر کے وقت بھی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4592]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1180،
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1180،
حدیث نمبر: 4593 مسند احمد
سُفْيَانُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَر، وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: وَأَبِي، وَأَبِي! فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا، فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ، وَإِلَّا فَلْيَصْمُتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص قسم کھانا چاہے تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4593]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2679، م: 1646
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2679، م: 1646
حدیث نمبر: 4594 مسند احمد
سُفْيَانُ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" سَبَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْلَ، فَأَرْسَلَ مَا ضُمِّرَ مِنْهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَأَرْسَلَ مَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنْهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ کروایا ان میں سے جو گھوڑے چھریرے تھے انہیں حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک مسابقت کے لئے مقرر فرمایا اور جو چھریرے بدن کے نہ تھے ان کی ریس ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کروائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4594]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1870
الحكم: إسناده صحيح، م: 1870
حدیث نمبر: 4595 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، نَافِعٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ يُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ بِمَكَّةَ أَمْرًا، فَقَالَ:" أُهِلُّ بِالْعُمْرَةِ، فَإِنْ حُبِسْتُ، صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، فَلَمَّا سَارَ قَلِيلًا، وَهُوَ بِالْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا سَبِيلُ الْعُمْرَةِ إِلَّا سَبِيلُ الْحَجِّ، أُوجِبُ حَجًّا، وَقَالَ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا، فَإِنَّ سَبِيلَ الْحَجِّ سَبِيلُ الْعُمْرَةِ، فَقَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ، أَتَى قُدَيْدًا، فَاشْتَرَى هَدْيًا، فَسَاقَهُ مَعَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ عمرے کے ارادے سے روانہ ہوئے، لوگوں نے بتایا کہ اس وقت مکہ مکرمہ میں شورش بپا ہے انہوں نے فرمایا: میں عمرے کا احرام باندھ لیتا ہوں، اگر میرے سامنے بھی کوئی رکاوٹ پیش آ گئی تو میں وہی کروں گا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا، پھر چلتے چلتے جب مقام بیداء پر پہنچے تو فرمانے لگے کہ حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک ہی جیسا تو ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کے ساتھ حج کی بھی نیت کر لی ہے۔ چنانچہ وہ مکہ مکرمہ پہنچے اور سات چکر لگا کر ایک طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کے سات چکر لگائے اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ انہوں نے مقام قدیر پر پہنچ کر ہدی کا جانور خریدا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4595]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ 1639، م: 1230
الحكم: إسناده صحيح، خ 1639، م: 1230
حدیث نمبر: 4596 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " أَتَى قُدَيْدًا، وَاشْتَرَى هَدْيَهُ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ هَكَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مقام قدیر پر پہنچ کر ہدی کا جانور خریدا حرم شریف پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4596]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ 1639، م: 1230
الحكم: إسناده صحيح، خ 1639، م: 1230
حدیث نمبر: 4597 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، نَافِعٍ ، رَجُلًا
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ: أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِسَلْعٍ، بَلَغَ الْمَوْتُ شَاةً مِنْهَا، فَأَخَذَتْ ظُرَرَةً، فَذَكَّتْهَا بِهِ، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے بنو سلمہ کے ایک آدمی کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک باندی تھی جو سلع میں ان کی بکریاں چرایا کر تی تھی ان بکریوں میں سے ایک بکری مرنے کے قریب ہو گئی تو اس باندی نے تیز دھاری دار پتھر لے کر اس بکری کو اس سے ذبح کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4597]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ 5502
الحكم: إسناده صحيح، خ 5502
حدیث نمبر: 4598 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نجِيحٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نجِيحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى الْحِمَى، فَلَمَّا غَرُبَتْ الشَّمْسُ، هِبْنَا أَنْ نَقُولَ لَهُ: الصَّلَاةَ، حَتَّى ذَهَبَ بَيَاضُ الْأُفُقِ، وَذَهَبَتْ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ،" نَزَلَ، فَصَلَّى بِنَا ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ، وَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنو اسد بن عبدالعزی کے اسماعیل بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چراگاہ کے لئے نکلے سورج غروب ہو گیا، پھر جب رات کی تاریکی چھانے لگی تو انہوں نے اتر کر ہمیں پہلے تین اور پھر دو رکعتیں پڑھائیں اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4598]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1805
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1805
حدیث نمبر: 4599 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارَةٍ، فَقَالَ:" إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً مَثَلُهَا كَمَثَلِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ"، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، فَسَكَتُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ النَّخْلَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کے سفر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا، اس دوران میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صرف ایک ہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کہیں سے کھجوروں کا ایک گچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جو مسلمان کی طرح ہے (بتاؤ وہ کون سادرخت ہے؟) میں نے کہنا چاہا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں نے دیکھا تو اس مجلس میں شریک تمام لوگوں میں سب سے زیادہ چھوٹا میں ہی تھا، اس لئے خاموش ہو گیا، پھر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہی فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4599]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 72، م: 2811
الحكم: إسناده صحيح، خ: 72، م: 2811
حدیث نمبر: 4600 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: شَهِدَ ابْنُ عُمَرَ الْفَتْحَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً وَمَعَهُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِيلٌ، فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ يَخْتَلِي لِفَرَسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فتح مکہ کے موقع پر موجود تھے اس وقت ان کی عمر بیس سال تھی ان کے پاس ایک ڈٹ جانے والا گھوڑا اور ایک بھاری نیزہ بھی تھا، وہ جا کر اپنے گھوڑے کے لئے گھاس کاٹنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آوازیں دے دے کر انہیں روکا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4600]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، و قول مجاهد: شهد ابن عمر الفتح....محمول على أنه سمع ذلك منه، لطول ملازمته له، وقد سمع منه شيئا كثيرا، و حديثه عنه في «الصحيحين الصحيحين»
الحكم: إسناده صحيح، و قول مجاهد: شهد ابن عمر الفتح....محمول على أنه سمع ذلك منه، لطول ملازمته له، وقد سمع منه شيئا كثيرا، و حديثه عنه في «الصحيحين الصحيحين»
حدیث نمبر: 4601 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، عِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ حُدَيْرٍ ، وَوَكِيعٌ ، عِمْرَانُ ، يَزِيدَ بْنِ عُطَارِدٍ ، وَكِيعٌ السَّدُوسِيِّ أَبِي الْبَزَرِيِّ: ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ حُدَيْرٍ ، وَوَكِيعٌ المعنى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُطَارِدٍ ، قَالَ وَكِيعٌ السَّدُوسِيِّ أَبِي الْبَزَرِيِّ: ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا؟ فَقَالَ: قَدْ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَشْرَبُ قِيَامًا، وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَسْعَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن عطارد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھڑے ہو کر پانی پینے کا حکم پوچھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے اور چلتے چلتے کھانا کھا لیتے تھے۔ (کیونکہ جہاد کی مصروفیت میں کھانے پینے کے لئے وقت کہاں؟)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4601]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو البزري لم يروعنه إلا عمران ابن حدير، قال ابو حاتم في الجرح و التعديل 9 / 282: لا يحتج به، فهو مجهول، لم يوثقه غير ابن حبان
الحكم: إسناده ضعيف، أبو البزري لم يروعنه إلا عمران ابن حدير، قال ابو حاتم في الجرح و التعديل 9 / 282: لا يحتج به، فهو مجهول، لم يوثقه غير ابن حبان
حدیث نمبر: 4602 مسند احمد
عَبْدَةُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا" يَبْدَؤُونَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہ عید کے موقع پر خطبہ سے پہلے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4602]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 963، م: 888
الحكم: إسناده صحيح، خ: 963، م: 888
حدیث نمبر: 4603 مسند احمد
عَبْدَةُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَاعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرد اور عورت کے درمیان لعان کروایا اور ان دونوں کے درمیان تفریق کر ا دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4603]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5311، م: 1493
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5311، م: 1493
حدیث نمبر: 4604 مسند احمد
عَبْدَةُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4604]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5313، م: 1494
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5313، م: 1494
حدیث نمبر: 4605 مسند احمد
عَبْدَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بِأَرْضِ الْفَلَاةِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قَدْرَ الْقُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ الْخَبَثَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر جنگل میں انسان کو ایسا پانی ملے، جہاں جانور اور درندے بھی آتے ہوں تو کیا اس سے وضو کیا جا سکتا ہے؟ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو وہ گندگی کو نہیں اٹھاتا (اس میں گندگی سرایت نہیں کرتی)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4605]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، و هذا أسناد حسن، محمد ابن إسحاق صرح بالتحديث عند دارقطني، فانتفت شبهة تدليسه
الحكم: حديث صحيح، و هذا أسناد حسن، محمد ابن إسحاق صرح بالتحديث عند دارقطني، فانتفت شبهة تدليسه
حدیث نمبر: 4606 مسند احمد
عَبْدةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَمِّهِ وَاسِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَقِيتُ يَوْمًا فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَتِهِ، مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ، مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شام کی طرف رخ کر کے اور قبلہ کی طرف پشت کر کے قضاء حاجت فرما رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4606]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 148، م: 266
الحكم: إسناده صحيح، خ: 148، م: 266
حدیث نمبر: 4607 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ نَقِيلُ فِيهِ، وَنَحْنُ شَبَابٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں مسجد میں قیلولہ کرنے کے لئے لیٹ اور سو جاتے تھے اور اس وقت ہم جوان تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4607]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 440، م: 2479
الحكم: إسناده صحيح، خ: 440، م: 2479