بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 44 از 102
حدیث نمبر: 5308 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ، قَالَ:" لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا مَنْ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ، فَيَقْطَعُهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ مَا مَسَّهُ وَرْسٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ محرم کون سا لباس پہن سکتا ہے؟ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم قمیض، شلوار، ٹوپی، عمامہ اور موزے نہ پہنو الاّ یہ کہ جوتے نہ ملیں، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے، اسی طرح ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو وہ بھی نہ پہنو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5308]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1542، م : 1177 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1542، م : 1177 .
حدیث نمبر: 5309 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص غلہ خریدے، اسے اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5309]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5310 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال جس کی قیمت تین درہم تھی چوری کر نے کی وجہ سے کاٹ دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5310]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6795، م : 1686 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6795، م : 1686 .
حدیث نمبر: 5311 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5311]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 877، م : 644 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 877، م : 644 .
حدیث نمبر: 5312 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ، وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا،" فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کے بچے کی اپنی طرف نسبت کی نفی کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کی درمیان تفریق کرا دی اور بچے کو ماں کے حوالے کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5312]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5315، م : 1494 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5315، م : 1494 .
حدیث نمبر: 5313 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وحَدَّثَنِي حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ برباد ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5313]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 552، م : 626 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 552، م : 626 .
حدیث نمبر: 5314 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ جَنَابَةٌ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ نَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ بعض اوقات رات کو ان پر غسل واجب ہو جاتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وضو کر لیا کرو اور شرمگاہ کو دھو کر سو جایا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5314]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 290، م : 306.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 290، م : 306.
حدیث نمبر: 5315 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حامل قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے، جسے اس کا مالک اگر باندھ کر رکھے تو وہ اس کے قابو میں رہتا ہے اور اگر کھلاچھوڑ دے تو وہ نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5315]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5031، م : 789.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5031، م : 789.
حدیث نمبر: 5316 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلال رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5316]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 617، م : 1092.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 617، م : 1092.
حدیث نمبر: 5317 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، ثُوَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ ثُوَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً الَّذِي يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَنَعِيمِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مِنْ مَسِيرَةِ أَلْفِ سَنَةٍ، وَإِنَّ أَكْرَمَهُمْ عَلَى اللَّهِ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً"، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ سورة القيامة آية 22 - 23.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں سب سے کم درجے کا آدمی ایک ہزار سال کے فاصلے پر پھیلی ہوئی مملکت میں اپنے باغات، نعمتوں، تختوں اور خادموں کو بھی دیکھتا ہو گا جب کہ سب سے افضل درجے کا جنتی روزانہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کا دیدار کر نے والا ہو گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے۔ [القيامة] [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5317]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، ثويربن أبي فاختة ضعفه غير واحد من الأئمة ، وقال الدارقطني وعلي ابن الجنيد : متروك .
الحكم: إسناده ضعيف جدا، ثويربن أبي فاختة ضعفه غير واحد من الأئمة ، وقال الدارقطني وعلي ابن الجنيد : متروك .
حدیث نمبر: 5318 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، رَفَعَ الْحَدِيثَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6، قَالَ:" يَقُومُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الرَّشْحِ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت جب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے کی تفسیر میں فرمایا کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5318]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 4938، م : 2862.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 4938، م : 2862.
حدیث نمبر: 5319 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَبَعْضَ عَمَلِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: وَلَوْ شِئْتُ، قُلْتُ: عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ، بَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ، فَذَهَبَ وَأَنَا مَعَهُ، فَسَأَلَهُ عَنْهُ؟ فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ"، فَتَرَكَ أَنْ يُكْرِيَهَا، فَكَانَ إِذَا سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ، يَقُولُ: زَعَمَ ابْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما خلفاء ثلاثہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلاف میں اپنی زمین کرائے پر دیا کرتے تھے، اگر میں چاہوں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت کا بھی ذکر کر سکتا ہوں، لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے آخری دور میں انہیں پتہ چلا کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کو کرائے پر دینے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ممانعت روایت کرتے ہیں، تو وہ ان کے پاس آئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا انہوں نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کام چھوڑ دیا اور بعد میں جب کوئی ان سے پوچھتا تو وہ فرما دیتے کہ رافع بن خدیج کا یہ خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5319]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2343، م : 1547.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2343، م : 1547.
حدیث نمبر: 5320 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ"، قَالَ: فَكَانَ نَافِعٌ يُفَسِّرُهَا: الثَّمَرَةُ تُشْتَرَى بِخَرْصِهَا تَمْرًا بِكَيْلٍ مُسَمًّى، إِنْ زَادَتْ فَلِي، وَإِنْ نَقَصَتْ فَعَلَيَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع مزابنہ کی ممانعت فرمائی ہے، بیع مزابنہ کی تشریح نافع یوں کرتے ہیں کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجور کو ایک معین اندازے سے بیچنا اور یہ کہنا کہ اگر اس سے زیادہ نکلیں تو میری اور اگر کم ہو گئیں تب بھی میری۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5320]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5321 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ"، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، يَقُولُ: إِمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا وَاحِدَةً أَوْ اثْنَتَيْنِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا إِنْ لَمْ يُرِدْ إِمْسَاكَهَا، وَإِمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا، فَقَدْ عَصَيْتَ اللَّهَ تَعَالَى فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ، وَبَانَتْ مِنْكَ، وَبِنْتَ مِنْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں ایک طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ رجوع کر لیں اور دوبارہ ایام آنے تک انتظار کریں اور ان سے پاکیزگی حاصل ہونے تک رکے رہیں، پھر اپنی بیوی کے قریبجانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق اللہ نے مردوں کو اپنی بیویوں کو طلاق دینے کی رخصت دی ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ معمول تھا کہ جب ان سے اس شخص کے متعلق پوچھا جاتا جو ایام کی حالت میں بیوی کو طلاق دے دے تو وہ فرماتے کہ تم نے تو اسے ایک یا دو طلاقیں کیوں نہیں دیں، کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں اور دوسرے ایام اور ان کے بعد طہر ہونے تک انتظار کریں، پھر اس کے قریب جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں، جب کہ تم تو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے آئے ہو، تم نے اللہ کے اس حکم کی نافرمانی کی جو اس نے تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے سے متعلق بتایا ہے اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہو چکی اور تم اس سے جدا ہو چکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5321]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1471.
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1471.
حدیث نمبر: 5322 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَدَعُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَكُونَ الْعَامَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ، فَلَوْ أَقَمْتَ، فَقَالَ: قَدْ" حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَإِنْ يُحَلْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، أَفْعَلْ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21، ثُمَّ قَالَ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً، ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَيْدَاءِ، قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَرَى سَبِيلَهُمَا إِلَّا وَاحِدًا، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجًّا، ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حج اور عمرہ کبھی ترک نہیں فرماتے تھے ایک مرتبہ ان کے پاس ان کے صاحبزداے عبداللہ آئے اور کہنے لگے کہ مجھے اندیشہ ہے اس سال لوگوں کے درمیان قتل و قتال ہو گا، اگر آپ اس سال ٹھہر جاتے اور حج کے لئے نہ جاتے تو بہتر ہوتا؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایاکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی حج کے لئے روانہ ہوئے تھے اور کفار قریش ان کے اور حرم شریف کے درمیان حائل ہو گئے تھے، اس لئے اگر میرے سامنے بھی کوئی رکاوٹ پیش آ گئی تو میں وہی کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے اور فرمایا: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کی نیت کر چکا ہوں۔ اس کے بعد وہ روانہ ہو گئے چلتے چلتے جب مقام بیداء پر پہنچے تو فرمانے لگے کہ حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک ہی جیسا تو ہے میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کی بھی نیت کر لی ہے، چنانچہ وہ مکہ مکرمہ پہنچے اور دونوں کی طرف سے ایک ہی طواف کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5322]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1639، م : 1230.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1639، م : 1230.
حدیث نمبر: 5323 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ أَيْنَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُهِلَّ؟ قَالَ:" يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشاَمِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ"، قَالَ: وَيَقُولُونَ: وَأَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ ہمیں کہاں سے احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اور اہل نجد کے لئے قرن میقات ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعد میں لوگوں نے یہ نے یہ بھی کہا کہ اہل یمن کی میقات یلملم ہے لیکن مجھے یہ یاد نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5323]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1525، م : 1182.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1525، م : 1182.
حدیث نمبر: 5324 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا نَقْتُلُ مِنَ الدَّوَابِّ إِذَا أَحْرَمْنَا؟ قَالَ:" خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ: الحُدَيَّة، وَالْغُرَابُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْعَقْرَبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے سوال پوچھا: یا رسول اللہ! احرام باندھنے کے بعد ہم کون سے جانور قتل کر سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5324]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1199.
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1199.
حدیث نمبر: 5325 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا؟ قَالَ:" لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا الْعِمَامَةَ، وَلَا الْخُفَّيْنِ، إِلَّا أَحَدٌ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ وَرْسٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم احرام باندھنے کے بعد کون سے کپڑے پہن سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قمیض، شلوار، عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے اسی طرح ٹوپی یا ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو،بھی محرم نہیں پہن سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5325]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5794.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5794.
حدیث نمبر: 5326 مسند احمد
عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ثُوَيْرٌ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي ثُوَيْرٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا مِنْ هَذَا، وَدَعُوا هَذَا"، يَعْنِي: شَارِبَهُ الْأَعْلَى يَأْخُذُ مِنْهُ، يَعْنِي: الْعَنْفَقَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اوپر والے ہونٹ کی مونچھوں کو تراش لیا کرو اور نیچے والے ہونٹ کے بالوں کو چھوڑ دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5326]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، لضعف ثوير بن أبي فاختة ، وقال الدارقطني وعلي ابن الجنيد : متروك .
الحكم: إسناده ضعيف جدا، لضعف ثوير بن أبي فاختة ، وقال الدارقطني وعلي ابن الجنيد : متروك .
حدیث نمبر: 5327 مسند احمد
أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ ، عبد اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي مَجْلِسِ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ، فَمَرَّ فَتًى مُسْبِلًا إِزَارَهُ مِنْ قُرَيْشٍ، فَدَعَاهُ عبد اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ بَنِي بَكْرٍ، فَقَالَ: تُحِبُّ أَنْ يَنْظُرَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَوْمَأَ بِإِصْبَعِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ، يَقُولُ:" مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ لَا يُرِيدُ إِلَّا الْخُيَلَاءَ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسلم بن یناق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں بنو عبداللہ کی مجلس میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک قریشی نوجوان ٹخنوں سے نیچے شلوار لٹکائے وہاں سے گزرا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے بلایا اور پوچھا: تم کس خاندان سے تعلق رکھتے ہو؟ اس نے کہا بنو بکر سے، فرمایا: کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ قیامت کے دن تم پر نظر رحم فرمائیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، فرمایا: اپنی شلوار اونچی کرو، میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے اپنے ان دو کانوں سے سنا ہے جو شخص صرف تکبر کی وجہ سے اپنی شلوار زمین پر کھینچتا ہے اللہ اس پر قیامت کے دن نظر رحم نہ فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5327]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 2085.
الحكم: إسناده صحيح ، م : 2085.