بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 91 از 102
حدیث نمبر: 6248 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَتُّعِهِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَتَمَتُّعِ النَّاسِ، مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6248]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1692، م: 1227 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1692، م: 1227 .
حدیث نمبر: 6249 مسند احمد
حَجَّاج ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاج ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَخْطُبُ، فَقَالَ:" أَلَا وَإِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ"، يَعْنِي: الْمَشْرِقَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6249]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2905 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2905 .
حدیث نمبر: 6250 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ:" يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً، سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ، وَالْخُمُسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ لِلَّهِ تَعَالَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن دستوں کو لشکر سے الگ کر کے کہیں بھیجتے تھے تو خصوصیت کے ساتھ انہیں انعام بھی عطاء فرماتے تھے جو باقی لشکر کے لئے نہیں ہوتا تھا البتہ اس میں مال غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ کے لئے نکال لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6250]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3135، م: 1750 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3135، م: 1750 .
حدیث نمبر: 6251 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، لَيْثٌ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَّعَ، وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا سورة الحشر آية 5 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو نضیر کے درخت کٹوا کر انہیں آگ لگا دی اور اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تم نے کھجور کا جو درخت بھی کاٹایا اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا تو وہ اللہ کے حکم سے تھا تاکہ اللہ فاسقوں کو رسوا کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6251]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4030، م: 1746 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4030، م: 1746 .
حدیث نمبر: 6252 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" لَا تَمْنَعُوا، يَعْنِي: نِسَاءَكُمْ، الْمَسَاجِدَ إِذَا اسْتَأْذَنَّكُمْ إِلَيْهَا"، قَالَ بِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ , فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ حِينَ قَالَ ذَلِكَ , فَسَبَّهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب عورتیں تم سے مسجد جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں مت روکا کرو اس پر بلال بن عبداللہ نے کہا کہ بخدا ہم تو انہیں روکیں گے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے سخت سست کہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6252]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 873، م: 442 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 873، م: 442 .
حدیث نمبر: 6253 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ : كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ الْجِنَازَةِ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهَا" وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ جنازے کے آگے چلتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرات خلفاء ثلاثہ بھی جنازے کے آگے چلتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6253]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 6254 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنَ شِهَابٍ ، سَالِمٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ الْجِنَازَةِ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ يَمْشُونَ أَمَامَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ جنازے کے آگے چلتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرات خلفاء ثلاثہ بھی جنازے کے آگے چلتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6254]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات ، والصواب أنه مرسل .
الحكم: رجاله ثقات ، والصواب أنه مرسل .
حدیث نمبر: 6255 مسند احمد
مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَاةَ الْعِشَاءِ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ"، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ، صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ، ثُمَّ أَتَمَّهَا بَعْدُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ منٰی میں عشاء کی دو رکعتیں پڑھی ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھیں ہیں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی ایام خلافت میں ان کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں بعد میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے مکمل کر نے لگے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6255]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1082، م: 694 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1082، م: 694 .
حدیث نمبر: 6256 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منٰی میں دو رکعتیں پڑھی ہیں پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6256]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1655 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1655 .
حدیث نمبر: 6257 مسند احمد
جَرِيرٌ ، صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ:" وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ"، قَالَ: وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، قِيلَ لَهُ: فَالْعِرَاقُ قَالَ:" لَا عِرَاقَ يَوْمَئِذٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے اہل شام جحفہ سے اہل یمن یلملم اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں لوگوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اہل عراق کہاں گئے؟ انہوں نے فرمایا: کہ اس وقت اس کی میقات نہیں تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6257]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 6258 مسند احمد
جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، حَبِيبٍ ، طَاوُسٍ ، لِابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَزْعُمُ أَنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ؟ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ وتر ضروری نہیں ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رات کی نماز سے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6258]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 473، م: 749 .
الحكم: حديث صحيح، خ: 473، م: 749 .
حدیث نمبر: 6259 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ مَنْزِلِهِ، فَمَرَرْنَا بِفِتْيَانٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ نَصَبُوا طَيْرًا وَهُمْ يَرْمُونَهُ، وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّيْرِ كُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَنْ فَعَلَ هَذَا؟! لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا؟! , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی راستے پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کے گھر سے نکلا ہمارا گزر قریش کے کچھ نوجوانوں پر ہوا جنہوں نے ایک زندہ پرندہ کو باندھ رکھا ہے اور اس پر نشانہ درست کر رہے تھے اور پرندے کے مالک سے کہہ رکھا تھا جو تیر چوک جائے وہ تمہارا ہو گا اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غصے میں آگئے اور فرمانے لگے یہ کون کر رہا ہے؟ اسی وقت سارے نوجوان دائیں بائیں ہو گئے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندارچیز کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6259]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5515، م: 1958 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5515، م: 1958 .
حدیث نمبر: 6260 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٌ ، وَابْنُ عَوْنٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، وَابْنُ عَوْنٍ , عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ تَطَوُّعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ"، قَالَ: وَأَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ:" أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نوافل کی تفصیل یہ ہے کہ ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی دو رکعتیں اور سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طلوع فجر کے بعد بھی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6260]
حکم دارالسلام
حديث صحيح .
الحكم: حديث صحيح .
حدیث نمبر: 6261 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ، وَيُصَلِّي إِلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری کو سامنے رکھ کر اسے بطور سترہ آگے کر لیتے تھے اور نماز پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6261]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 507، م: 502 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 507، م: 502 .
حدیث نمبر: 6262 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُصَوِّرُونَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مصوروں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا کہ جنہیں تم نے بنایا تھا ان میں روح بھی پھونکو اور انہیں زندگی بھی دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6262]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 6263 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، أَيُّوبُ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ إِزَارٌ يَتَقَعْقَعُ، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" قُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , قَالَ:" إِنْ كُنْتَ عَبْدَ اللَّهِ فَارْفَعْ إِزَارَكَ" , فَرَفَعْتُ إِزَارِي إِلَى نِصْفِ السَّاقَيْنِ، فَلَمْ تَزَلْ إِزْرَتَهُ حَتَّى مَاتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اس وقت میری تہبند نیچے لٹک رہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا عبداللہ بن عمر ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم عبداللہ ہو تو اپنی تہبند اونچی کرو چنانچہ میں نے اسے نصف پنڈلی تک چڑھا لیاراوی کہتے ہیں کہ وفات تک پھر ان کا یہی معمول رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6263]
حکم دارالسلام
إسناده حسن .
الحكم: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 6264 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَيَنَّ اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر نے لگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6264]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183 .
حدیث نمبر: 6265 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَتَّهَا بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تِلْقَاءَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي صَلَاتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے ناراض ہو کر فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6265]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1213، م: 547، وهذا إسناد حسن .
الحكم: حديث صحيح، خ: 1213، م: 547، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 6266 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ : خَرَجَ حَاجًّا، فَأَحْرَمَ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ فِي بَرْدٍ شَدِيدٍ، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا، فَانْتَبَهَ، فَقَالَ: مَا أَلْقَيْتَ عَلَيَّ؟ قُلْتُ: بُرْنُسًا , قَالَ: تُلْقِيهِ عَلَيَّ وَقَدْ حَدَّثْتُكَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ لُبْسِهِ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حج کے ارادے سے روانہ ہوئے انہوں نے احرام باندھا تو انہیں سر کے حصے میں شدید سردی لگنے لگی میں نے انہیں ٹوپی اوڑھا دی جب وہ ہوشیار ہوئے تو فرمایا: کہ یہ تم نے مجھ پر کیا ڈال دیا ہے؟ میں نے کہا ٹوپی ہے انہوں نے فرمایا: میں تمہیں بتا بھی چکا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احرام کی حالت میں ہمیں اس کے پہننے سے منع فرمایا: ہے لیکن تم نے پھر بھی یہ میرے او پر ڈال دی؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6266]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5794، وهذا إسناد حسن .
الحكم: حديث صحيح، خ: 5794، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 6267 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6267]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 844 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 844 .